عمران کے پتے ختم، اب اسٹیبلشمنٹ کونسے پتے کھیلے گی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ عمران خان اپنے تمام پتے کھیل چکے ہیں اور انہیں کامیابی نہیں مل سکی لیکن اب نئی اسٹیبلشمنٹ اپنے پتے شو کرنے والی ہے جس سے خان صاحب کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ ایک بہت مشہور قول ہے کہ ’خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔ یہ مقولہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شخصیت پر بہت فٹ بیٹھتا ہے۔ جب سے انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالا ہے ایک قسم کی خاموشی سی چھائی ہوئی ہے۔ اس کے بر عکس ان کے پیشرو جنرل قمر باجوہ کی شخصیت میں ایک کھلا پن نمایاں تھا اور چیزیں زیادہ واضح تھیں۔ اگر جنرل قمر باجوہ کے دور کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے میڈیا اور سیاست دانوں سے بڑے اچھے، واضح اور دوستانہ تعلقات تھے۔
غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ جنرل باجوہ نے اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کے تعلقات کو ایک نئے عہد میں داخل کیا۔ ان کے دور میں اسٹیبلشمنٹ اور ملکی سیاست کے درمیان تعلقات بھی اپنے عروج پر تھے، جس کا ملکی سیاست پر بھی مثبت اثر ہوا۔ تاہم اس کے کافی منفی اثرات بھی ہوئے جنکا باجوہ کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ جنرل باجوہ کے دور میں پاکستانی فوج میڈیا پر بہت زیادہ سرگرم دکھائی دی، اس سے قبل اس طرح کی سرگرمیاں بہت محدود ہوتی تھیں۔ اگر ہم نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ذکر کریں تو ہمیں ایک بڑی تبدیلی نظر آتی ہے۔ نئے فوجی سربراہ نہ صرف انتہائی کم گو ہیں بلکہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوست اور دشمن کی بہت اچھی پہچان رکھتے ہیں۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر دوست بناتے ہیں اور پھر دوستیوں کو نبھاتے بھی ہیں۔ اسی طرح وہ دشمن بنانے میں بھی بڑی سوچ بچار سے کام لیتے ہیں۔ غریدہ کے بقول، جنرل باجوہ اور جنرل عاصم کی شخصیات میں تبدیلی کا ایک عملی مظاہرہ ہم نے کمان کی تبدیلی کی تقریب میں دیکھا، جہاں چھڑی کی منتقلی کے دوران جب جنرل باجوہ نے نہایت گرم جوشی سے نئے آرمی چیف کو گلے لگایا اور ان کو معانقہ دیا۔ اسکے بعد انہوں نے جنرل عاصم منیر کے کندھے پر تھپکی دی لیکن عاصم کے رویے میں ایک پروفیشنل فوجی کی جھلک دیکھنے کو ملی اور ان کی باڈی لینگویج جذبات سے عاری رہی۔
خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ کہ ابھی جنرل عاصم منیر کو کمانڈ سنبھالے ہوئے کچھ دن ہوئے ہیں لیکن ہمیں دونوں افسروں کی پالیسی میں بہت بڑا اور واضح فرق محسوس ہو رہا ہے، ہمیں یہ تاثر مل رہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ’خاموش‘ پالیسی کا آغاز ہونے والا ہے جس کا اشارہ ہمیں گذشتہ دنوں فوج میں ہونے والے کچھ ٹرانسفر اور پوسٹنگز سے ملا، روایات کے برعکس ان تبدیلیوں کا نہ تو اعلان کیا گیا اور نہ ہی کوئی شور و غوغا ہوا حتیٰ کہ آرمی چیف کی سعودی عرب کے سفیر سے ملاقات تک کو خاموشی سے جانے دیا گیا۔
غریدہ کے بقول آئی ایس پی آر میں بھی تبدیلی کی خبریں ہیں اور میجر جنرل احمد شریف کو نیا ڈی جی آئی ایس پی آر بنانے کی اطلاعات ہیں۔ احمد شریف کا تعلق فوج کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے رہا ہے اور وہ ایک نہایت ٹیکنیکل اور قابل بندے ہیں۔ احمد کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کا جنرل عاصم منیر سے انتہائی گہرا اور قریبی تعلق ہے۔
ان کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ بھی اپنے کام سے کام رکھنے والے اور کم گو شخصیت کے حامل ہیں۔ یہ بات بھی چل رہی ہے کہ آئی ایس پی آر کا کردار بھی محدود کیا جارہا ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ جنرل عاصم منیر کی ’خاموشی‘ ایک طویل مدتی پالیسی ہو گی یا اسکا مظاہرہ صرف وقتی طور پر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب عمران اپنے تمام پتے کھیل چکے ہیں اور انکے پاس کوئی پتہ باقی نہیں بچا، لیکن اسٹیبلشمنٹ کے پاس پتوں کا نیا ڈیک آگیا ہے۔ اب اس میں سے پہلا پتہ کون سا کھیلا جائے گا یہ دیکھنا انتہائی اہمیت اور دلچسپی کا حامل ہے۔
