ایران امریکہ مذاکرات میں کیا طے پایا؟ حقائق سامنے آ گئے

پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فریقین نے مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی (ہائی لیول کمیٹی) قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے براہِ راست رابطہ لائن قائم کی جائے گی۔فریقین نے جوہری پروگرام، پابندیوں اور دیگر متنازع امور پر پیش رفت کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ لبنان میں جنگ بندی اور مفاہمتی اقدامات پر عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ ڈی کنفلیکشن سیل قائم کیا جائے گا جس میں لبنان اور ثالث ممالک بھی شامل ہوں گے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مرکزی مذاکرات کار ہائی لیول کمیٹی کو باقاعدگی سے پیش رفت سے آگاہ کریں گے، جبکہ ثالث ممالک مذاکراتی عمل کو تعمیری اور مثبت ماحول میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات پورا ہفتہ برگن اسٹاک ریزورٹ میں جاری رہیں گے۔ پاکستان اور قطر نے ایران اور امریکا کی جانب سے سفارتکاری اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کو سراہتے ہوئے مذاکراتی عمل میں تعاون کرنے والے تمام دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکراتی پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اور قطری ثالثی کے نتیجے میں لبنان سے متعلق معاملات میں بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد وفد کے ہمراہ دوپہر ایک بجے پاکستان روانہ ہوں گے۔
