ہیلی کاپٹر حادثے پر منفی پروپیگنڈا کرنیوالوں کی گرفتاریوں کا فیصلہ

صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں گزشتہ دنوں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرکوپیش آنیوالے افسوسناک حادثے اوراس میں افسروں اور جوانوں کی شہدا پر سول میڈیا پرمنفی پروپیگنڈا کرنے والے کرداروں کی گرفتاریوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تفتیشی اداروں کی جانب سے سوشل میڈیا مہم کے کرداروں کے خلاف تحقیقات جاری ہے،شہدا کے خلاف سوشل میڈیا مہم کے تمام کرداروں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، گھناؤنی مہم چلانے والوں سے تفتیش کے نتیجے میں ان کے سرپرستوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

باخبرذرائع کے مطابق شہدا کے خلاف سوشل میڈیا مہم میں کچھ بھارتی اکاؤنٹس بھی استعمال کیے گئے، ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے پاک فوج کے خلاف مہم چلائی گئی اور پاک فوج کے خلاف شروع کی گئی مہم میں بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مہم شروع ہونےکےبعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی اس مہم میں شامل ہوگئے اور اب تک کی تحقیقات کے مطابق 17 بھارتی اکاؤنٹس نے اس سوشل میڈیا مہم میں حصہ لیا، بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی میں بھرپور حصہ لیا۔

باخبرذرائع کے مطابق مہم میں شامل سیاسی جماعت کےکارکنوں کے ویڈیو بیانات پہلے ہی منظرعام پر آچکے ہیں، مہم کے پیچھے چھپے دوسرے کرداروں اور ان کے ہینڈلرز تک بھی پہنچاجارہا ہے اور دیکھاجارہاہےکہ بھارتی اکاؤنٹس کےنام پرکچھ اکاؤنٹس پاکستان سے تو نہیں چل رہے تھے

واضح رہےکہ گزشتہ دنوں لسبیلہ میں پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کے دوران لاپتہ ہوگیا تھا، کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد ہیلی کاپٹرکا ملبہ موسیٰ گوٹھ سے ملا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا جس کے باعث ہیلی کاپٹر میں سوار کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد سمیت 6 جوان شہید ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ ہیلی کاپٹر حادثےکے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے منفی مہم چلائی گئی تھی جس کی پاک فوج نے شدید مذمت کی تھی جبکہ حکومت نے منفی سوشل میڈیا مہم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا اور ایف آئی اے اور آئی ایس آئی کے افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جو واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

Back to top button