عمران کے سرپرستوں نے قوم کے 15 برس کیسےضائع کئے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان جمہوری سیاست مسترد کر کے غیر سیاسی بگولوں کے تعاقب میں اٹک جیل پہنچے ہیں۔ انہوں نے قوم کے سیاسی ارتقا اور معاشی ترقی کی راہ میں کانٹے بچھائے۔ درحقیقت عمران خان اور ان کے سرپرستوں نے قوم کے پندرہ برس ضائع کئے ہیں .معیشت کی موجودہ حالت عمران خان کے عرصہ اقتدار کا ہی تسلسل ہے . اپنے ایک کالم میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ تاریخ میں فرد اور اجتماع کی اخلاقیات میں ہمیشہ سےفرق رہا ہے۔ ایک فرد کے لیے جو فعل جرم کہلاتا ہے، وہی ناانصافی قوم، مذہب، نسل اور زبان کے نام پر جواز حاصل کر لیتی ہے۔ صحافتی خبر المیہ بیان نہیں کر سکتی، اس کی کاٹ تفصیل میں ملتی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کے حامی کہتے ہیں کہ ’ عمران خان نام کے ایک شخص کو لوگوں نے ووٹ دے کر اپنا وزیراعظم بنایا تھا، اس وقت یہ نامعلوم جرم میں اٹک جیل میں بند ہے، عمران خان مانگ بھی کیا رہا ہے جو آئین میں صاف صاف لکھا ہے یعنی الیکشن‘۔ اس بظاہر سادہ بیان کی تفصیل میں عفریت چھپے ہیں۔ عمران خان شفاف انتخابی عمل میں منتخب نہیں ہوئے وہ قوم کے خلاف ہائبرڈ نظام کے جرم میں شریک تھے۔ ان کا انتخاب بالادست شریک اقتدار کی زور آوری کا نتیجہ تھا۔ وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ پارلیمانی نظام میں عوام وزیراعظم منتخب نہیں کرتے، وزیراعظم کی میعاد ایوان کے اعتماد سے مشروط ہے۔ ہائبرڈ نظام میں اختیار کے متوازی سرچشموں میں اختلاف لازم ہے اور یہ حادثہ اکتوبر 2021 میں ہوا۔ 26 نومبر 2022 کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل لانگ مارچ سے واضح ہو گیا کہ مارچ 2022 میں عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا درست تھا کیونکہ وہ اپنے پسندیدہ کرداروں کو عسکری قیادت سونپ کر اقتدار پر مسلط رہنا چاہتے تھے۔ ان کی معاشی اور سفارتی کارکردگی مایوس کن تھی۔ وہ صدارتی نظام کے خواہاں تھے۔ انہوں نے 27 فروری 2022 کو آئی ایم ایف معاہدے سے انحراف کر کے معیشت پر خودکش حملہ کیا۔ تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد دستوری تقاضوں سے انحراف کے لئے ایک جعلی عالمی سازش کی آڑ لی۔ مضحکہ خیز طریقے سے قومی اسمبلی توڑنے کی کو شش کی۔ عدم اعتماد کا دستوری ضابطہ ماننے کی بجائے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کیا۔ اپنی جماعت کے منحرف اراکین کے لیے خوف و تحریص کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کرنا چاہا۔ بالآخر 9 مئی کو جمہوری بندوبست لپیٹنے کی سازش کی۔ وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ عمران خان 2014سے اپنے خلاف قانونی کارروائی سے گریزاں رہے ہیں۔ وہ اسی نظام عدل کے ذریعے سزا یافتہ ہوئے ہیں جسے وہ اپنے مخالفین کے خلاف ہتھیار سمجھ کر استعمال کرتے رہے۔ عمران خان کا مطالبہ محض انتخاب نہیں بلکہ 2018 کے نمونے پر انتخاب کی خواہش ہے۔ تاریخ مگر آگے بڑھ چکی ہے۔ عمران خان کی پارٹی چھوڑنے والے عناصر 2011 سے 2018 تک ہانکا کر کے ان کی جھولی میں ڈالے گئے۔ درحقیقت عمران خان اور ان کے سرپرستوں نے قوم کے پندرہ برس ضائع کئے ہیں۔ معیشت کی موجودہ حالت عمران خان کے عرصہ اقتدار کا تسلسل ہے۔ تحریک انصاف کے حامیوں کے خلاف ریاستی زور آوری کا دفاع نہیں کیا جا سکتا لیکن عمران خان جمہوری سیاست مسترد کر کے غیر سیاسی بگولوں کے تعاقب میں اٹک جیل پہنچے ہیں۔ انہوں نے قوم کے سیاسی ارتقا اور معاشی ترقی کی راہ میں کانٹے بچھائے۔ اپنے پیروکاروں کی سیاسی تربیت کرنے کی بجائے انہیں اپنی ذات کا اسیر بنایا۔ مورخ عمران خان کو پاکستانی سیاست کی غیر جمہوری روایت کے ایک نشان کی صورت میں یاد رکھے گا۔ لکھنے اور بولنے والوں کو رائے کا پورا حق ہے لیکن عمران خان کی مظلومیت کی حقیقت محضمداری کا کرتب اور ڈھکوسلہ ہے

Back to top button