سپریم کورٹ کے 5 ججوں کی تقرری پر اصل پھڈا کیا یے؟

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپنی پسند کے جونیئر ججز تعینات کر کے عدالت کا قبضہ لینے کی کوشش کے نتیجے میں پانچ ججوں کی تعیناتی کا معاملہ لٹکتا ہوا نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت 17 ججوں کی گنجائش موجود ہے جبکہ ججوں کی موجودہ تعداد 12 ہے اور 5 سیٹیں خالی ہیں جن پر تعیناتی کا معاملہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی وجہ سے لٹکا ہوا ہے جو بار بار اپنی مرضی کے جونیئر جج تعینات کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اب بھی اپنے سابقہ چیف ہینڈلر کے مشوروں سے فیض یاب ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں آنے والے عدالتی فیصلوں سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا فیض دھڑا جسٹس عمر عطا بندیال کی مدد سے سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے ایسے جونئیر جج لگوانا چاہتا ہے جو کہ عمرانڈو ایجنڈا لے کر آگے چلیں۔ چیف جسٹس اور ان کے دست راست جسٹس اعجازالاحسن دونوں عدلیہ میں تعیناتیوں کے حوالے سے سینیارٹی کا اصول اپنانے پر آمادہ نظر نہیں آتے کیونکہ سینئر جج سیاسی فیصلے دینے کی بجائے آئین اور قانون کی بنیاد پر فیصلے دیتے ہیں جبکہ جونیئر چیف جسٹس کے کہنے پر چلتے ہیں لیکن عمر عطا بندیال کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ حال ہی میں کچھ جج حضرات کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب سپریم کورٹ میں فیض اور بندیال دھڑا کمزور ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ عمران حکومت جانے اور شہباز حکومت کے آنے کے بعد اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کی تبدیلی سے بھی ججوں کی تعیناتی کا فیصلہ کرنے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں اب عمر عطا بندیال اور انکے ساتھی اقلیت میں چلے گئے ہیں۔
لیکن چیف جسٹس شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اسی لیے جوڈیشل کونسل آف پاکستان کے پچھلے اجلاس میں بھی انکی جانب سے تعیناتی کے لیے پیش کردہ پانچوں ججوں کے نام اکثریتی اراکین کی جانب سے مسترد کیے جانے کے باوجود ان کا اصرار ہے کہ وہ ان ناموں کو دوبارہ اگلے اجلاس میں بھی پیش کریں گے۔ یاد رہے کہ قانون کے مطابق جب جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ایک مرتبہ کسی جج کا ترقی کیلئے پیش کردہ نام مسترد ہو جائے تو اسے دوبارہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔
جولائی میں منعقدہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اکثریت سے شکست کھانے کے بعد عمر عطا بندیال اچانک اٹھ کر چلے گئے اور اجلاس کی کاروائی ادھوری چھوڑ دی تھی، بعد ازاں سپریم کورٹ سے جاری ایک پریس ریلیز میں یہ غلط بیانی کی گئی کہ تعیناتی کے لیے پیش کردہ ناموں پر اگلے اجلاس میں دوبارہ غور کیا جائے گا لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت جوڈیشل کمیشن کے کئی اراکین نے تحریری طور۔پر اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عمر عطا بندیال کی جانب سے پیش کردہ ناموں کو مسترد کردیا گیا تھا اور انھیں اگلے اجلاس میں زیر غور نہیں لایا جا سکتا۔
اس وقت سپریم کورٹ میں 12 جج کام کر رہے ہیں جبکہ کل تعداد 17 ہے اور زیر التوا مقدمات کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہے۔ لیکن عمر عطا بندیال نئے ججوں کی تقرری کرنے سے قاصر ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ حکومتی تبدیلی نے جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں وزیر قانون اور اٹارنی جنرل ہائیکورٹس کے ججوں کی سپریم کورٹ میں ترقی کیلئے چیف جسٹس کی نامزدگیوں کی حمایت کرتے تھے۔ دو جونئیر ججوں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے دو نمائندے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل اب ججوں کی تقرری کے ایشو پر پاکستان بار کونسل کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں جس کا مطالبہ ہے کہ سنیارٹی کے اصول کو لے کر چلا جائے۔
دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی اخلاقی پوزیشن بھی کافی کمزور ہوئی ہے اور انہوں نے خود پر پرو پی ٹی آئی سیاسی جج ہونے کا ٹھپہ بھی لگا لیا ہے جس کا ایک واضح ثبوت ان کی جانب سے حمزہ شہباز کو بے دخل کر کے پنجاب کی وزارت اعلی پرویز الہٰی کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہے۔ اسکے علاوہ عمر عطاء بندیال کی جانب سے ایک مخصوص تین رکنی بینچ بنا کر فیصلے کرنے کی روش نے بھی انکی ساکھ کا جنازہ نکالا ہے۔ پھر رہی سہی کسر ان کی جانب سے فل کوٹ بنانے سے انکار نے پوری کر دی۔
اب ایسی اطلاعات آ رہی ہیں ہیں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے پانچ ججوں کی تعیناتی پر شکست کھانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے 13 ایڈہاک ججوں کو مستقل کرنے کے لیے جوڈیشل کونسل آف پاکستان کا اجلاس بلانے جا رہے ہیں۔ ان ججوں کی تعیناتیاں عمران خان کے دور حکومت میں ہوئی تھیں اور ان سب کا تعلق کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف سے ہے۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا چیف جسٹس اپنے عزائم پورے کرنے میں کامیاب ہوں گے یا انہیں ایک مرتبہ پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Back to top button