کیا واقعی پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا اتحاد خطرے میں ہے؟

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر حکومتی اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج اور مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر اختلافات نے پہلے سے موجود سیاسی فاصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔ صورتحال اس وقت زیادہ اہم ہوگئی ہے جب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پیپلز پارٹی نے فی الحال پارلیمان میں حکومت کے ساتھ تعاون محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بعض حکومتی قانون سازی میں حمایت کے بجائے ترامیم یا مخالفت کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج پر پیپلز پارٹی کے تحفظات، پارلیمان میں حکومتی قانون سازی سے ممکنہ فاصلہ اور پی ٹی آئی سے مبینہ رابطوں نے سیاسی منظرنامے میں نئی ہلچل پیدا کردی ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات اگرچہ کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ دونوں جماعتیں 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد وجود میں آنے والے سیاسی سیٹ اپ کا حصہ رہی ہیں۔ اس عرصے کے دوران دونوں جماعتوں نے متعدد اہم معاملات پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا، تاہم آئینی ترامیم، انتخابی معاملات، حکومتی فیصلوں اور سیاسی حکمت عملی پر اختلافات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ اب آزاد کشمیر کے انتخابات نے ان اختلافات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے آزاد کشمیر کے انتخابی عمل اور نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی جانب سے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، ان پر عمل نہیں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے انتخابی نتائج پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور یہ تاثر دیا ہے کہ معاملہ محض انتخابی شکست یا کامیابی کا نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے تاہم واضح کیا ہے کہ ذرائع کی بنیاد پر سامنے آنے والی اطلاعات پر حتمی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طویل عرصے سے نہیں ہوا اور آئندہ اجلاس میں پارٹی اپنی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی طے کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات سے متعلق پیپلز پارٹی کے سنجیدہ تحفظات ہیں جو مسلم لیگ ن کی قیادت کے سامنے رکھے جا چکے ہیں۔
قمر زمان کائرہ کے مطابق پیپلز پارٹی ماضی میں بھی سیاسی نظام سے اختلافات کے باوجود اسمبلیوں سے باہر نہیں گئی بلکہ نظام کے اندر رہتے ہوئے خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کبھی مکمل طور پر ایک صفحے پر نہیں تھیں اور سیاسی اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں جماعتیں ہر معاملے پر ایک جیسا مؤقف اختیار کریں۔
یہی مؤقف اس وقت پیپلز پارٹی کی ممکنہ حکمت عملی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بظاہر پارٹی فوری طور پر حکومت سے علیحدگی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے پہلے اپنے تحفظات کے ذریعے مسلم لیگ ن پر سیاسی دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔ اگر یہ دباؤ مذاکرات کے ذریعے ختم ہو جاتا ہے تو موجودہ اختلافات کسی بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہونے سے بچ سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، ان کے بعد معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ ان کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر آزاد کشمیر کے معاملے پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے اور اگر مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ آئے تو پیپلز پارٹی اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر سکتی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن اختلافات کو حکومتی اتحاد کے خاتمے کی علامت نہیں سمجھ رہی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام میں اختلاف رائے کو دشمنی یا لڑائی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں جماعتیں پہلے بھی مختلف معاملات پر بیٹھ کر مسائل حل کرتی رہی ہیں اور آئندہ بھی مذاکرات کے ذریعے اختلافات کم کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر حذیفہ رحمان نے بھی حکومتی اتحاد برقرار رہنے کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے بہت سے رہنماؤں کے ساتھ ذاتی اور سیاسی روابط موجود ہیں اور اگر کسی مخصوص معاملے پر کسی قسم کی پیغام رسانی محدود کرنے کی ہدایت دی گئی ہو تو وہ الگ بات ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان تمام رابطے ختم ہو چکے ہیں۔
