عمران کا فوری انتخابات کا مطالبہ اپنی موت آپ کیسے مر گیا؟

23 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل نہ ہونے سے عمران خان کا فوری انتخابات کا مطالبہ اپنی موت آپ مر گیا ہے اور اب اب نئے انتخابات اگلے برس اکتوبر سے پہلے ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار امتیاز عالم کہتے ہیں کہ عمران کی جانب سے صوبائی اسمبلیاں توڑنے میں ناکامی کے بعد چاروں اسمبلیوں کا اپنی آئینی معیاد پوری کرنے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے جس سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا۔ ان کا کہنا یے کہ اس وقت ملک میں جاری خوفناک سیاسی کشمکش میں چوہدری پرویز الٰہی مرکزی کردار ہیں جن کے ہاتھوں عمران خان اور ان کی تحریک انصاف بھی یرغمالی بنی دکھائی دیتی ہے۔ دوبڑے فریقین، تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کو گجرات کے سیانے سیاسی ماہر نے تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔ بیچارے خان صاحب 24 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے خواب کے چکنا چور ہونے پر ہاتھ ملتے رہ گئے۔

دوسری جانب آصف علی زرداری کی پنجاب اسمبلی میں تبدیلی لانے کی چالیں بھی اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں۔ پنجاب کے گورنر کے آئینی شب خون کو سپیکر صوبائی اسمبلی نے غیر آئینی طو رپر غیر مؤثر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو ایک مسکین درخواست گزار کے طور پر لاہور ہائیکورٹ کا دروازہ دکھا دیا۔ عدالت نے بھی بظاہر یہ موقف تسلیم کر لیا کہ گورنر اور سپیکر کی لڑائی میں ایک منتخب وزیر اعلیٰ کا کوئی قصور نہیں تھا جنہیں ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا۔ پرویز الہی نے یہ چورن پیش کیا تھا کہ جب سپیکر بے اسمبلی کا اجلاس ہی نہیں بلایا تو وہ اعتماد کا ووٹ کیسے لیتے؟ چنانچہ فرینڈلی لاہور ہائی کورٹ نے انہیں وقتی طور پر ریلیف دیتے ہوئے ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

تاہم امتیاز عالم کے مطابق یہ علیحدہ بات ہے کہ پرویز الٰہی کی جیب میں وزارت اعلی پر برقرار رہنے کے لئے 186 سکے موجود ہی نہیں تھے اور اسی لیے وہ اعتماد کا ووٹ لینے کو راضی نہیں تھے۔ اسی طرح ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے پاس بھی تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اراکین اسمبلی کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں تھی اس لیے یہ تحریک واپس لے لی گئی۔لاہور ہائیکورٹ نے بھی اپنی منصفانہ آبرو بچانے کیلئے پنچایتی فیصلہ دینے میں ہی عافیت جانی۔ ہائی کورٹ نے گورنر کے آئینی استحقاق کو تو تسلیم کیا ہے لیکن بنیادی اعتراض یہ ہے کہ جب سپیکر نے اجلاس ہی نہیں بلایا تو پرویز الہی اعتماد کا ووٹ کیسے لیتے؟ چنانچہ وزیر اعلی کی عہدے سے برطرفی پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے عدالت نے انکا اسمبلی توڑنے کا اختیار معطل کرتے ہوئے سیاسی بحران کو 11جنوری تک ٹال دیا ہے۔ وزیر اعلی نے عدالت کو اسمبلی نہ توڑنے کی یقین دہانی بھی فراہم کر دی۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ ذرا غور کیجئے کہ جب عمران کے سامنے پرویز الہی کا اسمبلی نہ توڑنے کا بیان حلفی پیش کیا گیا ہوگا تو ان پر کیسی بجلی گری ہوگی۔ یقینا ًن لیگ نے بھی سکھ کا سانس لیا ہو گا کہ چلئے اسمبلی ٹوٹنے کی بلا تو ٹلی اور عمران خان کو ایک اور ہزیمت اُٹھانا پڑ گئی۔ ایسے میں چوہدری پرویز الٰہی ہر لحاظ سے کامران و شادمان ہوئے اور دونوں بڑے فریق ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ سبھی جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کے اکثریتی اراکین اور قاف یگ اسمبلیوں کی باقی مدت کے فیضان سے محروم ہونے کے لیے تیار نہ تھے۔

