عمران کی آنکھیں محسنوں کا ٹھڈا کھانے کے بعد کیوں کھلیں؟

عمران خان کے بطور وزیر اعظم بے اختیار ہونے کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ ہمیشہ ان جیسوں کی آنکھیں محسنوں کا ٹھڈا لگنے کے بعد کیوں کھلتی ہیں، اور مجھے کیوں نکالا والا سوال پوچھنے والے کبھی اپنے محسنوں سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ مجھے کیوں چنا جا رہا ہے؟ ویسے بھی جو مکہ لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہئے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ نہ تو عمران خان پہلے وزیر اعظم ہیں، جو اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہ کر سکے اور نہ ہی آخری وزیراعظم، جس نے اقتدار سے نکلنے کے بعد یہ انکشاف کیا ہو کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور سامنے میں تھا مگر اقتدار کسی اور کے ہاتھ میں تھا۔ لہذا ” ہم بے چاری بہو بیٹیاں ” کرتے بھی تو کیا کرتے؟ چلیں بادشاہ گر تو ہیں ہی پست زہنیت اور جمہوریت دشمن، مگر یہ کیسے ہو جاتا ہے کہ میرا سب آئیڈیل ازم اور پاکستان کو ایک باعزت، خود مختار، آئین پسند ریاست میں ڈھالنے کا خواب اس پہلی فون کال کے ساتھ ہی پگھل جاتا ہے کہ ”سر نے چائے پے بلایا ہے‘‘۔
وسعت اللہ کے بقول چلیں بادشاہ گر تو ہوتے ہی ایسے ہیں مگر تب مجھے کیا ہو جاتا ہے، جب میں اقتدار پر بالائے آئین قبضہ کرنے والے کا منہ بولا بیٹا بنتے سمے غاصب کے بجائے ڈیڈی پکارتا ہوں۔ تب میرا منہ کیوں سل جاتا ہے، جب کوئی آمر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کے مشفقانہ نین گھماتے گھماتے اعلان کرتا ہے کہ یہ جواں سال ہی میرا فکری جانشین بننے کا اہل ہے۔ تب مجھے کیا ہو جاتا ہے، جب میں ڈی چوک میں ہزاروں کے مجمع کو اپنی تقریرِ دل پذیر سے گرما رہا ہوتا ہوں اور عین اسی وقت کوئی میرے کان میں سرگوشی کرتا ہے کہ چیف نے بلا لیا ہے اور میں بھاگم بھاگ سٹیج سے اتر کے کار میں بیٹھ یہ جا وہ جا۔ اس کے چند گھنٹے بعد پھر اسی سٹیج پر اسی مجمع کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ بس ایک ہفتے کی بات ہے، ایمپائر کی انگلی اٹھنے ہی والی ہے۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ یہ بادشاہ گر تو ہوتے ہی طوطا چشم ہیں مگر تب مجھے کیا ہو جاتا ہے، جب وہی طوطا چشم پیش کش کرتا ہے کہ بیٹھنا ہے کرسی پر یا نہیں؟ تب میری سوچ برف میں کیوں لگ جاتی ہے؟ میں مارے خوشی کے انار کیوں بن جاتا ہوں؟ میں بادشاہ گر سے تب یہ پوچھنے کی ہمت کیوں نہیں جٹا پاتا کہ آپکی خواہش اور مجھ پر آپ کا اعتماد سر آنکھوں پے لیکن میرا اختیار کیا ہوگا، میری ذمہ داری کیا ہو گی، میری اوقات کیا ہو گی، میرا کنٹریکٹ کیا ہو گا اور اگر یہ سب واضح نہ ہوا تو پھر میرا کیا ہو گا؟ ہاں یہ بادشاہ گر تو ہوتے ہی کمینہ خصلت ہیں مگر جب میں بیک بینی دو گوش ایوانِ اقتدار سے نکال دیا جاتا ہوں، تب ہی کیوں عوام کی عظمت، عوامی عدالت اور عوامی طاقت کے گن گانا شروع کرتا ہوں؟ تب ہی کیوں میں کسی عدالت کے باہر ” اک تارے‘‘ پر راگ منصفی کا سر چھیڑتا ہوں؟
تب مجھے عوامی طاقت و عدالت کیوں یاد نہیں آتی، جب میں اونچی فصیلوں میں درختوں کے سائے میں چھپی کسی عمارت کے پچھلے دروازے سے پچھلے کمرے کے چکر پے چکر لگا رہا ہوتا ہوں۔ میں ایسا کیا مانگنے جاتا ہوں، جو پوری عوام بھی مل کے مجھے نہیں تھما سکتی۔وسعت اللہ سوال کرتے ہیں کہ کیا عوام وہ پانسہ ہے، جو بس جوئے کی بساط پر ہی پھینکا جا سکتا ہے۔ کیا عوام وہ موت ہے، جسے دکھا کے بخار قبول کروایا جا سکتا ہے۔ کیا عوام سانپ کی وہ کینچلی ہے، جسے موسمِ اقتدار میں جسم سے اتار کے نئی کینچلی بدلی جا سکے؟
کیا عوام وہ مخلوق ہے جسے خون کا ابال ٹھنڈا کرنے کے بعد مٹھی میں کچھ مڑے تڑے نوٹ دے کر رخصت کر دیا جائے اور پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے بلا لیا جائے اور پھر دفعان کر دیا جائے۔ تو کیا عوام کی اوقات بس ڈسپوز ایبل ٹشو کے برابر ہے؟ چلیے بادشاہ گر تو عوام کو ایک بے وقوف ہجوم کے طور پر دیکھتے اور ویسا ہی سلوک کرتے ہیں مگر میں کہ جو خود کو عوام کی پیداوار کہتا ہوں۔ کیا واقعی خود کو دل سے عوام کی پیداوار سمجھتا ہوں یا عوام کو وہ پیداوار سمجھتا ہوں، جسے کوئی بھی آڑھتی اچھے نرخ پر مجھ سے خریدنے پر راضی ہو جائے؟ آخر مجھے لٹنے کے بعد ہی اپنے غریب رشتے داروں کی پھر سے پہچان کیوں ہوتی ہے، میں کنگال ہونے کے بعد ہی کیوں بندہِ عاجز کا چولا پہنتا ہوں، مجھے چار دن کا جھوٹا وقار چھننے کے بعد ہی کیوں اپنے پرانے یار بیلی یاد آتے ہیں؟
میں قلاش ہونے کے بعد ہی کیوں سخاوت و حلیمی کے گن گاتا ہوں، محسنوں کا ٹھڈا اچانک لگنے کے بعد کیوں میری آنکھیں پوری طرح کھلتی ہیں، یہ سب کچھ اس نوبت کے آنے اور اس حالت تک پہنچنے سے بہت پہلے کیوں نہیں ہوتا؟ جب میں کہتا ہوں کہ مجھے کیوں نکالا تو کیا میں نے ان سے کبھی یہ بھی پوچھا کہ مجھے کیوں چنا تھا؟
وسعت اللہ خان کے بقول جب میں کہتا ہوں کہ میں سازش کا شکار ہوا ہوں تو کیا میں نے سازش کا حصہ بننے سے پہلے یہ پوچھا تھا کہ آخر مجھے ہی اس سازشی بساط کا مہرہ کیوں بنا رہے ہو؟ اگر تب صماً بکماً رہنا ٹھیک تھا تو اب ہائے واویلا کیوں؟ بہت عام سی کہاوت ہے ”لڑائی کے بعد جو مکہ یاد آئے، اسے اپنے ہی منہ پے مار لینا چاہئے‘‘۔
