عمران کا غیر متنازعہ آرمی چیف لگانے کا مطالبہ فضول کیوں ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے ایک غیر متنازعہ آرمی چیف تعینات کرنے کا مطالبہ بالکل فضول ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بھلا دنیا میں کوئی کام کرنے والا بندہ غیرمتنازعہ ہو سکتا ہے؟۔

صافی کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیا الحق کی تقرری میں سنیارٹی کے اصول کو پامال کیا گیا تھا اور یوں وہ پہلے دن سے ہی متنازعہ تھے لیکن برس ہا برس پاکستان کے حکمران بنے رہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا جنرل راحیل شریف پہلے دن سے متنازعہ نہیں تھے کیونکہ جنرل اشفاق کیانی نے نواز شریف کو آرمی چیف کے لیے جو نام تجویز کئے تھے، ان میں سرے سے ان کا نام ہی شامل نہیں تھا؟ کیا جنرل قمر باجوہ کو تقرری کے وقت خود آرمی کے اندر سے طاقت ور لوگوں نے متنازعہ نہیں بنا دیا تھا؟ کیا خود عمران خان ایک دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں وزیراعظم بننے کے بعد متنازعہ نہیں تھے؟

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی سیاست دان، کوئی جج، کوئی جرنیل، کوئی جرنلسٹ ایسا نہیں جو متنازعہ نہ ہو اور پوری قوم کیلئے یکساں قابل قبول ہو۔ غیر متنازعہ صرف وہی ہو سکتا ہے جسکی نہ اپنی کوئی سوچ ہو اور نہ ہی نظریہ اور کمٹمنٹ ہو۔ اسلئے میاں شہباز شریف ہمت کریں، جنرل قمر جاوید باجوہ سے مشاورت کریں اور میرٹ اور سنیارٹی کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر نئے آرمی چیف کا فیصلہ کر دیں۔

سلیم صافی کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک نیشنل سکیورٹی سٹیٹ بن چکا ہے۔ دیگر اداروں کی نسبت ہماری فوج نے خود کو ایک ڈسپلنڈ اور مضبوط فوج بنایا ہے۔ بار بار کے مارشل لائوں کی وجہ سے بھی فوج کا سیاست میں کردار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، لیکن ہم نے کسی جمہوری دور میں آرمی چیف کی شخصیت اور تقرری پر ایسی خوفناک بحث پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی جو اب ہو رہی ہے۔ بظاہر اس غیر ضروری بحث کا کریڈٹ سب سیاستدانوں کو جاتا ہے لیکن اسکا تاج بہر حال عمران خان کے سر ہے۔ ویسے تو ہمارے بیشتر سیاستدان فوجی نرسریوں میں پلے ہیں لیکن عمران کی تو جماعت بھی فوج نے ہی بنائی تھی، پھر اس میں لوگ شامل کروائے اور پھر انہیں اقتدار دلوایا۔بعد ازاں جب عمران خان کی گستاخیوں سے تنگ آکر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی غیرقانونی اور غیر آئینی سپورٹ ختم کی تو موصوف کی حکومت دھڑام سے گر گئی۔ صوبوں میں اب بھی ان کی جو حکومتیں قائم ہیں، وہ عوام کی منتخب کردہ نہیں بلکہ فوج کی عطا کردہ ہیں، اس لئے عمران کیلئے سارا جہاں ایک طرف اور نیا آرمی چیف دوسری طرف، والا معاملہ ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ خان صاحب کے انٹرویوز، عدالتی چارہ جوئیوں، سوشل میڈیا مہمات اور لانگ مارچ جیسی تمام تر سرگرمیوں کا محور و مرکز آرمی چیف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسوقت آرمی چیف کی معمول کی تقرری نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی نمبر ون ایشو بن چکا ہے۔ جہاں تک عمران کی اس بات کا تعلق ہے کہ شہباز شریف کو نئے آرمی چیف کا اختیار نہیں ہونا چاہئے تو یہ مطالبہ آئین کے منافی ہے کیونکہ آئین پاکستان کی رو سے آرمی چیف کی تقرری وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اگر شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ، عمران خان کی نظروں میں متنازعہ ہے تو عمران خان کی وزارت عظمیٰ بھی شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، اسفند یار ولی خان، اخترمینگل، محمود اچکزئی، اور ایم کیو ایم کی نظروں میں متنازعہ تھی۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگر بطور وزیر اعظم عمران خان کو آرمی چیف کی تقرری یا انہیں توسیع دینے کا اختیار حاصل تھا تو شہباز شریف سے بھی یہ اختیار کوئی نہیں چھین سکتا۔ جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ شہباز شریف یہ کام سزا یافتہ نواز شریف کے مشورے سے کررہے ہیں تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ یہ ثابت کرنا ممنوع نہیں کہ انہوں نے فیصلہ نواز کے مشورے سے کیا ہے۔ صافی کے بقول، عملاً دنیا کا ہر سربراہِ حکومت کسی نہ کسی کے زیراثر ہوتا ہے اور کسی نہ کسی سے مشورہ کرتا ہے لیکن قانون صرف ان کے فیصلے اور اختیار کو دیکھتا ہے۔ عمران خان خود کہا کرتے تھے کہ وہ ہر بات میں بشریٰ بی بی سے مشورہ کرتے ہیں اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ آرمی چیف تو کیا ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری میں بھی انہوں نے بشریٰ بی بی کی رائے کو مقدم رکھا لیکن قانون ذمہ دار ان کو ٹھہرائے گا۔ اس لئے آئین کی رو سے آرمی چیف کی تقرری وزیر اعظم کا اختیار ہے۔ عمران ہوں یا شہباز شریف عملا ًوہ کئی لوگوں سے مشورہ کرتا ہے لیکن آئینی طورپر وزیر اعظم کسی سے مشورہ کرنے کا پابند نہیں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ ہم نے سیاست دانوں کیلئے نہیں بلکہ فوج کیلئے آرمی چیف سلیکٹ کرنا ہے۔ اس لئے سیاستدانوں کے اتفاق رائے کی لاجک بظاہر جتنی پرکشش ہے اتنی ہی غیرآئینی اور بے تکی بھی ہے۔ ویسے بھی آرمی چیف بننے کے بعد کوئی بھی جرنیل ہو، وہ فوج کا سربراہ ہوتا ہے اور اسے اپنے ادارے کا مفاد مقدم ہوتا ہے۔ جنرل مشرف کو نواز شریف نے آرمی چیف بنایا تھا لیکن اسی مشرف نے نواز شریف کو رخصت کیا۔ جنرل قمر باجوہ کو بھی نواز شریف نے آرمی چیف بنایا تھا لیکن انکے دور میں ان کو اقتدار سے نکالا گیا اور عمران خان کو وزارت عظمیٰ دلوائی گئی۔ یوں سیاستدان جس بھی جرنیل کو آرمی چیف بنائیں، وہ کمانڈ سنبھال کر فوج ہی کا سربراہ رہے گا اور وہی کچھ کرے گا جو کہ فوج کا ادارہ چاہے گا۔

Back to top button