بلوچستان میں تحریک طالبان اور بلوچ عسکریت پسندوں کا اتحاد

شورش زدہ بلوچستان میں اسکام پسند تحریک طالبان پاکستان اور سیکولر بلوچ عسکریت پسندوں کے مابین بڑھتے ہوئے تعاون نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
پاکستان میں دہشتگردی ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگی ہے، بنوں کینٹ واقعہ، اور اسلام آباد میں ہونے والا خودکش دھماکہ اس سلسلے کی تازہ کڑیاں ہیں، یہ تمام واقعات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ دہشت گرد عناصر ایک بار پھر منظم کارروائیوں کے لیے متحرک ہو رہے ہیں۔ ایک جانب اسلام آباد میں ہونے والے خود کش دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی ہے تو دوسری جانب شورش زدہ بلوچستان کے علاقے مکران کے ایک تگڑے عسکریت پسند گروہ نے ٹی ٹی پی کی بیعت کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے فوراً بعد 25 دسمبر کو بلوچستان میں دہشت گردی کے 9 واقعات وقوع پذیر ہوئے۔یاد رہے کہ مکران کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو پہلے ہی سے بلوچ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں سے متاثر ہیں جس کے باعث وہاں نیم فوجی دستوں کے ساتھ فوج کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کے مطابق بلوچستان کے مکران ڈویژن سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے ٹی ٹی پی کے امیر ابو منصور عاصم مفتی نور ولی کے ہاتھ پر ہجرت و جہاد کی بیعت کی ہے، ان بلوچ شدت پسندوں کی قیادت مزار بلوچ کر رہے ہیں۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ مکران میں مذہبی عسکریت پسندی کے حوالے سے کوئی معروف گروہ نہیں رہا تاہم کچھ ایسے لوگ ضرور تھے جو پرائیویٹ سکولوں کے خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا اس علاقے میں ایران میں کارروائی کرنے والی شدت پسند تنظیم جیش العدل کے لوگوں کے بارے میں امکان تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ جا سکتے ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا اور وہ آزادانہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں، بلوچستان میں جتنی بھی کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں ہیں وہ سیکولر پس منظر رکھنے والی تنظیمیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مکران میں عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لیبریشن فورس (بی ایل ایف) اور بلوچستان لیبریشن آرمی (بی ایل اے) بعض مذہبی پس منظر رکھنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہیں لیکن وہ ایسے لوگ تھے جن کو یہ ڈیتھ سکواڈ قرار دیتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیکولر اور مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگوں کا یہ کوئی پہلا اتحاد نہیں ہوگا۔ اس سے قبل ایران میں بھی نظریاتی اختلاف رکھنے والے گروہوں کے درمیان اتحاد ہوا یے۔
شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ اگر تحریک طالبان کی جانب سے بلوچ شدت پسندوں کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ درست ہے تو وہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ قوم پرستوں کے گڑھ مکران میں بھی اس کا اثر و رسوخ قائم ہو گیا ہے اور وہاں سے بھی لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ کتنا مؤثر ہو گا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اگر یہ منظم ہوا اور اس نے کوئی کارروائیاں کیں تو مکران پر اس کا اثر پڑے گا اور اس سے ان کا کام آسان ہو گا جو پہلے سے وہاں اس نوعیت کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر بلوچ عسکریت پسندوں اور طالبان نے ہاتھ ملا لیا تو وہ سیکیورٹی فورسز کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔
