باڈی شیمنگ پر بننے والی فلم ’’ڈبل ایکس ایل‘‘ کے چرچے

بھارت میں خواتین کی جسامت کو چیلنج کرنے یا باڈی شیمنگ کا موضوع کافی زیادہ زیر بحث ہے جس کی منظر کشی فلم ’’ڈبل ایکس ایل‘‘ میں کی گئی ہے، یہ فلم معاشرے میں عورتوں کی جسامت کے حوالے سے طے شدہ معیار کو چیلنج کرتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں کسی انسان کو اس کی جسمانی معذوری یا ظاہری شکل کو عیب کے طور لیا جاتا ہے اور جہاں کئی مواقعوں پر لڑکی کی رنگت یا اس کی جسامت کو قبولیت کا پیمانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ فلم کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرتی نظر آتی ہے۔ یہ فلم ان دو لڑکیوں کی کہانی ہے جنھیں اُن کے وزن کی وجہ سے زندگی میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ویسے یہ فلم حقیقت سے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ ہما قریشی اور سوناکشی سنہا کے دل کے بھی قریب کہی جا سکتی ہے کیونکہ ان دونوں کو ہھی ایک زمانے میں اُن کے وزن کی بنیاد پر طنز و مزاح کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

بالی ووڈ سے بار بار جا کر واپس آنے والی اداکارہ نرگس فخری کا کہنا ہے کہ فلم انڈسٹری میں لوگوں کے ایک نہیں بلکہ تین چہرے ہوتے ہیں، ایک بزنس کے لیے، دوسرا تخلیقی اور تیسرا پرسنل یعنی خود اپنے لیے۔رنبیر کپور کے ساتھ فلم ’راک سٹار‘ سے اپنا فلمی کیرئیر شروع کرنے والی نرگس کا کہنا ہے کہ اس بالی وڈ کے کھیل میں لوگ ایک مختلف شبیہہ یا چہرہ لگا لیتے ہیں اور انھیں لگتا تھا کہ سیدھی اور سچی بات کرنا ہی بہتر ہے لیکن وہ نادان تھیں، انھیں انڈسٹری کے کھیل کا علم نہیں تھا۔

نرگس فخری کا کہنا تھا کہ جب وہ نئی تھیں تو انھیں نہیں معلوم تھا کہ بالی وڈ کلچر میں کس طرح رہنا ہے، یہاں کئی بار آپ کو ان لوگوں سے بھی بات کرنی پڑتی ہے جنھیں آپ پسند نہیں کرتے۔ یہاں رہتے ہوئے مجھے ڈپریشن ہونے لگا تھا، اس لیے میں واپس اپنے گھر والوں کے پاس امریکہ چلی گئی تھی۔حال ہی میں دبئی میں ہونے والے آئیفا ایوارڈز میں شرکت کرنے والی نرگس نے چند بڑی فلموں میں کام کیا اور کچھ ناکام فلموں کے بعد وہ امریکہ واپس چلی گئی تھیں۔ نرگس اب ایک بار پھر بالی وڈ میں واپسی کے لیے تیار ہیں تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس پراجیکٹ کے ساتھ بالی وڈ میں واپس آ رہی ہیں۔

Back to top button