درجنوں یہودی آبادکاروں کا مسجد اقصیٰ پر پھر دھاوا، مسلمانوں پر پابندیاں

درجنوں یہودی آبادکاروں نے اسرائیلی فوج کی فول پروف سکیورٹی میں ایک بار پھر مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا اور مسجد کے صحنوں میں تلمودی رسومات ادا کیں، جبکہ اسرائیلی پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے اس موقع پر مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی آبادکار جمعہ اور ہفتہ کو سرکاری تعطیلات کے علاوہ روزانہ دو اوقات میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہوتے ہیں۔ صبح کا دورانیہ ساڑھے 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جبکہ دوپہر کا دھاوا ظہر کی نماز کے بعد شروع ہو کر 90 منٹ تک جاری رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 116 یہودی آبادکاروں نے قابض اسرائیلی پولیس کی سخت سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے مبارک صحنوں میں دھاوا بولا اور وہاں اشتعال انگیز گشت کیا۔

یہودی آبادکار باب المغاربہ کے راستے سے، جو 1967ء سے مکمل اسرائیلی کنٹرول میں ہے، قابض پولیس اور اس کی مسلح سپیشل فورسز کی سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہوئے۔ وہاں تلمودی رسومات اور عبادات ادا کیں، مبینہ ہیکل کے بارے میں بریفنگ لی اور باب السلسلہ سے پہلے سے طے شدہ راستوں کے ذریعے مسجد سے باہر نکل گئے۔

اسرائیلی پولیس نے اس موقع پر مسلمان نوجوانوں اور نمازیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں اور بعض افراد کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

 

امریکا ایران جنگ بندی میں ثالثی کردار پر پاکستان عالمی توجہ کا مرکز

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے آبادکاروں کے دھاووں کو محفوظ بنانے کے لیے بیرونی دروازوں پر بعض افراد کے شناختی کارڈ بھی ضبط کر لیے۔

Back to top button