شہباز شریف کو اپنی ٹیم بدلنے کی ضرورت کیوں ہے؟

 

اپریل 2022 میں برسراقتدار آنے والی وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت ابھی تک عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہے اور حکومت کی کارکردگی ویسی نہیں جیسا کہ امید کی جا رہی تھی. شہبازشریف اور ان کے اردگرد موجود سرکاری افسران کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اور اگلے عام انتخابات بھی ذیادہ دور نہیں جنہوں نے اگلے پانچ برس کے لیے مسلم لیگ کی قسمت کا فیصلہ کرنا ہے۔ اگر شہباز حکومت کے موجودہ ماڈل کو اسی سست رفتاری کیساتھ آئندہ چند ماہ مذید چلایا گیا تو مسلم لیگ نواز کے پلے کچھ باقی نہیں بچے گا۔ ایسے میں شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم یہ اولین ذمہ داری ہے کہ اگر ان کی موجودہ سیاسی اور انتظامی ٹیم پرفارم نہیں کر پا رہی تو اسے فوری طور پر تبدیل کر دیا جائے۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف صحافی حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی مرکز میں حکومت کو تقریباً نو ماہ ہونے والے ہیں۔ مرکزی حکومت لینے سے پہلے شہباز شریف پنجاب میں دس سال تک حکمرانی کرنیوالے کامیاب حکمران کے طور پر جانے جاتے تھے۔پاکستان کے دیگر صوبوں میں شہباز گورننس اور شہباز ماڈل کی مثال دی جاتی تھی۔بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے سربراہان پنجاب کے طرز حکمرانی اور شہباز سپیڈ کے معترف تھے۔ پاکستان کا پہلا ماس ٹرانزٹ منصوبہ شہباز شریف نے ہی پنجاب میں شروع کیا تھا۔

حذیفہ رحمن کہتے ہیں کہ آج مرکز میں شہباز شریف کے ساتھ افسران کی جو ٹیم کام کررہی ہے، یہ انہی لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے پنجاب میں شہباز گورننس ماڈل کی بنیاد رکھی تھی۔ لاہور آج جس شکل میں ہمیں نظر آتا ہے، اس میں احد چیمہ کا کلیدی کردار ہے، بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ احد خان چیمہ جدید لاہور کے معمار ہیں۔ چیمہ سول سروس کو خیبر باد کہہ کر سیاست میں آچکے ہیں اور شہبازشریف کابینہ کے اہم ترین وزیر ہیں۔ وزیراعظم تمام اہم سمریاں انہی کی مشاورت سے منظور کرتے ہیں۔ چیمہ صاحب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور سی ڈی اے سمیت تمام بڑے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کررہے ہیں۔ اسی طرح سید ڈاکٹر توقیر شاہ جن کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے ہے، پنجاب میں تقریبا پانچ برس سے زائد شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری رہے۔ وہ آج کل مرکز میں وزیر اعظم پاکستان کے سیکریٹری ہیں۔ انکی شاندار پرفارمنس کی وجہ سے انکی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیراعظم نے انہیں مزید ایک برس کے لیے اسی عہدے پر دوبارہ تعینات کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے بعد حکومت کے تمام نظام و انصرام کی ذمہ داری وزیراعظم کے سیکریٹری کے ذمہ ہوتی ہے۔شہباز شریف اور ڈاکٹر توقیر کا تین دہائیوں کا تعلق ہے۔ ڈاکٹر توقیر شاہ 1997 میں پہلی بار اے سی تاندلیانوالہ سے وزیراعلی کے پی ایس او تعینات ہوئے تھے۔اسی طرح امداد اللہ بوسال، اسد گیلانی اور سمیر سید سمیت انہی افسران کی ٹیم مرکز میں شہباز شریف کے ساتھ کام کر رہی ہے جس نے اپنی شبانہ روز محنت سے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی کارکردگی کا سکہ جمایا تھا۔

لیکن حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ آج ان افسران کی مرکز میں صلاحیتوں کا امتحان ہے۔ جب سے شہباز شریف نے وزیراعظم کا حلف اٹھایا ہے، ہر دن کسی آزمائش سے کم نہیں رہا۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اب تک حکومت کی جانب سے کسی بھی شعبے میں غیر معمولی کارکردگی نہیں دکھائی جاسکی۔ معیشت کے حوالے سے تو عمران خان کا کردار سب کے سامنے ہے مگر جن شعبوں کو بہتر انتظامی فیصلے کرکے درست کیا جا سکتا تھا ،ان میں بھی اب تک کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی جاسکی۔ اتحادی جماعتوں کا دباؤ اپنی جگہ مگر مسلم لیگ ن نے جو وزارتیں اپنے پاس رکھی ہیں ،ان میں تعینات افسران کی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے۔ اب تک مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ شہباز شریف اور ان کے اردگرد افسران کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اگر اسی رفتار اور اسی ماڈل کو آئندہ چند ماہ آگے چلایا تو کچھ بھی ہاتھ میں نہیں آئے گا۔ اگر شہباز شریف کی موجودہ ٹیم کارکردگی نہیں دکھا پا رہی تو اس میں تبدیلی لے آئیں۔شہباز اپنے سیاسی کئیریئر کی آخری دہائی میں ہیں۔ایسے میں نئے تجربات کرنے کی بجائے ماضی کے تجربات سے سیکھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کو چاہئے کہ اپنے مخلص دوستوں کے مشوروں کو اہمیت دیں۔

وزیر اعظم شہباز کو مخاطب کرتے ہوئے سینئر صحافی حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ آپ سے پہلے بھی بہت وزیر اعظم گزرے ہیں۔ بہت سوں کے نام تو آپ کے سامنے بورڈ پر ضرور موجود ہیں مگر شاید آپ کو بھی ان میں سے بیشتر ذاتی طور پر یاد نہ ہو۔آج بھی پاکستانی پارلیمانی تاریخ میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کا نام سب کی زبان پر ہے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ان دونوں وزرائے اعظم نے کبھی اپنے مخلص دوستوں اور ساتھیوں کے مشوروں کو نظر انداز نہیں کیا۔ نوازشریف کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے وفادار ساتھیوں کی قدر کرتے ہیں اور ان کیلئے ہر قربانی دے سکتے ہیں۔ حذیفہ کہتے ہیں جناب وزیر اعظم صاحب!اطلاعات ہیں کہ آپکے اردگرد موجود کچھ لوگ آپ کو آپ کے مخلص ساتھیوں سے دور کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں پر۔خان دھرنے کی بجائے مخلص ساتھیوں کے مشوروں کو ترجیح دیں۔ اگر موجودہ افسران کی ٹیم کیساتھ آپ وفاق میں پرفارم نہیں کر پا رہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دینےکی ضرورت ہے۔وگرنہ وقت کو تو آخر گزر ہی جانا ہے، کیونکہ وقت کبھی رکا نہیں کرتا۔

Back to top button