عمران حملہ کیس:ملزم نوید کا12روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان پرقاتلانہ حملے کے کیس میں ملزم نوید کا 11 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
گوجرانوالہ کی خصوصی عدالت میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران وزیر آباد کے اللہ والا چوک میں عمران خان پر ہونے والی فائرنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی، ملزم نوید مہر کو انسدادِ دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں 14 روز بعد پیش کر دیا گیا، ملزم کا چہرہ ڈھانپ کر عدالت لایا گیا۔
پولیس نے ملزم نوید سے تفتیش کے لئے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی، خصوصی عدالت نے عمران خان قاتلانہ حملہ کیس میں ملزم نوید کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ دیدیا۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سلطان صلاح الدین ریاست کی جانب سے پیش ہوئے، خصوصی عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔
واضح رہے کہ ملزم نوید کو فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ سے پکڑا گیا تھا۔
دوسری جانب سماٹی وی نے سی ٹی ڈی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملزم نویدسیالکوٹ اور مظفرگڑھ میں 3 لوگوں سے رابطے میں تھا، ملزم نوید کے 2 رشتہ داروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے،ملزم نوید 6 سال سعودی عرب میں مقیم رہا، اور گزشتہ 3 ماہ سے ایک ہی علاقے میں رہ رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم نوید کے نام پر 4 موبائل سمز رجسٹرڈ ہیں، 3 غیرفعال نکلیں، ملزم 8 سال پہلے چوری کے الزام میں جیل کاٹ چکا ہے۔
ادھر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر فائرنگ کی تحقیقات کے لیے بننے والی جے آئی ٹی نے باضابطہ کام شروع کردیا،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دو اراکین سید خرم علی اور نصیب اللہ نے وزیر آباد میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اور مزید ڈیجیٹل شواہد کے حصول کے لیے پوائنٹس کی نشاندہی کی،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر بحیثیت کنوینئر جے آئی ٹی دو روز میں وزیر آباد جائیں گے، جب کہ جے آئی ٹی عدالت سے ملزم نوید کا ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد پوچھ گچھ کرے گی۔
