عمران کو لانے والوں کے پاس دیگر آپشنز بھی تیار ہیں

ماضی میں عمران خان کے گن گانے والے یوتھیے کالم نگار ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ کپتان کو اپنی یہ غلط فہمی دور کر لینی چاہیے کہ انہیں اقتدار میں لانے والوں کے پاس کوئی اور آپشن موجود نہیں۔ ان کے پاس ہر وقت ہر کسی کی آپشن موجود ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج وہ نواز شریف کی جگہ مسند اقتدار پر نہ بیٹھے ہوتے۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ عوام نے کہ کپتان کی ایسی نام نہاد ایمان داری کا اچار ڈالنا ہے جسکا فائدہ ان تک نہ ہپہنچ رہا ہو۔ کپتان دن بدن اپنے ان تین مغالطوں، غلط فہمیوں اور خوش فہمیوں کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔ پہلا مغالطہ یہ ہے کہ اس وقت اندرونی اور بیرونی طاقتور قوتوں اور اداروں کے پاس انکے علاوہ کوئی دوسری چوائس یا آپشن موجود نہیں ہے۔ اس غلط فہمی کا وہ کئی بار آف دی ریکارڈ اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ان کے خیال میں بیمار نواز شریف نااہل، سزا یافتہ، مفرور اور اقتدار کی دوڑ سے آؤٹ ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ آصف زرداری پر اتنے کیسز ہیں اور وہ اتنے بیمار ہیں کہ اب ایوانِ اقتدار میں ان کی واپسی ناممکن ہے، عمران کے خیال میں شہباز شریف کی صورت میں انکے لیے خطرہ موجود ہے مگر ایک تو ان پر ٹی ٹی کیس سمیت تین پکے نیب کیسز موجود ہیں، اور دوسرا انکے لیےبسزا سے بچنا ناممکن ہے۔ دوسرا عمران کو یقین ہے کہ مریم نواز اپنے چچا کی ایسے جڑیں کاٹیں گی کہ وہ کبھی ’ہرے بھرے‘ نہیں ہو پائیں گے۔ باقی رہ گئے بلاول بھٹو ، تو ہنوز دلی دور است۔
لہذا ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ کہ کپتان کے خیال میں ان کے مقابلے پر سب کرپٹ، کمپرومائزڈ، ڈیلوں اور ڈھیلوں والے لیڈر عوام میں ایکسپوز ہوچکے ہیں۔ اب کپتان کی سوا تین سالہ بیڈ گورننس، بیڈ پرفارمنس، غلط فیصلوں، غلط پالیسیوں کو ایک طرف رکھیں، سواتین سالہ خون نچوڑ مہنگائی، بے روز گاری ،غربت کو ایک طرف رکھیں، انٹ شنٹ اندرونی وبیرونی فیصلوں کو ایک طرف رکھیں، سوا تین سال میں آچکے کرپشن اسکینڈلز، پارٹی اور کابینہ میں بیٹھے مافیاز کوایک طرف رکھیں، ان کی بیک وقت چومکھی لڑائیوں کو ایک طرف رکھیں، جماعت میں گروہ بندیوں کو بھی ایک طرف رکھیں، چند لمحوں کیلئے یہ سب بھول جائیں تو بھی کپتان کے علم میں شاید یہ نہیں کہ پاکستان کے بدبودار نظام میں ہر وقت کئی آپشن موجود رہتی ہیں۔ جہاں کرپٹ ہونا، کرپشن کرنا کوئی برائی نہ ہو، جہاں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے، جھوٹ بولنے، منافقت کرنیوالے بھی باعزت ہوں، جہاں ووٹرکا ووٹ شعور وآگہی کی بجائے ذات، برادری ،تھانہ کچہری ودیگر مجبوریوں کی صورت میں دیا اور لیا جارہا ہو، جہاں وقت پڑنے پر معین قریشی، شوکت عزیز، رضا باقر جیسے ہر عہدے اور ہر سائزکے لوگ امپورٹ کر لئے جائیں، وہاں نااہل ،مجرم ،بیمار ،تندرست ہر کوئی ہروقت آپشن کی صورت میں موجود ہے۔
ارشاد بھٹی کے مطابق عمران خان کو نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ جو کل مسترد ہو چکے ہوتے ہیں، کل وہی حلف اٹھا رہے ہوتے ہیں، پھر کپتان کو حضرت علی ؓ کا یہ قول یاد رکھنا چاہئے کہ ’’اگر یہ کرسی مستقل ہوتی تو تم تک کیسے پہنچتی‘‘ لہذا انہیں یہ ذہن سے نکال دینا چاہئے کہ صرف وہی آپشن ہیں۔ ایوب سے نواز شریف تک سب یہی سوچتے سوچتے جا چکے، ایسا سوچنے کی بجائے یہ دیکھیں اور سوچیں کہ قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔
ارشاد بھٹی کے مطابق عمران خان کا دوسرامغالطہ یا غلط فہمی یہ ہے کہ مجھے سب پتا ہے، مجھے سب معلوم ہے۔ وہ کرکٹر رہے ،چلو کرکٹ کا انہیں علم ہو گا، شوکت خانم ہسپتال بنایا، چلو سماجی ورک اور صحت کے شعبے کا انہیں کچھ علم ہو گا، وہ نمل یونیورسٹی بنا چکے، کچھ تعلیم کا بھی اتاپتا ہوگا، وہ مغرب میں رہے، چلو بہت سوں سے زیادہ مغرب کو بھی جانتے ہوں گے، لیکن یہ علیحدہ بات کہ ان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کرکٹ، صحت، تعلیم کاجو حال ہوا، وہ سب کے سامنے ہے، تاہم کپتان آج بھی ہر بات پر ٹانگ اڑتے ہوئے یہ کہنے سے باز نہیں آتے کہ مجھ سے بھلا بہتر اور کون جانتا ہے۔
بات سیاست کی ہو ،مجھے سب معلوم ،مانا وہ دودہائیوں سے سیاست میں مگر مجھے سیاست کا سب معلوم یہ ناممکن ،بات داخلہ پالیسی کی ہو ،مجھے سب پتا، بات خارجہ پالیسی کی ہو، مجھے سب معلوم ، زندگی بھر اپنے گھر کابجٹ بنایا نہیں، لیکن مجھے ملکی معیشت کا سب پتا، انہیں یہ وہم کہ ان سے بہتر مذہب کو کوئی نہیں جانتا، موصوف اقبال شناس بھی بنے ہوئے ہیں، وہ خود کو ہر قسم کے لٹریچر پر اتھارٹی سمجھتے ہیں، تاریخ دان بنے بیٹھے ہیں، لہٰذا کوئی بھی موضوع چھڑ جائے، ان کا بھاشن تیار ہوتا ہے، اب مجھے سب پتا، مجھے سب معلوم کا ملک کو کیا نقصان ہو چکا، خود دیکھ لیجئے۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ اندرون ملک ابتری، بیرون ملک تنہائی ،ڈوبتی معیشت، تباہ حال عوام، پھر مجھے سب معلوم ،کپتان کا یہ مغالطہ، غلط فہمی، خوش فہمی، آئے روز ان کے اپنے لئے بھی شرمندگی کا باعث بنتی یے۔ کبھی وہ جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملاتے ہیں، کبھی اسد روف کی نظم علامہ اقبال کی نظم بناتے ہیں، کبھی ٹیگور کا قول خلیل جبران کا بناتے ہیں، کبھی انہیں حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا، کبھی صحابہ ؓ کا ذکر کرتے کرتے چوک جاتے ہیں، وہ بیک وقت مغرب کی جمہوریت سے بھی متاثر ہیں اور چینی، سعودی ماڈل سے بھی متاثر ہیں، وہ ریاست مدینہ کے بھی داعی پیں مگر ان کے فیصلے میرٹ سے عاری اور یوٹرنوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔
ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ عمران کا تیسرا مغالطہ اپنے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے، انہیں اپنے ایماندار ہونے کا یقین ہے، ان کی نظر میں انکے علاوہ سب مشکوک، پوری اپوزیشن چور، ڈاکو اور لٹیری، اور بیوروکریسی ہڈ حرام ہے۔ انہیں جوڈیشری سے بھی شکایتیں ہیں، انہیں پچھلوں کے نوازے ہوئے مافیا زدہ میڈیا سے بھی شکوے ہیں، انہیں تاجروں سے بھی گلے اور تو اور ان کی باتیں غور سے سنیں تو لگے گا کہ انہیں تو قوم بھی ٹھیک نہیں ملی، اب یہ مان لیا کہ عمران خان خود ایماندار ہیں، انہیں سپریم کورٹ سے صادق امین کا سرٹیفکیٹ بھی مل چکا، مگر ایسی ایمانداری کا کیا فائدہ کہ اپنی کابینہ، پارٹی میں کرپٹ بھرے پڑے ہیں، ایسی ایمانداری کا کیا فائدہ جہاں اپنے لاڈلے اور چہیتے ’دیہاڑیاں ‘لگار ہے کیں۔ اِردگرد لٹ مار ہورہی اور آپ جان بوجھ کر خاموش ہیں اور آنکھیں بندکر رکھی ہیں، ایسی ایمانداری کا کیا فائدہ کہ کل تک جنہیں آپ بے ایمان کہتے تھے آج وہ سب آپ کے ساتھی اور اتحادی ہیں، ایسی ایمانداری کا کیا فائدہ کہ ہر معاملے میں مافیا جیت جائے۔ ہر معاملے میں آپ ہار جائیں اور ایسی ایمانداری کا کیا فائدہ کہ آپ کے وزیراعظم بننے کے بعد ملک میں کرپشن بڑھ جائے ،لہٰذا حضور جس ایمانداری کا ملک ،قوم کو کوئی فائدہ نہ ہو، اس ایمانداری کا اچار ڈالنا ہے، بہرحال سوباتوں کی ایک بات اور دکھ کی بات ہے کہ کپتان دن بدن اپنے ان تین مغالطوں کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں اور ساتھ میں قوم کو بھی اسے دلدل میں گھسیڑتے چلے جارہے ہیں۔
