خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے۔

عدالت عظمیٰ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نیب ترامیم کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعتعمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب ترامیم عوام اور منتخب نمائندوں کے مابین سماجی معاہدہ اور آئین کے خلاف ہیں، موجودہ قانون کے تحت عوامی عہدیدار بطور ٹرسٹی احتساب سے نکل جائیں گے، درخواست میں اٹھائے گئے چار سوالات کو سامنے رکھ کر جواب تلاش کریں تو یہ عوام کا زندگی، جائیداد، انسانی وقار کے خلاف ہے، کرپشن کے نا قابل احتساب ہونے سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کا کہنا درست ہے کرپشن ایک بیماری ہے، کرپشن کا احتساب آئینی حکمرانی کے لیے لازم ہے، معیشت بھی متاثر ہوتی ہے، عدالت کے سامنے سوال ہے کہ ہم کہاں لائن کھینچیں کہ بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں، خرابی نیب قانون میں نہیں اس کے غلط استعمال میں ہے، کرپشن سے سختی سے نمٹنا چاہیے اس نتیجے پرعدالت پہنچتی ہے تو ہمارے پاس اس کا بینچ مارک کیا ہو گا؟، خواجہ حارث آپ نے بتایا کہ کرپشن سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں، طے یہ کرنا ہے کہ عدالت کے ایکشن کی کیا شدت ہونا چاہیے۔

بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کل کو ہمارے پاس ایک شہری کہے پاکستان میں کرپشن کا قانون نہیں، ہم پارلیمنٹ کو کہہ دیں کہ ایک قانون بنا دیں، پارلیمنٹ کو یہ کہنا کہ قانون کو مزید سخت بنائیں کیا یہ ہمارا کام ہے؟ موسمیاتی تبدیلی سے بڑا خطرہ پاکستان کے لیے اور کوئی نہیں،نیب قوانین سے زیادہ اہم بات موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے قانون سازی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل نے کہا کہ اس سوال کے جواب میں عدالتی نظائر موجود ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ان سے کہا کہ مجھے بھی اس دن کا انتظار ہے، آپ کے دلائل کے آخری دن کے لیے بھی میرے پاس سوال ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت 29 نومبر تک ملتوی کردی۔

Back to top button