عمران کو عالم بالا سے لکھے خط میں کیا مشورہ ملا ہے؟

معروف اینکر اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے عالم بالا سے سابق آئی ائس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنر ل حمید گل کا وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک تصوراتی خط شائع کیا ہے جس میں کپتان حکومت کے خلاف کسی بھی سازش کو اسلام اور جہاد کے خلاف سازش سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اسے کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ خط میں عمران خان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ریاستی اداروں کے ساتھ اختلافات ختم کریں اور ایک صفحے پر ہونے کا تائثر بحال کریں کیونکہ اسی میں حکومت کا فائدہ اور ملک و قوم کی فلاح ہے۔
عالمِ بالا کے جہادی محلے سے بھیجے جانے والے خط میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے سابق سیاسی اتالیق لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے لکھا ہے کہ کافی دنوں سے مجاہدین کہہ رہے تھے کہ میں آپ سے رابطہ کرکے براہ راست عالم بالا میں ہونے والے مشوروں سے آگاہ کروں۔ کل ہی ملا عمر اسامہ بن لادن اور دوسرے اہم رہنما میری قیام گاہ پر اکٹھے ہوئے تھے، عمومی طور پر طالبان کی حکومت آنے اور امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد محلہ افغان میں ایک سرخوشی اور فتح کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے ہم آپ کے اور حکومت پاکستان کے ممنون ہیں کہ آپ مسلسل طالبان حکومت کی مالی اور اخلاقی امداد کے لئے بیانات جاری کر رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ عمران خان کو سیاست میں لانے والے حمید گل کی جانب سے لکھے گے تصوراتی خط میں کہتے ہیں کہ اس حوالے سے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کی خدمات کا ذکر بھی خاص طور پر ضروری ہے جن کے افغانستان کے دو تین دوروں سے افغانستان کے معاملات حل کرنے اور انہیں سمجھنے میں آسانیاں پیدا ہوئیں، مجاہدین کی بھی آپ کی طرح خواہش تھی کہ یہی ایجنسی سربراہ تادیر برقرار رہتے تاکہ افغانستان کو مستحکم بنانے میں انکی ذاتی کاوشیں کامیابی سے ہم کنار ہوتیں۔ حمید گل عمران کو لکھتے ہیں کہ عالم بالا میں آپ اور ریاستی اداروں کے درمیان دراڑ کی خبروں کو بڑی تشویش سے دیکھا جا رہا ہے، خدا خدا کرکے 70سال بعد ایسی حکومت آئی تھی جسمیں ریاست اور حکومت دونوں ایک صفحے پر تھے، اور اسی وجہ سے دفاعی اور خارجہ پالیسی میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ افغانستان ہو یا بھارت یا امریکہ سب کے بارے میں پالیسیوں پر ریاست اور حکومت میں مکمل اتفاق تھا۔ اسی کامل اتفاق کی وجہ سے افغانستان میں کامیابی ملی اور بغیر خون بہائے امریکی افواج کو اپنا سامان اور مال غنیمت چھوڑ کر واپس فرار ہونا پڑا۔ اگر یہی اتحاد برقرار رہتا تو بھارت کو کشمیر میں ناکوں چنے چبوانے کا موقع بھی آ جاتا مگر کسی حاسد کی نظروں نے سارا کام خراب کر دیا ہے۔
حمید گل خط میں مزید لکھتے ہیں، ڈیئر عمران خان صاحب ! عالم بالا میں موجود مجاہدین اور اکابرین کا مشترکہ مشورہ ہے کہ آپ اور ریاستی ادارے میں جو دراڑ آئی ہے اسے فوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اس دراڑ سے دشمن فائدہ اٹھانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ دراڑ ایک گڑھا بن جائے گا اور ریاست اور حکومت ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہونگے۔ افغان پالیسی کے حامی ہم سب لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے استحکام کے لئے ایک ستون کا کام دے رہا ہے اگر پاکستان کے اندر حکومت تبدیل ہو گئی تو افغانستان کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ہمیں علم ہے کہ آپ شروع سے ہی طالبان پر امریکی حملوں کے خلاف رہے ہیں۔ آپ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔ آپ ہی وہ واحد سیاست دان ہیں جو اس حوالے سے ایک متوازن پالیسی کے حامی ہیں ا س لئے جہادیوں کے دلوں میں آپ کے لئے ایک خاص مقام ہے۔
حمید گل مذید کہتے ہیں، ڈیئر پرائم منسٹر صاحب !
عالم بالا میں ہمیں جمہوری حلقوں سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ آپ کے خلاف صف بندی ہو رہی ہے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ لندن میں بیٹھے نواز شریف سے بھی پیغام رسانی کا سلسلہ شروع ہو ہے اور شرائط طے کی جا رہی ہیں کہ اگلے الیکشن اور اس سے پہلے فضا کیسے ہموار کی جائے اور نواز شریف کے خلاف مقدمات کو کیسے ختم کروایا جائے گا۔ یہ خفیہ اطلاع بھی ملی ہے کہ سینیٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے اپوزیشن اپنی سرگرمیاں شروع کرے گی، دوسری طرف ان کی پنجاب پر بھی نظر ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کو جس اشارے کا انتظار ہے وہ اشارہ ابھی مل نہیں سکا، ابھی شاید اس میں دو تین ماہ مزید لگ سکتے ہیں۔
سہیل وڑائچ عمران خان کے نام حمید گل کے خط میں مذید لکھتے ہیں کہ دوسری طرف خارجہ محاذ پر ہمیں کافی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب تب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے جب تک انہیں امریکی کی جانب سے کوئی واضح اشارہ نہیں مل جاتا۔ وہ عمران کو یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبھی آپ اور ہم مل کر مسلم نشاۃ ثانیہ کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ یہ افغانستان میں روسی شکست تھی جس کی وجہ سے دیوار برلن گری۔ اب ایک نئی نشاۃ ثانیہ کا آغاز افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاسے ہوا ہے۔ اگر آپ کی سربراہی میں پاکستان مسلم ممالک کا ایک آزاد بلاک بنا سکے جس میں ترکی اور ملائیشیا شامل ہوں تو ہم پوری دنیا کے لئے ایک اسلامی ماڈل پیش کر سکتے ہیں۔
آپ جب تک وزیر اعظم کے عہدے پر موجود ہیں ہمیں یہ توقع ہے کہ آپ مجاہدین اور طالبان کا خیال رکھیں گے آپ نے، اپوزیشن ہو یا اقتدار، ہمیشہ سے ان کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھا ہے۔
حمید گل اپنے خط لکھتے ہیں کہ دوسری طرف ہمیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کوئی توقع نہیں ہے، دو دن پہلے مولانا سمیع الحق میرے پاس آئے تھے اور کہہ گئے تھے کہ اگر پاکستان میں حکومت تبدیل ہو گئی یا عمران خان کی حکومت کمزور ہو گئی تو نہ صرف طالبان کمزور ہونگے بلکہ سارا جہادی نیٹ ورک کمزور ہو گا۔ مجھے مولانا کی ان باتوں سے مکمل اتفاق ہے اس لئے میرے اس خط کو تار سمجھا جائے اور فوراً طور پر ریاستی اداروں سے اختلافات دور کرکے ہر طرف اتحاد اور یکساں صفحہ پر ہونے کا تاثر دیا جائے۔ اسی میں حکومت کا فائدہ اور ملک و قوم کی فلاح ہے۔ عمران حکومت کے خلاف کوئی سازش عالم اسلام اور جہاد کے خلاف سازش ہے اسے کسی صورت پنپنا نہیں چاہئے۔