امتیاز عالم کے بقول موجودہ سیاسی تماشے سے جو مثبت بات برآمد ہوئی ہے وہ یہ کہ پنجاب اسمبلی عمران خان کے ویٹو کے باوجود تب تک برقرار رہے گی جب تک عدالت  اس گنجلک آئینی مسئلے کو سلجھانے کیلئے فریقین کے آئینی ماہرین کے شیطان کی آنت جتنے طویل دلائل سن کر چند مہینے غور و خوض کے بعد اپنا فیصلہ سنا نہیں دیتی، تب تک وزیراعلیٰ اپنے اسمبلی کو توڑنے کے آئینی حق کے مسلوب ہونے پہ کھل کر کھیلیں گے اور جو احساس محرومی سنٹرل پنجاب میں سرائیکی وسیب کے ڈمی وزیراعلیٰ بزدار کے ہاتھوں پیدا ہوا، اس کی تلافی میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھیں گے۔

پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے غیر معینہ التوا کے ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی بھی بچ گئی اور یوں عمران خان کا فعری انتخابات کا مطالبہ اپنی موت آپ مر گیا۔ اب جنرل الیکشن اپنے آیینی وقت سے پہلے ہوتے نظر نہیں آتے۔ امتیاز عالم کے خیال میں غالباً  اسٹیبلشمنٹ کی بھی یہی منشا تھی کہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ نہ ہو اور پنجاب عدم استحکام کا شکار نہ ہو جبکہ ان کا مستقل فرماں بردار تخت لاہور پہ براجمان ہو۔ ماضی میں تو ہمیشہ سے چھوٹے صوبے ہی فوج کا دردِ سر رہے ہیں، دوسری جانب پنجاب پیپلزپارٹی کے ہاتھوں مشکل کا باعث بنا تو جنرل ضیا الحق نے ن لیگ کو پروان چڑھایا۔ یوں پیپلزپارٹی کو پنجاب بدر کر دیا گیا۔ اسکے بعد نون لیگ نے زور پکڑا تو تحریک انصاف کو کندھے پر بٹھا کر پنجاب پر قابض کروا دیا گیا۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کی بدقسمتی کہ اب پی ٹی آئی بھی اس کے گلے پڑ چکی ہے ہے۔ ایسے میں پنجاب دو بڑی متحارب پارٹیوں کے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اسٹیبلشمنٹ کو تنکے کا سہارا ملا بھی تو پرویز الہی کی صورت میں، لیکن درحقیقت وہ بھی چوہدری شجاعت حسین سے علیحدہ ہو کر سیاسی طور پر کافی کمزور ہو چکے ہیں۔

تاہم امتیاز عالم کے خیال میں پنجاب کے گڑھ کا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سے نکل جانا بھی وفاق اور جمہوریت کے۔لئے ایک نیگ شگون ہے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ فوج کا آخری سہارا بھی فقط پرویز الہی جیسا ایک تنکا ہے جسے ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا اڑا لے جائے گا۔ لیکن اس المیے سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ تینوں بڑی جماعتیں باہم دست و گریباں ہوکر جمہوری میدان کو اُکھاڑنے میں لگی ہیں۔ عمران خان کی یہ سیاسی منطق کہ فوری انتخابات ہر مسئلے بشمول معاشی انہدام کا واحد حل ہیں، قطعی طور پر معروضی حالات کے منافی ہے۔ اگر آزادانہ و منصفانہ انتخابات بھی ہوجائیں تو بھی معاشی بحران کئی برس چلے گا۔

یہ جلد حل ہونے والا نہیں اور نہ اس سے پیدا ہونے والا بحران ریاستی استحکام کو پیدا ہونے دے گا۔ ایسی صورت حال میں خاموش طبع اور سیاست سے بیگانہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا یہ کہنا کہ معاشی استحکام و ترقی کیلئے پائیدار امن کو یقینی بنایا جائے گا، یقیناً قابل غور ہے۔ موجودہ سیاسی بحران کے دوران معیشت کا حال بھی اچھا نہیں، ایک طرف آئی ایم ایف اپنی کڑی شرائط پہ بضد ہے اور پاکستان کے پاس صرف چھ ارب ڈالرز کا زرمبادلہ موجود ہے۔ چنانچہ کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے اور فری مارکیٹ کے کالے دھن کے ہاتھوں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرتا چلا جارہا ہے۔ دوسری طرف دہشت گردوں کی بھیانک کارروائیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان فوری انتخابات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

Back to top button