نگرانوں نے عمران کے خلاف شکنجہ مزید سخت کیوں کیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی نے کہا ہے کہ چند ہفتے قبل تک تحریک انصاف کو امید سے تھی کہ نگراں حکومت کے آنے کے بعد تحریک انصاف پر سختیاں کم ہوں گی، ۔ لیکن سب کچھ اُس کے برعکس ہو رہا ہے جو پی ٹی آئی سوچ رہی تھی۔ توشہ خانہ کیس کی سزا تو معطل ہو چکی اس کے باوجود عمران خان جیل میں ہیں اور الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ اٹک جیل سے اُن کا نکلنا ابھی ممکن نظر نہیں آتا۔ عمران خان بہت دیر کرچکے ہیں اب ان کے اور تحریک انصاف کے لیے مذاکرات کے دروازے بند ہو چکے ہیں،. اپنے ایک کالم میں انصار عباسی لکھتے ہیں کہ چیئرمین تحریک انصاف سے اٹک جیل میں ملاقات کرنے والی اُن کی لیگل ٹیم کے ایک اہم رکن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کا یہ پیغام ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ عمران خان نے کسی بھی قسم کی ڈیل کی تردید کی اور یہ بھی کہا کہ وہ اپنے رستے سے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری طرف نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ 9 مئی کو جو ہوا وہ بغاوت تھی اور اس کا ہدف موجودہ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم تھی۔ اُنہوںنے واضح طور مئی 9 کی سازش میں شامل کسی بھی فرد کو کسی بھی قسم کی رعایت دئیے جانے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملکی قوانین کو پامال کرنے اور تشدد کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہوئی تو ہم اس معاملہ میں فریق نظر آئیں گے۔ نگراں وزیراعظم کا یہ بیان عمران خان اور تحریک انصاف کیلئے پیغام ہے کہ نہ حکومت نہ فوج 9 مئی کو بھولے ہیں اور نہ ہی بھولیں گے۔ یعنی عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے مذاکرات کے دروازے بند ہو چکے، 9مئی کو وہ ریڈلائن کراس کی گئی جس کے بعدمذاکرات ہونا ممکن نہیں۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ چند ہفتے قبل تک تحریک انصاف پی ڈی ایم حکومت کے جانے کی دعائیں کرتی تھی اور اس امید سے تھی کہ نگراں حکومت کے آنے کے بعد تحریک انصاف کے لیے حالات بہترہوں گے، سختیاں کم ہوں گی، پکڑ دھکڑ بھی تھم جائیگی اور تحریک انصاف کے لیے الیکشن میں جانے کا ماحول بہتر ہو جائے گا۔ اس وقت بھی تحریک انصاف کی امیدیں پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی تھیں امید تھی کہ سختیاں مزید بڑھ سکتی ہیں کم نہیں ہو سکتیں، بالکل ویسا ہی ہوا۔ تحریک انصاف اور اس کے رہنما 9 مئی کے واقعات کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ چند ہفتوں یا مہینوں میںادارہ اور لوگ اس واقعے کو بھول جائیں گے اوریہ بھی کہ تحریک انصاف کی مقبولیت کے وجہ سے عمران خان کو مائنس کرنا ممکن نہیں ہو گا لیکن سب کچھ اُس کے برعکس ہو رہا ہے جو پی ٹی آئی سوچ رہی تھی۔ عمران خان جیل میں ہیں، توشہ خان کیس کی سزا تو معطل ہو چکی لیکن وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ اس کیس میں ضمانت مل گئی لیکن اٹک جیل سے اُن کا نکلنا ابھی ممکن نظر نہیں آتا۔ سائفر کیس میں بھی اُنہیں چند ماہ میں کوئی بڑی سزا مل سکتی ہے. انصار عباسی کہتے ہیں کہ 9 مئی کے علاوہ کچھ اور مقدمات بھی عمران خان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ایسے میں نہ کوئی سیاسی جماعت عمران خان سے بات چیت کرے گی، نہ ہی حکومت اور ادارے مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے۔ کاش عمران خان نے ماضی میں اپنے سیاسی مخالفین سے بات چیت کی ہوتی، اُن سے ہاتھ ملانے سے انکاری نہ ہوئے ہوتے۔ کاش عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد فوج اور فوجی قیادت کو اپنے نشانہ پر نہ رکھا ہوتا، اُن کو بدنام نہ کیا ہوتا، اُنہیں جانور، میر جعفر اور میر صادق نہ کہا ہوتا،9مئی کا واقعہ نہ ہوا ہوتا۔ اب جو عمران خان مانگ رہے ہیں وہ اُن کے سیاسی مخالف ، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دینے کے لیے تیار نہیں۔ عمران خان نے بہت دیر کر دی۔

Back to top button