عمران کے الیکشن جیتنے کے باوجود انکی پارٹی کیسے ہار گئی؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ 16 اکتوبر کے ضمنی الیکشن میں عمران خان قومی اسمبلی کی 6 سیٹیں جیت گئے لیکن ان کی جماعت تحریک انصاف ہار گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی اور ملتان میں پی ٹی آئی کی شکست سے عمران خان کی مخالف سیاسی جماعتوں کو یہ احساس ہوا ہے کہ اگر ریکارڈ توڑ مہنگائی کے باوجود لاکھوں لوگوں نے ان کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں تو وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا کر عام انتخابات میں آسانی سے عمران کا مقابلہ کر سکتے ہیں کیوںکہ موصوف قومی اسمبلی کی ہر نشست پر خود تو الیکشن نہیں لڑ سکتے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ جس طرح عمران دور حکومت میں انکے سیاسی مخالفین جھوٹے کیسز میں جیلوں میں پڑے رہے اور عدالتیں بھی سوئی رہیں، ویسی صورتحال عمران کو نہیں دیکھنی پڑی۔ ماضی کے برعکس انہیں عدالتوں سے فٹافٹ ریلیف ملتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خان صاحب مسلسل ”نیوٹرلز‘‘ کو للکارتے ہیں اور عدالتیں انہیں ریلیف دے کر ثابت کرتی رہیں کہ وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔عمران کی حکومت کیسے ختم ہوئی اور اس کے خاتمے کے چھ ماہ بعد بھی وہ گرفتار کیوں نہیں ہو سکے، اس سوال کا جواب بہت لمبا ہے کیونکہ ابھی بہت سارے راز سامنے نہیں آئے۔ جوں جوں یہ راز سامنے آتے جائیں گے، توں توں سیاسی منظر نامے پر تبدیلیوں کا عمل بھی تیز تر ہوتا جائے گا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان نے پاکستانی سیاست میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ 16 اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں انہوں نے قومی اسمبلی کی سات نشستوں سے حصہ لیا اور چھ پر کامیابی حاصل کر کے ایک ایسا چھکا مارا ہے، جو ان کے سیاسی مخالفین کے اوسان پر بھاری بھر کم ہتھوڑا بن کر برسا ہے۔ اس سے قبل 2018ء کے عام انتخابات میں بھی عمران نے قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن 2018ء اور 2022ء میں ایک بہت بڑا فرق تھا۔ الیکشن 2018ء میں پاکستان کی طاقتور ملڑی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے پیچھے ایک آہنی دیوار بن کر کھڑی تھی جس نے موصوف کو زبردستی اکثریت دلوا کر وزیر اعظم بنوا دیا تھا۔ لیکن 2022ء کی ضمنی انتخابات ایسے ماحول میں ہوئے، جب عمران اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں دوریاں ایک پہاڑ بن چکی ہیں۔ خان صاحب اسی فوجی قیادت کو کبھی میر جعفر اور کبھی نیوٹرل کا نام دے کر الزامات لگا رہے ہیں جو 2018ء میں انہیں وزیر اعظم بنانے کے لیے سرگرم تھی۔ 16 اکتوبر کے ضمنی انتخابات سے چند روز قبل تحریک انصاف کے ایک سینیٹر اعظم سواتی نے براہ راست آرمی چیف جنرل باوجوہ پر ایسے الزامات لگائے، جنہیں وہ کسی عدالت میں ثابت نہیں کر سکتے۔ اعظم سواتی گرفتار ہو گئے اور عمران نے ان کے بیان سے اعلان لا تعلقی کرنے کے بجائے ان کی گرفتاری کی مذمت کر دی۔ یہ تھا وہ ماحول، جس میں 16 اکتوبر کے ضمنی انتخابات منعقد ہوئے اور عمران نے قومی اسمبلی کی سات میں سے چھ نشستیں جیت کر یہ پیغام دیا کہ اب انہیں ملڑی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ جب عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو انہوں نے اسے ایک غیر ملکی سازش قرار دے کر عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی۔ خان صاحب حکومت میں ہونے کے باوجود عوام کو سڑکوں پر نہ لا سکے اور آخر کار تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔اس دوران مسلم لیگ (ن) نے سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ کی کہ مرکز میں شہباز شریف کو وزیراعظم اور پنجاب میں ان کے برخوردار حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز مل کر بھی مہنگائی کو کنٹرول نہ کر سکے، جس کا سیاسی فائدہ عمران خان نے اٹھایا۔ لیکن کچھ تجربہ کار مبصرین کا خیال ہے کہ 16 اکتوبر کو عمران تو جیت گئے لیکن تحریک انصاف ہار گئی۔
ضمنی انتخابات کے نتائج ان کے مخالفین کو مزید متحد کریں گے کیوں کہ ملتان اور کراچی میں تحریک انصاف کی شکست سے انہیں یہ احساس ہوا کہ ریکارڈ توڑ مہنگائی کے باوجود لاکھوں لوگوں نے تحریک انصاف کے خلاف ووٹ ڈالے ہیں اور اگر وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تو عام انتخابات میں عمران خان کا مقابلہ مشکل نہیں ہو گا کیوں کہ خان صاحب قومی اسمبلی کی ہر نشست پر الیکشن نہیں لڑ سکتے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ تحریک انصاف 16 اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں چھکا مار کر بہت خوش ہے لیکن یہ بھول رہی ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے الیکشن کمیشن کے خلاف خان صاحب کے الزامات کی نفی کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ساکھ میں بہتری آئی ہے اور اب الیکشن کمیشن کسی بھی وقت کوئی بھی فیصلہ سنا کر نیا طوفان برپا کر سکتا ہے۔ خان صاحب کا خیال ہے کہ وہ اسلام آباد پر چڑھائی کر کے شہباز شریف کو جلد از جلد عام انتخابات پر مجبور کر لیں گے لیکن وہ بھولیں مت کہ 16 اکتوبر کے بعد قومی اسمبلی میں شہباز شریف کے دو ووٹ بڑھ گئے ہیں۔ خان صاحب کو اب چھ میں سے پانچ نشستیں خالی کرنی ہیں۔ ان پانچ پر ضمنی انتخابات میں مخالفین کو دو تین نشستیں مزید مل گئیں تو کیا ہو گا؟ آخر کار تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں واپس آنا ہو گا اور اگر اسمبلی کے باہر سے تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی تو خان صاحب اور پاکستان شدید نقصان اٹھائیں گے۔

Back to top button