عمران کے اراکین اسمبلی کی تعداد 154 سے کم ہو کر143 رہ گئی

16 اکتوبر کے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کی چھ نشستیں جیتنے کے باوجود عمران خان کی پارلیمنٹ میں واپسی کا امکان اس لیے بہت کم ہے کہ اپریل 2022 کے مقابلے میں اب تحریک انصاف کی پارلیمانی پوزیشن اور بھی کمزور ہو گئی ہے۔ اگر اپریل 2022 میں عمران خان کو شہباز شریف کی حکومت الٹانے کے لیے 18 اراکین قومی اسمبلی کی حمایت درکار تھی تو اب یہ تعداد بڑھ کر 28 ہو گئی ہے۔ اتوار کو قومی اسمبلی کی آٹھ تشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کے نتیجے میں چھ پر عمران جبکہ دو پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی۔ یوں پی ٹی آئی نے ملتان اور کراچی سے اپنی قومی اسمبلی کی دو نشستیں مزید گنوا دیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران نے قومی اسمبلی کی جو 6 سیٹیں جیتی ہیں انکا بھی شمار نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ قومی اسمبلی سے استعفے دے چکے ہیں۔ اگر عمران قومی اسمبلی میں واپس جانے کا فیصلہ کریں بھی تو انہیں 6 میں سے 5 سیٹیں چھوڑنا ہوں گی۔ ایسے میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کی کل تعداد 143 رہ جاتی ہے جو کہ اپریل 2022 میں 154 تھی۔
تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے رخصت ہوتے وقت عمران خان کے پاس پہلے 154 سیٹیں تھیں اور انہیں وزیراعظم بننے کے لیے محض 18 مزید ووٹ درکار تھے۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سات، مسلم لیگ ق کے پانچ، اور چار آزاد اراکین نے عمران کی مخلوط حکومت کا ساتھ چھوڑا تو موصوف فارغ ہو گئے تھے۔ لیکن اگر عمران خان کوشش جاری رکھتے تو ان کا ساتھ چھوڑنے والی جماعتیں ایک دفعہ پھر انکے ساتھ ہاتھ ملا کر انہیں دوبارہ اقتدار میں لا سکتی تھیں کیونکہ انہیں صرف 18 ووٹوں کی ضرورت تھی۔ لیکن اس دوران پی ٹی آئی کے 11 اراکین اسمبلی کے استعفے قبول ہونے کے بعد اسکی عددی حیثیت 143 پر آ گئی۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن نے ان 11 میں سے 8 سیٹوں پر الیکشن کا اعلان کر دیا جس میں سے کل ملا کر تحریک انصاف کو ایک سیٹ ملی ہے چونکہ دو وہ ہار گئی اور باقی کا شمار نہیں ہونا۔ یوں اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی تعداد 143 رہ گئی ہے۔ ایسے میں اگر عمران قومی اسمبلی میں واپس جاکر شہباز شریف حکومت کو الٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں کم از کم 28 مزید ارکان کی حمایت درکار ہو گی جو کہ ممکن نظر نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی عددی پوزیشن اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اب وہ کسی دوسری جماعت کو کسی قسم کی جوڑ توڑ کی پیشکش کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہی۔
اب سوال یہ ہے کہ انتخابی نتائج سے ملنے والی مقبولیت سے عمران خان اور کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کی 6 نشستوں پر جیت کو عمران خان اپنی مقبولیت کی فتح قرار دیں گے، جس کے بعد وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو جائیں گے، لیکن عملی طور پر انہیں اس کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ اگلے الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران اپنی اس برتری کو نومبر کی اہم تعیناتی پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کریں گے۔ لیکن ایسا ہوتا بھی ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ نئے آرمی چیف کا انتخاب وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔
ضمنی الیکشن کے انعقاد سے قبل بھی سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ پہلو زیرِ بحث رہا کہ عمران فوج کو یہ تاثر ضرور دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مقبول ترین لیڈر ہیں اور عوام اُن کے ساتھ ہیں۔ لہٰذا ضمنی الیکشن میں زیادہ سیٹوں پر کامیاب ہو جانے کے بعد تو وہ اس بات کا برملا اظہار کریں گے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی غلطی کو سمجھے۔ اسی طرح کا اظہار الیکشن نتائج کے وقت اسد عمر کی جانب سے ہوا جن کا کہنا تھا کہ ’جو کچھ پچھلے چھ ماہ میں ہوا، عوام نے اُس کا غصہ آج نکالا، فیصلہ ساز اپنی غلطی کو سمجھیں۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی کی خواہش پر حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے نہیں روکا جاسکتا اور اگلے الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔ دوسری جانب عمران خان حکومت مخالف لانگ مارچ کرنے کے لیے پر عزم ہیں حالانکہ وہ اس عزم کا اظہار پچھلے چار ماہ سے کر رہے ہیں جب ان کا 25 مئی کا لانگ مارچ ناکام ہو گیا تھا۔
ضمنی الیکشن سے قبل کہا جا رہا تھا کہ اگر عمران جیت گئے تو یہ کہہ کر کہ عوام اُن کے ساتھ ہیں لانگ مارچ کا اعلان کر دیں گے اور اگر ہار جاتے ہیں تو الیکشن کمیشن پر جہاں تنقید کی بوچھاڑ کریں گے وہاں اسلام آباد کی طرف یہ کہہ کر رُخ بھی کریں گے کہ ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ اب جبکہ خان صاحب خود سات میں سے چھ سیٹوں پر فتح یاب ہو چکے ہیں تو سوال یہ ہے کہ انکا ممکنہ لانگ مارچ کتنا مؤثر ہو گا۔ لیکن اس سوال کا جواب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
