اداکار عامر خان دوبارہ ناقدین کے نشانے پر کیوں؟

بھارتی فلم انڈسٹری کے مسٹر پرفیکشنسٹ ایک مرتبہ پھر شہ سرخیوں میں آ گئے ہیں لیکن اس مرتبہ وجہ ان کی فلم نہیں بلکہ متنازع اشتہار ہے جس پر عامر خان سوشل بھکتوں کے نشانے پر آ گئے ہیں اور اس بار اُن کا ایک ٹی وی اشتہار اُن کیخلاف کیے جانے والے طنز اور نفرت کی وجہ بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ ایک بینک کے لیے بنائے گئے اس اشتہار سے ’ہندوؤں کے مذہبی جذبات‘ مجروح ہوئے ہیں جس میں ایک لڑکے کو رخصتی کے بعد اپنی بیوی کے گھر جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں اسے وہ تمام رسمیں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو ایک بہو اپنی سسرال میں ادا کرتی ہے، شدید تنقید کے بعد یہ اشتہار واپس لے لیا گیا۔
انڈیا میں اخلاقی پولسِنگ کے اس دور میں یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی اشتہار پر ہنگامہ ہوا ہو اور پھر وہ اشتہار واپس لے لیا گیا ہو، اس سے پہلے 2020 میں زیورات بنانے والی کمپنی ’تنِشک‘ کو اس وقت بے بھاؤ کی پڑی تھیں جب ان کے ایک اشتہار میں ایک ہندو لڑکی کو ایک مسلم گھر کی بہو دکھایا گیا تھا۔ تنِشک کے اس اشتہار پر ’لوو جہاد‘ کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا گیا تھا اور آخر کار کمپنی کو یہ اشتہار واپس لینا پڑا تھا یعنی اس کی تشہیر بند کر دی گئی تھی۔
اس کے بعد ’ڈابر‘ کے ایک اشتہار میں دو ہم جنس پرست لڑکیوں کو ’کڑوا چوتھ‘ کا ورتھ رکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا، خیر ہنگامے کے بعد یہ اشتہار بھی واپس لے لیا گیا، اب اس اشتہار کے بعد عامر خان کو بے تحاشہ ٹرول کیا جا رہا ہے، تازہ واقعے میں دلچسپ سوال یہ ہے کہ یہاں مسئلہ یہ اشتہار ہے یا عامر خان؟ اور کیا اس مورل پولسِنگ سے نقصان کس کو پہنچے گا عامر خان کو؟
ملک میں اگر تخلیقی صلاحیتوں یا کاموں پر اس طرح کے بائیکاٹ اور پابندیوں کی تلواریں چلتی رہیں تو نقصان کس کا ہوگا؟ یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں۔ کسی بھی کام یا رروزگار سے صرف ایک شخص یا چہرہ نہیں بلکہ پوری کمپنی یا انڈسٹری وابستہ ہوتی ہے جس میں ہر مذہب یا فرقے کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔
