اوورسیز ووٹرز سے PTI کو 30 مزید سیٹیں جیتنے کی امید


بیرون ملک مقیم 90 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو جنرل الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا حق مل جانے کے بعد اب حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے سے تحریک انصاف کو اگلے الیکشن میں قومی اسمبلی کی 30 سیٹوں پر فائدہ ہونے جارہا ہے جہاں کے رہائشی بڑی تعداد میں بیرون ملک مقیم ہیں۔
تاہم ابھی بیرون ملک مقیم ووٹرز کے حق رائے دہی کے طریقہ کار کے حوالے سے فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اسی طرح بیرون ملک مقیم ووٹرز کی اہلیت کے معیار کا تعین ہونا بھی باقی ہے کیونکہ مختلف حلقوں کی جانب سے بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے فیصلے کی حمایت تو کی جا رہی ہے لیکن دوہری شہریت رکھنے والوں کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ووٹر لسٹوں میں ایسے ہزاروں افراد موجود ہیں جو دوہری شہریت بھی رکھتے ہیں اور پاکستان میں ان کے ووٹ درج بھی ہیں اور ان میں سے لوگ ووٹ کاسٹ کرنے پاکستان بھی آتے ہیں۔ اس صورت حال میں جب حالیہ قانون سازی کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق مل چکا ہے تو بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے 2023 کے عام انتخابات کے نتائج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا اس کا فائدہ حکومتی جماعت کو ہو گا اور کیا اسی وجہ سے کپتان حکومت نے اس متنازع قانون کو پاس کروانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی زیادہ تر تعداد تحریک انصاف کی حمایتی ہے اور ووٹ ڈالنے کا حق ملنے کے بعد قومی اسمبلی کے 30 مزید حلقوں میں تحریک انصاف جیتنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد تحریک انصاف کی حمایتی ہے تو بھی اگلے الیکشن میں بیرون ملک موجود پاکستانی ووٹرز کے ٹرن آؤٹ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق ووٹ کا حق سمندر پار پاکستانیوں کا مطالبہ تو رہا ہے لیکن ماضی قریب میں 35 حلقوں کے 6 لاکھ 31 ہزار سے زائد ووٹرز کو جب یہ حق استعمال کرنے کا موقع دیا گیا تو تب صرف 7364 ووٹرز نے خود کو ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹر کیا۔ صرف 6233 ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا جو کہ مجموعی ووٹرز کا ایک فیصد بنتا ہے جبکہ پاکستان میں ٹرن آؤٹ 55 فیصد تھا۔ متحدہ عرب امارات میں 1654، سعودی عرب میں 1451، برطانیہ 752، کینیڈا میں 328 اور امریکہ میں 298 پاکستانیوں نے اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ ڈالا۔
اس معاملے پر سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بتایا کہ ’اگر ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار 2018 کے ضمنی انتخابات جیسا ہی رہا تو سمندر پار پاکستانیوں کی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے گی۔‘ ان کے بقول ’اگر 90 لاکھ میں سے 70 لاکھ افراد کے ووٹ پاکستان میں رجسٹرڈ ہوں تو ان میں سے 40 سے 50 لاکھ تو مشرق وسطیٰ میں بستے ہیں جو بنیادی طور پر مزدور طبقہ ہے اور انٹرنیٹ ووٹنگ کے مشکل طریقہ کار سے ناواقف ہے۔‘ کنور دلشاد نے کہا کہ ’کفالت کے نظام کی وجہ سے ان کے پاس اپنے پاسپورٹ وغیرہ بھی موجود نہیں ہوتے اس لیے ایک بڑی تعداد تو ووٹ کاسٹ کرنے سے محروم رہے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یورپ اور امریکہ اور دیگر ممالک میں مقیم ووٹرز آسانی اور اپنی خوشی سے ووٹ کاسٹ کرسکیں گے اور یہ وو ووٹرز ہیں جس کا فائدہ پاکستان تحریک انصاف کو ہوگا لیکن میرا نہیں خیال کہ انتخابی نتائج پر کوئی بہت بڑا اثر ڈال سکیں گے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان میں ایک ضلع میں قومی اسمبلی کی دو سے چار نشستیں ہوتی ہیں۔ کئی اضلاع ایسے ہیں جن میں بیرون ملک مقیم ووٹرز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے سات لاکھ سے زائد تک ہے۔ اس حساب سے کئی اضلاع میں بیرون ملک مقیم ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بنتی ہے جو ووٹ کاسٹ ہونے کی صورت میں یقیناً نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ نادرا اور الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی کے تین اضلاع میں بیرون ملک مقیم ووٹرز کی تعداد سات لاکھ 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ لاہور کے سات لاکھ 10 ہزار ووٹرز بیرون ملک مقیم ہیں۔ راولپنڈی ساڑھے پانچ لاکھ، گجرات ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد ووٹوں کے ساتھ تیسرے اور چوتھے نمبر پر جبکہ سیالکوٹ چار لاکھ 75 ہزار اور گوجرانوالہ چار لاکھ سے زائد بیرون ملک ووٹوں کے ساتھ پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں۔ فیصل آباد تین لاکھ 45 ہزار، اسلام آباد دو لاکھ 10 ہزار، سوات 2 لاکھ 20 ہزار اور جہلم کے بھی دو لاکھ 40 ہزار ووٹرز بیرون ملک مقیم ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ پاکستان کے انتخابی نتائج پر صرف اس صورت میں اثر انداز ہو سکتے ہیں جب کم و بیش ہر حلقے میں 35 سے 50 فیصد بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹ کاسٹ کریں۔ انکاکہنا یے کہ بیرون ملک مقیم مجموعی نمبرز کو دیکھ کر یہ فرض کر لینا کہ یہ سب کاسٹ ہوں گے ممکن نہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی طرح یہ ووٹرز کسی ایک حلقے میں نہیں بلکہ دنیا کے 200 ممالک میں مقیم ہیں۔

Back to top button