توشہ خانہ کیس میں عمران کی مزید چوریاں بھی پکڑی گئیں

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھجوائے گے نااہلی کے ریفرنس میں عمران خان کے خلاف نئے اور ہوشربا الزامات سامنے آ گئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سابق وزیراعظم نے توشہ خانہ سے لی گئی قیمتی گھڑیاں کروڑوں روپوں میں بیچنے کے علاوہ چند ہزار روپے مالیت والے چھوٹے تحفے بھی نہیں چھوڑے اور انہیں بلا قیمت گھر لے گے۔
بطور وزیراعظم عمران خان جوتحفے کوئی پیسہ دیئے بغیر اپنے گھر لے گئے ان میں پرفیوم، ڈیکوریشن پیس، وال کلاک، ٹی سیٹ، پیپر ویٹ، فلاور پاٹ، قالین، میز، جائے نماز، کھجوروں کے ڈبے، شہد کی بوتلیں اور تسبیحیں بھی شامل تھیں۔
یاد رہے کہ 4 اگست کو الیکشن کمیشن کو بھجوائے گئے ریفرنس پر الیکشن کمیشن 18 اگست سے سماعت شروع کر رہا ہے اور قانون کے مطابق اس کیس کا فیصلہ ایک مہینے کے اندر 3 ستمبر تک ہونا ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق عمران کا اس ریفرنس میں نااہلی سے بچنا اس لیے مشکل ہے کہ انھوں نے توشہ خانہ سے جو کروڑوں روپے کی کمائی کی وہ دو برس تک الیکشن کمیشن میں داخل کروائے گے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کی تھی چنانچہ ان کی یہ حرکت اثاثے چھپائے کے زمرے میں آتی ہے جس کی سزا نا اہلی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف وہ تنخواہ چھپانے پر نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں جو انہوں نے وصول ہی نہیں کی تھی تو عمران خان نے تو کروڑوں روپے کی کمائی دو برس تک اپنے اثاثون میں ظاہر نہیں کی اس لئے ان کے خلاف دائر ریفرنس نوازشریف کے خلاف اقامہ کیس سے بھی زیادہ تگڑا ہے۔ ریفرنس میں بتایا گیا ہے کہ بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے بعد دو ماہ کے اندر عمران خان نے توشہ خانہ کی تحائف بیچ کر جتنی دولت جمع کی اتنی رقم وہ اپنی 66 سالہ زندگی کے دوران بھی جمع نہیں کر پائے تھے۔ عمران نے یہ رقم تیس برس تب اپنے اثاثوں میں ظاہر کی، جب انفارمیشن کمیشن میں ایک درخواست گزار نے توشہ خانہ سے حاصل کردہ تحائف کی تفصیل مانگ لی تھی۔
توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق 3 ستمبر تک فیصلہ سنانا ہے جب 30 دن کی قانونی مدت پوری ہوگی۔ یہ ریفرنس پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے ایم این ایز کے دستخطوں سے 4 جولائی 2022ء کو سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کیا گیا تھا اور 5 جولائی کو الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا گیا تھا۔ اس ریفرنس میں توشہ خانہ کے رجسٹر کے مطابق 52 کیٹگری کے ڈیڑھ دو سو آئٹمز سابق وزیراعظم اور اُنکی اہلیہ گھر لیکر گئیں۔
