ڈیڑھ برس بعد کرتار پور راہداری کی رونق بحال ہونے لگی


بالآخر پونے ڈیڑھ برس بعد بھارتی حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو بابا گورونانک کے 552 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کی اجازت ملنے کے بعد پاکستانی حکام نے نارووال میں واقع کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے نارووال شہر کی رونقیں بحال ہوگئیں۔ یاد رہے کہ کئی ارب روپوں کی مالیت سے پاکستانی حکومت کی جانب سے تعمیر کی جانے والی عالیشان کرتار پور راہداری بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے ایک ویزا فری سرحدی گزرگاہ ہے جہاں سے گزر کر وہ گوردوارہ ڈیرہ صاحب پہنچتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بابا گرونانک 1539 میں انتقال کرگئے تھے۔ اس راہداری کو پہلی مرتبہ 2019 میں بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کھول دیا گیا تھا لیکن پھر کرونا وائرس کے باعث دوبارہ بند کردیا گیا۔
لیکن اب بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا کہ بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر ہونے والی تقریبات کے لیے کرتارپور راہداری کھول دی گئی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امیت شاہ نے کہا کہ اس اہم فیصلے سے بڑی تعداد میں سکھ یاتری مستفید ہوں گے، انہوں نے لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کرتارپور صاحب راہداری کھول دی جائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ کرتارپور صاحب راہداری کھولنے کے حکومتی فیصلے سے ملک بھر میں جشن ہو گا۔ دوسری جانب اس حوالے سے ایک پاکستانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کبھی بند ہی نہیں ہوئی تھی اور وہ بھارتی حکومت کے فیصلے ک انتظار کر رہے تھے تا کہ یاتریوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت کی جانب سے سیاسی قیدیوں کو پاکستان آنے کی اجازت ہی نہیں ملے گی تو پھر کرتار پور رہ داری کو کھول کر رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اب جب بھارتی حکومت نے اپنی سائیڈ سے راہداری کے لیے راستہ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے تو حکومت پاکستان بھی گوردوارہ بابا گورونانک کی زیارت کرنے والوں کے لیے راہداری کھول رہی ہے۔
خیال رہے کہ کرتارپور پاکستان کے اندر واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں بھارت میں مقیم سکھ برادری دہائیوں آنے سے محروم رہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ رہتے تھے۔ امید کی راہداری کہلانے والی کرتار پور راہداری کرونا اور دیگر مسسئل کی وجہ سے مارچ 2020 سے بند پڑی تھی اور یہ سوال کیا جا رہا تھا کہ آخر اسے کب کھولا جائے گا؟
یاد رہے کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح نو نومبر 2019 کو کیا گیا تھا تاہم یہ مقدس مقام انڈین سکھ زائرین کے لیے صرف پانچ ماہ کے لیے کھلا رہ سکا۔ کرونا وبا کے باعث اسے 16 مارچ 2020 کو بند کر دیا گیا تھا۔ اب جبکہ عالمی سطح پر مخلف ممالک کے درمیان سفر کی پابندیاں بہت حد تک نرم کر دی گئی ہیں، بھارتی حکومت نے بھی سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے دونوں ممالک میں عبادت کے لیے مذہبی مقامات اور یہاں تک کہ اٹاری واہگہ بین الاقوامی سرحد پر روزانہ منعقد ہونے والی پریڈ کی تقریب کو عوام کے لیے کھولا جا چکا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی سکھ یاتری کرتار پور راہداری کھولنے کے اعلان پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یاد رہے سکھوں کے پہلے گورو، نانک دیو نے اپنی زندگی کے 18 برس کرتارپور گاؤں میں بسر کیے تھے۔ یہ گاؤں نارووال کے قریب دریائے راوی کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ انکی وفات کے بعد بابا نانک کے ہندو اور مسلم پیروکار انھیں اپنے اپنے مذاہب کے مطابق دفنانا اور ان کی چتا جلانا چاہتے تھے۔ لوک داستانوں کے مطابق اس دوران بابا نانک کی میت پراسرار طور پر غائب ہو گئی اور اسکی جگہ پھولوں کی ایک ڈھیری بن گئی جسے ہندو اور مسلمان پیروکاروں میں برابر تقسیم کر دیا گیا۔ چنانچہ اس پر دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے پیروکاروں نے بابا نانک کی آخری رسومات اپنے اپنے مذہب کے مطابق ادا کی تھیں جس کے بعد ڈیرہ بابا نانک میں ایک سمادھی اور قبر بنا دی گئی گئی۔
کرتارپور راہداری کو ’امید کی راہداری‘ کہا گیا اور 9 نومبر 2019 کو اس کا افتتاح انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے اپنے اپنے ملکوں میں کیا تھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈین پنجاب کے گورداسپور شہر سے سکھ یاتریوں کو ڈیرہ بابا نانک کے بین الاقوامی سرحد کے اس پار ساڑھے چار کلومیٹر کے فاصلے پر سکھوں کے مقدس مقام گرودوارہ دربار صاحب کرتارپور صاحب جانے کی اجازت دی تھی جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے سکھ یاتریوں کا استقبال کیا تھا۔
لیکن کرتارپور راہداری کے افتتاح کے وقت بہت زیادہ امیدوں اور تشہیر کے باوجود اس نے بہت سے تنازعات کو جنم دیا۔ ابتداء میں بھارتی حکومت کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان نے بھارتی سکھوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے ایک سیاسی اسٹنٹ کے طور پر کرتار پور راہداری کو کھولا ہے۔ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں بھارتی سیاستدان اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کی آمد اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جادو کی جپھی پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سدھو کی دوبارہ آمد اور پاکستان کے بارے میں نیک جذبات کے اظہار اور بعد ازاں حکومت پاکستان کی جانب سے سے کرتار پور راہداری کی زیارت کرنے والے ہر سکھ یاتری پر 20 امریکی ڈالر اینٹری فیس وصول کرنے پر بھی اعتراض کر دیا گیا۔ اس وجہ سے سکھ یاتری کافی کم تعداد میں پاکستان آتے ہیں حالانکہ پاکستانی حکام نے اندازہ لگایا تھا کہ یومیہ پانچ ہزار سکھ یاتری عبادت کے لیے آئیں گے لیکن ایسا نہیں یو پائی جس کی بنیادی وجہ ویزہ کے مسائل ہیں۔ پاکستان بھارتی سکھوں کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ انہیں کرتارپور آنے کے لیے ویزا فری انٹری دی جائے۔

Back to top button