عمران کو جیل سے بیرون ملک کیوں نہیں بھیجا جاۓ گا؟

سینئر صحافی اور اینکر پرسن سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا جیل سے نکل کر بیروں ملک چلے جانا نا ممکن ہے. سما ٹی وی کے ایک پروگرم میں عمران خان کی جلا وطنی کی خبر پر پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دیگر سیاسی رہنماؤں کی نسبت بیرون ملک عمران خان کا اثر و رسوخ زیادہ موثر ہے وہاں ان کو سپورٹ کرنے والے بہت لوگ ہیں . طلعت حسین نے کہا کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے اس کے علاوہ ان کا گولڈ سمتھ خاندان بھی عمران خان خان کا حمایتی ہے . عمران خان کے امریکہ کے اندر بھی تعلقات ہیں . ان سا رے حقائق کے تناظر میں عمران خان کو باہر بھجوانا تو ممکنات میں سے ایک نظر آتا ہے. ان کا جیل سے نکل باہر چلے جانا بہت مشکل ہے اس کے برعکس جیل میں عمران خان طویل مدت تک قیام کریں گے . سینئر صحافی مزمل سہروردی نے بھی عمران خان کی جلاوطنی کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ اور سابق خاتون اول بشری بی بی کے درمیان کسی ڈیل کی خبروں و غلط قرار دیا ہے اپنی ایک تحریر میں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سعودی ولی عہد اور مغربی ممالک سے منسوب باتیں بھی غلط ہیں پاکستان تحریک انصاف کے یوٹیوبرز پارٹی کارکنوں کی امیدوں کو زندہ رکھنے کے لیے جعلی خبریں پھیلا رہے ہیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی پوسٹس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سینئر صحافی مزمل سہروردی نے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بشریٰ بی بی نے اپنے شوہر اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے عرب ملک کے سفیر سے ملاقات کی۔ سفیروں سے ملاقات کر لینا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد کئی ممالک کے سفیروں سے ملاقاتیں بھی کیں تاہم جلد ہی انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے منسوب کرتے ہوئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سعودی ولی عہد نے کہا ہے کہ میں پاکستان کی سرزمین پر تب تک قدم نہیں رکھوں گا جب تک عمران خان کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ اور عمران خان کو محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان سے قبل رہا کر دیا جائے گا۔ اور وہ عمران خان کو اپنے جہاز میں ساتھ لے جائے گا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ سب من گھڑت باتیں پی ٹی آئی کے حامیوں کی امیدیں زندہ رکھنے کے لیے کی جارہی ہیں۔ مزمل سہروردی نے کہا کہ ملاقاتیں ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اس سلسلے میں مدد کی پیشکش نہیں کرے گا۔موجودہ حالات میں کوئی بھی بیرونی ملک پاکستان سے 9 مئی کے فسادات میں ملوث افراد کو معاف کرنے کی درخواست نہیں کرے گا۔ اس حوالے سے امریکا ، یورپ اور دیگر ممالک کی جانب سے واضح الفاظ میں کہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے سابق وزیراعظم عمران خان کو سائفر کیس میں ضمانت نہیں ملے گی۔ درحقیقت مذکورہ کیس میں ان کا ٹرائل جلدی ہوگا۔ جب تک پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان خلاف متعدد مقدمات درج ہیں، وہ جیل میں ہی رہیں گے۔ دوسری جانب سینئر سیاسی تجزیہ کارحفیظ الله خان نیازی ملک کی ابتر سیاسی اور معاشی صورت حال کا حل عمران خان کی جلاوطنی میں دیکھتے ہیں اپنی ایک تحریر میں حفیظ الله نیازی نے کہا ہے عمران خان کے قریبی ساتھیوں اور گھر میں ایجنسیوں کے کئی موثر اثاثے موجود ہیں ۔ اُن کے ذریعے عمران خان کو راضی جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اور پاکستان کی بھلائی کے لیے نواز شریف کی طرح دس پندرہ سال کیلئے جلا وطن ہو جائیں ۔ یہ کام مشکل ضرورہے مگر ناممکن نہیں ۔ اس سے پہلے نواز شریف کو منا کر جیل سے علاج کیلئے لندن بھیجا گیا تھا ۔ اگرا للہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی حکم آیا تو’’ عمران خان مان بھی جائیگا‘‘۔ سانپ مارنے کے چکر میں لاٹھی ٹوٹی تو ملک کا نقصان ہو گا ۔ عمران خان کیلئے ایسا فارمولا ایک بن مانگی نعمتِ ہے کیوں کہ ’’جان ہے تو جہان ہے‘
