دی لیجنڈ آف مولا جٹ چوں چوں کا مربہ کیوں قرار پائی؟

فلمی ناقدین نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ کو چوں چون کا مربہ قرار دے دیا یے۔ معروف فلمی ناقد محمد شہزاد نے بلال لاشاری کی فلم دیکھنے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ نہ صرف اپنا بلکہ فلم بنانے والے کا سر بھی دیوار سے پٹخ دیا جائے۔ بہت مشکل سے دیکھ پایا میں یہ فلم۔ پہلا ظلم تو یہ کہ پنجابی فلم کا نام انگریزی میں رکھا گیا یے! ساری فلم میں مولا لیجنڈ تو ہرگز نہیں البتہ للو رام ضرور لگا۔ فواد خان اور ماہرہ خان کی پنجابی سن کر روح کو وہی اذیت پہنچی جو کترینہ کیف کی ہندی یا اردو سن کر پہنچتی ہے۔ فلم کے لکھاری ناصر ادیب بھی سکرپٹ میں کچھ ایسا اضافہ نہ کر سکے جس سے کہانی کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا۔ وہی مولا جٹ کے پرانے ڈائیلاگ جسے حمزہ عباسی دہراتا ہوا نوری نت کے بجائے کوئی نورا ٹائپ کردار زیادہ لگ رہا تھا۔
محمد شہزاد کا کہنا تھا کہ ہماری نسل نے اگر یہی مکالمے سننے ہیں: ‘نواں آیا ایں سوہنیا، گجدے بڑے نے پر وسدا کوئی نہیں، میں وی سر چکن دے سو ول جانڑدا واں’ تو پھر ذہن مصطفیٰ قریشی کے علاوہ کسی اور اداکار کے منہ سے یہ مکالمے سننا ہرگز قبول نہ کرے گا۔ یہ بات آپ کو با آسانی سمجھ آ جائے گی اگر میں آپ کو فلم شعلے کی مثال دوں۔ کیا کوئی امجد خان سے بڑھ کر گبر سنگھ کے مکالمے بول سکے گا؟ یا کلبھوشن کھربنڈا سے بہتر شاکال بن کر دکھا سکے گا؟ یا محبوب عالم سے اچھا چودھری حشمت اپنے آپ کو ثابت کر سکے گا۔
محمد شہزاد کے مطابق میں نے بہت ذہن لڑایا یہ سمجھنے کے لیے کہ اس فلم کا نام مولا جٹ پر کیوں ہے۔ اصلی مولا جٹ کے بعد کئی اقسام کی مولا جٹ فلمیں بنیں۔ مولا جٹ تے نوری نت، مولا جٹ ان لندن، مولا جٹ ان ٹربل، بشیرا تے مولا جٹ، جٹ دا کھڑاک، وغیرہ وغیرہ۔ سب کی سب فیل ہو گئیں۔ دی لیجنڈ آف مولا جٹ تو ان فیل فلموں سے بھی گئی گزری نکلی۔ اس میں مولا کہاں فٹ ہوتا ہے؟ گنڈاسہ کہاں فٹ ہوتا ہے؟ میری سمجھ میں تو آیا نہیں
فلمی ناقدین کا کہنا تھا کہ اصلی مولا جٹ دیکھیے۔ یقین مانیے آپ کو یہ مولا جٹ چوں چوں کا مربہ لگے گی۔ 40 برس سے زیادہ وقت ہو چلا اصلی مولا جٹ کو ریلیز ہوئے ہوئے۔ میں آج بھی مولا جٹ دیکھتا ہوں تو کبھی بوریت نہیں ہوتی۔ دی لیجنڈ آف مولا جٹ ٹائپ پھکڑ پن سے بہتر ہے کہ اپنے ماحول سے جڑے ان گنت مسائل پر فلمیں بنائی جائیں۔
