عمران کو لانے والے اب توبہ کر کے پیچھے ہٹ جائیں

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پہلے دن سے وینٹی لیٹر پر تھی۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نوازنے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا اللہ کی شان دیکھ رہی ہوں، ہمیں یقین تھا کہ ظالم کے دن گنے جاتے ہیں ، وہی جعلی حکومت اور عدالتیں ہیں، وہی طاقت کا غلط استعمال ہے۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکرادا کرتے ہیں کہ ہمارے خلاف سازش بے نقاب ہوئی، جج ارشد ملک مرحوم نے اپنی زندگی میں نوازشریف کے حق میں گواہی دی تھی ، ان کی ویڈیو کی تحقیقات کے بجائے انہیں ہی نوکری سے نکال دیا۔
جی بی کے جج کے انکشافات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جس ملک میں منصف کوانصاف نہ ملے تو اس میں عام آدمی کا کیا حال ہوگا ، عدالت نے صحافی کو بھی پیغام رساں ہونے پر توہین کا نوٹس جاری کردیا۔
شوکت عزیز صدیقی نے دوران نوکری نواز شریف کے حق میں گواہی دی اور انہیں سچ بولنے کی پاداش میں سپریم جوڈیشل کونسل لے جایا گیا۔لیگی رہنما نے کہا کہ ثاقب نثار کس طرح قانون سے ماورا ہیں؟ رانا شمیم کے سابق چیف جسٹس پر الزامات سب کے سامنے ہیں، ثاقب نثار نے فون پر گارنٹی لی کہ نوازشریف اور مریم کو الیکشن سے پہلے ضمانت نہیں دی جائے گی۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو تباہی سے نکالنا ہے تو شفاف الیکشن ہی راستہ ہے ، ان ہاؤس تبدیلی کیلئے کسی کی مدد نہیں لینا چاہتے ہیں۔
دریں اثنا مریم نواز کیخلاف ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ وہ دلائل مکمل کریں اور ثبوتوں کے ساتھ یہ بات ثابت کریں کہ وہ اپارٹمنٹ کی بینیفیشل اونر ہیں۔اس پر نیب پواسیکیوٹر نے احتساب بیورو کی جانب سے باضابطہ جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت طلب کر لیا۔
دوران سماعت نیب پراسیکیورٹر نے مؤقف اپنایا کہ مریم نواز ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کی بینیفیشل اونر ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر ملکیت چھپانے میں اپنے والد نواز شریف کی مدد کی، اس جائیداد کی خریداری کے لیے استعمال کیے گئے مالیاتی ذرائع کے بارے میں بھی نہیں بتایا گیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اس پر سوال کیا کہ اگر خریدار ذرائع نہ بتائے تو بیٹی پر جرم کیسے ثابت ہو گا؟ کیا اس حقیقت سے جرم سے پہلوتہی یا معاونت ثابت ہوتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا وہ ایک رائے ہے ، ٹرائل ایک الگ چیز ہے ، ٹرائل ہونا ہے اور اس میں پراسیکیوشن نے ہر چیز بتانی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ نیب کا ماننا ہے کہ مریم بینیفیشل اونر ہیں جبکہ مریم کا کہنا ہے کہ وہ ٹرسٹی ہیں ، اب نیب کو ثبوتوں کے ساتھ یہ بات ثابت کرنی ہے ، عدالت نے مقدمے کی سماعت 24نومبر تک ملتوی کر دی۔
