اپوزیشن عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں نہیں لاتی؟


ریاست پاکستان کی جانب سے پابندی کا شکار معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے پاؤں تلے سے قالین تیزی سے کھینچا جا رہا ہے اور وہ اپنوں کا اعتماد کھو چکے ہیں لیکن پھر بھی اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ وزیر اعظم کا عہدہ اتنا بے توقیر اور بے اختیار ہو چکا ہے کہ اپوزیشن کا کوئی شخص وزیر اعظم بننے کے لیے تیار نہیں۔ اپوزیشن کو ابھی طے کرنا ہے کہ تبدیلی کیسے لانی ہے؟ تحریک عدم اعتماد یا نیا الیکشن؟ نئے الیکشن کے لیے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ عام آدمی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ اس کی اُمیدیں اپوزیشن سے وابستہ ہیں لیکن فی الحال اپوزیشن تیار نہیں۔ ایسے میں سیاسی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام آگے نکل جائیں اور اپوزیشن پیچھے رہ جائے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ عام پاکستانی کی زندگی میں سختیاں بڑھتی جا رہی ہیں لیکن یہ عام آدمی آج کل پھر اُمید سے ہے کے شاید اب اس نااہل اور ناکام حکومت سے جان چھوٹنے کا کوئی سلسلہ بن جائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگلے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے گیٹ نمبر ون سے لے کر کمیٹی روم نمبر سیون تک انہیں کئی سرکاری ملازمین اور افسر ملے۔ ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ میں اُس کی خواہش کو خبر بنا کر اُسے سنا دوں۔ جیسے ہی گیٹ نمبر ون سے اندر داخل ہوا تو ایک پولیس افسر نے سلیوٹ مارا اور کہا، ”سر یہ وقت بھی گزر جائے گا‘‘۔ ایک پولیس افسر کا مجھے سلیوٹ مارنا اور اپنے ماتحتوں کے سامنے میرے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔ اس کے پیچھے پارلیمنٹ ہاؤس کی سکیورٹی سے وابستہ ایک اہلکار کھڑا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذات پر نظر ڈالی اور مجھے کہا کہ آپ کو کمیٹی روم سیون میں جانا ہے نا؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ اس نے مجھے راستہ سمجھایا اور بتایا کہ کمیٹی روم چوتھے فلور پر ہے۔ پھر وہ میرے کچھ قریب آیا اور سرگوشی کے انداز میں پوچھا، ”خوشخبری کب آ رہی ہے؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا کون سی خوشخبری؟ وہ کچھ اور قریب آیا اور مسکرا کر بولا،”سر اتنے بھولے نہ بنیں، آپ کو تو پتہ ہو گا کہ یہ حکومت کب جا رہی ہے؟‘‘
حامد میر کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے قہقہہ لگایا اور آگے بڑھ گیا۔ لفٹ آپریٹر مجھے گراؤنڈ فلور سے تھرڈ فلور پر لایا۔ مسکرا کر میری طرف دیکھتا رہا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ پوچھتا رہا۔ میں نے بھی مسکرا کر اسے آنکھ مار دی۔ اس نے فوراﹰ پوچھا،”یہ واقعی پکیّ خبر ہے؟‘‘ میں نے کہا یار بتاؤ کمیٹی نمبر سیون کدھر ہے؟ وہ سنجیدہ ہو گیا اور بولا کہ جناب چوتھے فلور پر، آپ سیڑھیوں سے جائیں گے؟
چوتھے فلور پر کمیٹی روم نمبر سیون تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا فاصلہ طے کرنا تھا اور اس دوران کم از کم چار افراد نے روک کر مجھ سے ایک ہی سوال پوچھا،” کتنے دن اور ہیں؟‘‘ کمیٹی روم نمبر سیون میں داخل ہوا تو وفاقی سکریٹری اطلاعات، چیئرمین پیمرا، اعلیٰ پولیس حکام اور وزارت داخلہ کے افسران بالکل خاموش بیٹھے تھے۔ میں بھی خاموشی سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس دوران اسمبلی سیکرٹیریٹ کا ایک اہلکار میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے میرے کان میں کہا کہ آج یہ اجلاس نہیں ہو گا، یہ اجلاس 19 نومبر کے بعد ہو گا۔ میں نے پوچھا آج اجلاس کیوں نہیں ہو گا؟ اس نے کہا کہ میں نے تو آپ کو اندر کی خبر دے دی ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں آپ کا معاملہ بھی ہے، اسد طور اور ابصار عالم پر حملے کا معاملہ بھی ہے تو کمیٹی میں شامل لوگوں نے مناسب سمجھا کہ ان اہم ایشوز پر 19 نومبر کے بعد ہی اجلاس رکھا جائے۔ اس نے بتایا کہ ابھی دو تین ارکان اسمبلی آئیں گے اور کورم پورا نہ ہونے کا بہانہ بنا کر اجلاس ملتوی کر دیں گے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ اس دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی علی نواز اعوان آ گئے۔ انہوں نے مجھے دیکھا تو بڑی گرمجوشی سے ملے اور پوچھا کہ آپ پر پابندی کب ختم ہو گی؟ میں نے انہیں یاد دلایا کہ حکومت میں تو آپ ہیں، آپ کو بہتر پتا ہو گا کہ مجھ پر پابندی کب ختم ہو گی؟ انہوں نے قہقہہ لگایا اور کہا سب جانتے ہیں ہم نے آپ پر پابندی نہیں لگائی۔ ان کی بات سن کر سیکریٹری اطلاعات اور چیئرمین پیمرا بھی مسکرا دیے۔ اس اجلاس میں ابصار عالم اور اسد طور کو بھی بلایا گیا تھا۔ وہ دونوں بھی پہنچ چکے تھے۔ پونے بارہ بجے قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین اور مسلم لیگ نون کے رہنما میاں لطیف جاوید تشریف لے آئے۔ مجھے سمجھ آ چکی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کا صرف ایک ایک رکن آیا ہے تاکہ کورم کا مسئلہ بنا کر اجلاس ملتوی کر دے۔
اجلاس شروع ہوا تو میاں جاوید لطیف نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ایک سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے بیان حلفی نے پاکستان کی عدلیہ کی ساکھ پر بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں اور سوال یہ بھی ہے کہ حامد میر اور ابصار عالم پر حملہ کرنے والے کیوں نہیں پکڑے جاتے؟ اسد طور پر حملہ کرنے والے کیوں نہیں پکڑے جاتے؟ اور حامد میر کس کے کہنے پر چھ ماہ سے آف ایئر ہیں؟ ابھی ان کی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ علی نواز اعوان نے بات شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں سوال اٹھائیں گے تو پھر لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ملک قیوم کو کیوں بھول جاتے ہیں، جو مسلم لیگ نون کی قیادت سے فون پر ہدایات لے کر ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف فیصلے سنایا کرتے تھے؟ اسکے بعد علی نواز اعوان نے کورم کی نشاندہی کی اور اجلاس ملتوی ہو گیا۔ واپسی پر پارلیمنٹ ہاؤس کی راہداریوں میں، جو بھی ملا، اس نے یہی پوچھا کہ 19 نومبر کے بعد کیا ہو گا، کتنے دن اور ہیں؟
حامد میر کہتے ہیں کہ اب قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ سے نیا پیغام ملا ہے کہ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اگلا اجلاس 22 نومبر کو ہو گا۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان بھی جانتے ہیں کہ 19 نومبر کو آئی ایس آئی کے سرابرہ کی تبدیلی کے بعد ان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں لہذا انہوں نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی اس واقعے سے پہلے طلب کیا۔ وہ اس اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلانے کے لیے قانون سازی کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ قانون سازی انکے لیے سیاسی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے اپنے اتحادیوں کے ووٹ حاصل کرنے لیے لیے ہر حربہ استعمال کیا ہے۔ صورت حال کچھ یوں ہے کہ عمران خان نا صرف اپنے اتحادیوں بلکہ اپنی جماعت کے بہت سے ارکان کا اعتماد کھو چکے ہیں لیکن اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ وزیر اعظم کا عہدہ اتنا بے توقیر اور بے اختیار ہو چکا ہے کہ کوئی دوسرا وزیر اعظم بننے کے لیے تیار نہیں۔
اپوزیشن کو ابھی طے کرنا ہے کہ تبدیلی کیسے لانی ہے؟ تحریک عدم اعتماد یا نیا الیکشن؟ نئے الیکشن کے لیے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ عام آدمی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ اس کی اُمیدیں اپوزیشن سے وابستہ ہیں لیکن فی الحال اپوزیشن تیار نہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام آگے نکل جائیں اور اپوزیشن پیچھے رہ جائے۔

Back to top button