ٹی20 ورلڈکپ: بھارت نے پاکستان کو شکست دے دی

ٹی20 ورلڈکپ کے سپر 12 مرحلے کے چوتھے میچ میں بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو شکست دیدی، بھارت نے اخری گیند پر پاکستان کا 160 رنز کا ہدف حاصل کر لیا۔
آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 159 رنز بنائے تھے اور بھارت کو جیت کے لیے 160 رنز کا ہدف دیا تھا۔
روایتی بھارتی ٹیم ہدف کے تعاقب میں ابتدا میں مشکلات کا شکار نظر آئے جب کہ بھارتی اوپنر کے ایل راہول کو فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے کلین بولڈ کیا، وہ صرف 4 رنز بنا سکے،نسیم شاہ کے بعد اگلے ہی اوور میں حارث رؤف کی گیند پر بھارتی کپتان روپت شرما بھی آؤٹ ہوگئے، وہ بھی 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، افتخار احمد نے ان کا شاندار کیچ پکڑا،بھارت کے تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی سوریا کمار یاویو تھے جنہیں حارث رؤف نے پویلین کی راہ دکھائی، وہ 10 گیندوں پر 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
حریف ٹیم کےچوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی اکسر پٹیل تھے جو کپتان بابر اعظم کی شاندار تھرو پر رن آؤٹ ہوئے، وہ صرف 2 رنز بنا پائے،بھارتی ٹیم نے 10 اوورز کے اختتام پر 4 وکٹوں کے نقصان پر 45 رنز بنائے تھے جب کہ مایہ ناز بلے باز ویرات کوہلی اور میچ میں زبردست باؤلنگ کا مظاہرہ کرنے والے راؤنڈر ہارڈ پانڈیا کریز پر موجود ہیں،13 اوورز کے اختتام پر بھارت نے 4 کٹوں کے نقصان پر 90 رنز بنا لیے تھے جب کہ ویرات کوہلی 34 اور ہارڈک پانڈیا 30 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔
پہلے کھیلتے ہوئےقومی ٹیم کو اننگز کے آغاز پر ہی بڑا دھچکا لگا جب کپتان بابراعظم بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، کپتان بابر اعظم دوسرے اوور میں ارشدیپ سنگھ کی پہلی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے اور گولڈن ڈک پر پویلین لوٹ گئے،پاکستان کو دوسرا نقصان وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کی صورت میں اٹھانا پڑا جنہیں بھی ارشدیپ سنگھ نے آؤٹ کیا، وہ اننگز کے چوتھے اوور میں 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے،پاکستان نے پاور پلے کے اختتام پر 6 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 32 رنز بنائے.
پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے 8 اوورز کے اختتام پر 2 وکٹوں کے نقصان پر 44 رنز بنالیے ہیں، شان مسعود 25 اور افتخار احمد 12 رنز کے ساتھ بیٹنگ کر رہے ہیں،محتاط بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پاکستان نے 10 اوورز کے اختتام پر 62 رنز بنالیے جب کہ گیاروہ اوور پاکستان کے لیے کچھ بہتر ثابت ہوا جہاں افتخار احمد نے 6 رنز کے لیے گیند کو باؤنڈری کے باہر پھینک دیا،12 ویں اوور میں افتخار احمد نے جارحانہ بلے بازی کا سلسہ جاری رکھا اور 3 فلک شگاف چھکے لگائے، بعد ازاں وہ 34 گیندوں پر 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے.
قومی ٹیم کے کھلاڑی افتخار احمد کے آؤٹ ہونے کے بعد نائب کپتان شاداب خان بیٹنگ کرنے آئے اور 6 گیندوں کا سامنا کے بعد صرف 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جب کہ ان کے بعد حیدر علی آئے جو 4 گیندوں پر صرف 2 رنز ہی بناسکے، دونوں بلے بازوں کو ہارڈک پانڈیا نے آؤٹ کیا،پاکستان کی جانب سے شان مسعود 37 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے جب کہ ان کا ساتھ دینے کے لیے محمد نواز کریز پر آئے۔
جس کے بعد محمد نواز بھی ہارڈ پانڈیا کا نشانہ بنے، انہوں نے 6 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 9 رنز بنائے،محمد نواز کے آؤٹ ہونے کے بعد آصف علی بیٹنگ کرنے آئے اور صرف 3 رنز بناکر واپس لوٹ گئے، ان کو ارشدیپ سنگھ نے آؤٹ کیا.ایک اینڈ سے شان مسعود نے محتاط بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور 40 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی جب کہ اس دوران ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی نے ارشدیپ سنگھ کو 2 زور دار چھکے رسید کیے، وہ 8 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شاہین شاہ آفریدی کے آؤٹ ہونے حارث رؤف آئے اور پہلی بال پر ہی بھویشنو کمار کو زور دار کا چھکا رسید کیا.
قبل ازیں کپتان بابراعظم کا کہنا تھا کہ ٹاس جیتتے تو پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرتے تاہم کوشش ہوگی 170 سے زائد کا ٹارگٹ دیں۔
بھارت نے میلبرن کے تاریخی گراؤنڈ میں میزبان آسٹریلیا کے خلاف 4 ٹی20 میچز کھیل رکھے ہیں جس میں 2 جیتے ہیں جبکہ ایک میں شکست اور ایک بارش کے باعث بےنتیجہ رہا تھا۔
پاکستان نے میلبرن میں واحد ٹی20 میچ میں 2 رنز سے شکست کھائی تھی جبکہ 1992 کے ورلڈکپ میں قومی ٹیم نے انگلینڈ کو عمران خان کی قیادت میں شکست دی تھی۔
پاکستان کے سکواڈ میں کپتان بابراعظم، محمد رضوان، شان مسعود، افتخار احمد، حیدر علی، محمد نواز، آصف علی، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، شاداب خان اور حارث رؤف شامل ہیں۔
بھارتی سکواڈ میں کپتان روہت شرما، کے ایل راہول، ویرات کوہلی، سوریہ کمار یادیو، ہاردک پانڈیا، دنیش کارتک، اکشر پٹیل، آر اشون، محمد شامی، بھونیشور کمار اور ارشدیپ سنگھ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ دونوں ٹیمیں میگا ایونٹ میں 6 مرتبہ آمنے سامنے آئیں، 4 میچز بھارت نے جیتے جبکہ 1 میچ میں قومی ٹیم فاتح ٹھہری اور ایک میچ بے نتیجہ ختم ہوا۔
