نواز شریف نے اکتوبر میں اپنی وطن واپسی کی تصدیق کر دی

کئی ماہ سے جاری قیاس آرائیوں اور ٹائم فریم کے مختلف اعلانات کے بعد پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف اپنی 4 سال سے زائد کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے اگلے ماہ پاکستان واپس آجائیں گے کیونکہ لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود اکتوبر میں اپنی وطن واپسی کی تصدیق کر دی ہے۔
لندن میں نواز شریف کی وطن واپسی کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے اکتوبر میں وطن واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ پاکستان واپس آرہا ہوں، ملک کو خوشحالی کی طرف لے کر جائیں گے۔سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ چند افراد نے مخصوص مقاصد کیلئے پاکستان کو نشانہ بنایا۔ جس کا حساب لیا جائے گا۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم شہباز شریف نے لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کی، جس میں نواز شریف کی وطن واپسی اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوران ملاقات نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے لاہور ایئرپورٹ کو فائنل کیا گیا ہے جبکہ ان کی اکتوبر کے دوسرے نصف میں پاکستان روانگی کا فیصلہ کیا گیا، پاکستان پہنچنے پر نواز شریف راہداری ضمانت لے سکتے ہیں۔نواز شریف کو تجویز دی گئی ہے کہ داتا دربار پر جائیں اور کارکنوں سے خطاب کے بعد رائے ونڈ روانہ ہوں۔نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف سے پہلے پاکستان جاؤں گا، اللہ کا شکر ہے کہ میرے کینسر ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اچھی بات ہے ڈالر نیچے آیا ہے، ڈالر جتنا نیچے آئے گا اتنا ہی ہماری معیشت کیلئے بہتر ہوگا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے پارٹی کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے قبل عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے سابق اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو اہم ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ن لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے سابقہ لیگی ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں، ٹکٹ ہولڈرز، سابقہ بلدیاتی نمائندوں اور پارٹی عہدیداروں کو نوازشریف ادوار کے ترقیاتی منصوبوں کو نئی نسل کو آگاہی دینے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔پارٹی قیادت نے سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں عوامی رابطوں میں تیزی لانے اور سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر نواز شریف دور کے ترقیاتی منصوبوں کو اجاگر کرنے کا حکم دیا ہے۔
پارٹی نے ہدایت کی کہ تمام رہنما اور متحرک کارکنان اپنے حلقوں میں نوجوانوں سے زیادہ سے زیادہ روابط قائم کریں اور واپسی سے قبل عوام کو یہ بتایا جائے کہ نواز شریف پاکستان کیلیے کیوں ضروری ہیں۔ہدایت کی گئی ہے کہ پارٹی عہدیدار مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے حوالے سے تحریک انصاف کے جعلی پروپیگنڈے کا پول کھولیں، 2017 سے 2022 کے دوران ہونے والی بدترین انتقامی کارروائیوں کے باوجود نواز شریف کی استقامت اور وطن سے محبت کو اجاگر کیا جائے اور قائد کی واپسی کے موقع پر اپنے اپنے حلقوں سے عوام کی کثیر تعداد کو استقبال کے لئے تیار کریں۔
دوسری جانب قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات کیلئے مسلم لیگ ن نے پارلیمانی بورڈ بنا کر اکتوبر میں ہی جنرل انتخابات کی ٹکٹوں کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ ن نے اکتوبر میں پارلیمانی بورڈ قائم کیا جائے گا، پارلیمانی بورڈ کی صدارت شہباز شریف کریں گے جبکہ نواز شریف پارٹی قائد کے طور پر ٹکٹوں کی تقسیم پر توثیق کریں گے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے پرانے سیاسی چہروں پر انحصار کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن حلقوں میں امیدوار کمزور ہے صرف وہاں نیا چہرہ اور مضبوط امیدوار لایا جائے گا۔