مالی سال 2018 اور 2019 میں عمران خان کروڑوں روپے مالیت کے اثاثے توشہ خانہ سے تقریباً بیس فیصد ادائیگی کے بعد گھر لے گئے تھے۔ اس کے علاوہ موصعف درجنوں تحائف بغیر ادائیگی کیے بھی گھر لے گئے جو اب ان کی بنی گالہ رہائش گاہ میں موجود ہیں۔ نا اہلی ریفرنس میں درج کردہ توشہ خانہ ریکارڈ کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کو اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 تک جو غیر ملکی تحائف ملے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے: 29 ہزار روپے مالیت کا ایک ڈیکوریشن پیس جو عمران خان نے فری لے لیا۔ ایک 30 ہزار روپے کا ٹیبل میٹ بھی انہوں سے فری اپنے پاس رکھ لیا۔
ایک آرائشی پیس اور ایک لاکٹ جس کی تشخیص شدہ قیمت 20 ہزار روپے تھی، وہ بھی موصعف نے فری میں رکھ لئے۔ مکہ کلاک ٹاور کا ماڈل جس کی ویلیو 25 ہزار روپے تھی، عمران نے فری میں رکھ لیا۔ ایک ڈیکوریشن پیس مالیتی 9 ہزار بھی وہ گھر کے گے۔ ایک وال ہینگنگ مالیتی 8 ہزار روپے بھی انہوں نے فری میں کھ لیا۔ ایک اور ڈیکوریشن پیس مالیتی 25 بھی انہوں نے فری میں رکھ لیا۔
اس کے علاوہ عمران خان بطور وزیراعظم جو تحائف کوئی رقم ادا کیے بغیر اپنے گھر لے گئے ان میں ایک وال ہینگنگ مالیتی 18 ہزار سام ہے۔ عمران خان نے ایک کلائی کی گھڑی مالیتی 8 کروڑ پچاس لاکھ روپے، کف لنکس مالیتی 56 لاکھ ستر ہزار روپے، ایک پین مالیتی 15 لاکھ روپے، اور ایک انگوٹھی مالیتی 87 لاکھ پچاس ہزار روہے صرف 2 کروڑ دو لاکھ 75 ہزار روپے دیکر حاصل کیں جنہیں بعد میں 10 کروڑ روپے سے زائد میں فروخت کیا گیا۔ انہوں نے ایک رولکس گھڑی مالیتی 38 لاکھ روپے صرف 7 لاکھ 54 ہزار روپے دیکر حاصل کی۔ انہوں نے ایک اور کلائی کی رولیکس گھڑی مالیتی 15 لاکھ روپے صرف 2 لاکھ 50 ہزار روپے دیکر حاصل کی۔ اسکے علاوہ صادق اور امین قرار دیے جانے والے خان صاحب ایک مردانہ رولیکس گھڑی مالیتی 9 لاکھ‘ ایک لیڈیز رولیکس گھڑی مالیتی 4 لاکھ‘ اور ایک اور گھڑی مالیتی 2 لاکھ صرف تین لاکھ 38 ہزار روپے دیکر گھر لے گئے جو کہ ان کی اصل قیمت کا 29 فیصد بنتا تھا۔ اسکے علاوہ خان صاحب ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کے کے 12 آئٹمز صرف 17 لاکھ روپے دے کر گھر لے گئے۔ ان آئٹمز میں آئی فون‘ جینٹس سوٹ، پرفیوم، اور بال پین وغیرہ شامل تھے۔
اس کے علاوہ عمران خان 15 لاکھ روپے مالیت کے جو تحفے کوئی پیسہ دیئے بغیر اپنے گھر لے گئے ان میں پرفیوم، ڈیکوریشن پیس، وال کلاک، ٹی سیٹ، پیپر ویٹ، فلاور پاٹ، قالین، میز، جائے نماز، کھجوروں کے ڈبے، شہد کی بوتلیں اور تسبیح وغیرہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے جو تحائف حاصل کئے ان میں ایک ڈائمنڈ والی سونے کی چین، سونے کے ٹاپس جن میں ڈائمنڈ جڑے تھے‘ ایک سونے کی انگوٹھی جس میں ڈائمنڈ لگے تھے‘ اور ایک سونے کا کڑا جس میں ڈائمنڈ لگے تھے۔ ان سب آئٹمز کی مالیت پچاس لاکھ روپے سے زائد تھی لیکن وزیراعظم کی اہلیہ نے صرف پانچ لاکھ روپے دے کر حاصل کرلیے۔