حذیفہ رحمان نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوران بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر کو بھی انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق انتخابی مہم میں سیاسی مخالفین یا حکومت پر تنقید معمول کی سیاسی سرگرمی ہے اور انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی تلخی کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اسی دوران پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان مبینہ رابطوں نے صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ایک اعلیٰ شخصیت نے تحریک انصاف سے رابطہ کیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو موجودہ حکومتی اتحاد کے لیے یہ ایک اہم سیاسی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے اس رابطے کی تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
حذیفہ رحمان نے کہا کہ انہیں ایسے کسی رابطے کا علم نہیں، تاہم ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد کا حصہ برقرار رہے اور دونوں جماعتیں مل کر آگے بڑھیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے مطابق پیپلز پارٹی کے الگ ہونے کی صورت میں بھی حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں مطلوبہ عددی گنجائش موجود ہے۔ تاہم سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کو ساتھ رکھنا حکومت کے لیے زیادہ بہتر سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ایک بڑی اتحادی جماعت کی علیحدگی حکومت کے سیاسی استحکام پر سوالات اٹھا سکتی ہے اور اپوزیشن کو بھی ایک نیا سیاسی بیانیہ فراہم کر سکتی ہے۔
سینیئر تجزیہ کار عامر ضیا کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات پرانے ہیں اور دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی مفادات کا ٹکراؤ بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کو پنجاب کی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مسلم لیگ ن پر تنقید کرنا پڑتی ہے، لیکن دوسری جانب موجودہ سیاسی نظام میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہیں۔
ان کے خیال میں پیپلز پارٹی کے لیے مکمل طور پر حکومتی اتحاد سے نکلنا اس لیے بھی آسان نہیں ہوگا کہ اسے اپنی آئندہ سیاسی پوزیشن واضح کرنا پڑے گی۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب تحریک انصاف ایک بڑی مخالف سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے، پیپلز پارٹی کے لیے مسلم لیگ ن سے مکمل فاصلہ اختیار کرنے کے سیاسی اثرات کا اندازہ لگانا ضروری ہوگا۔
سینیئر تجزیہ کار عامر الیاس رانا کے مطابق بھی پیپلز پارٹی کے لیے حکومتی اتحاد سے فوری علیحدگی آسان فیصلہ نہیں۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت سے الگ ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی میں عددی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی، موجودہ حکومت پر اس کا کتنا اثر پڑے گا اور اگر کسی مرحلے پر نئے انتخابات کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کا فائدہ کس سیاسی جماعت کو ہوگا۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کے لیے بھی پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر الگ کر دینا سیاسی خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ حکومت کو اس وقت معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں ایک بڑی اتحادی جماعت کے ساتھ اختلافات کا بڑھنا حکومتی مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ پیپلز پارٹی فوری طور پر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بجائے اپنے پارلیمانی اور سیاسی وزن کو استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن پر دباؤ بڑھائے۔ اگر پارٹی حکومتی بلوں کی حمایت محدود کرتی ہے، قائمہ کمیٹیوں میں ترامیم پیش کرتی ہے اور بعض اہم معاملات پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کرتی ہے تو یہ اتحاد ختم کیے بغیر سیاسی فاصلے بڑھانے کی حکمت عملی ہوگی۔
دوسری طرف اگر مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع کرتی ہے اور آزاد کشمیر کے معاملے سمیت دیگر اختلافات پر کوئی قابلِ قبول فارمولا طے پا جاتا ہے تو موجودہ سیاسی بحران وقتی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں دونوں جماعتیں ایک نئے سیاسی سمجھوتے کے ساتھ حکومتی اتحاد جاری رکھ سکتی ہیں۔
تحریک انصاف کے ساتھ مبینہ رابطے اس پورے معاملے میں ایک اضافی پہلو ضرور پیدا کرتے ہیں، لیکن اسے فوری طور پر کسی نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ باضابطہ سیاسی صف بندی ایک بڑا فیصلہ ہوگا، جبکہ دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کے شدید سیاسی اختلافات بھی کسی بھی ممکنہ تعاون کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
اس وقت اصل فیصلہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کے آئندہ اجلاسوں میں متوقع ہے۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کی مشاورت کے بعد یہ زیادہ واضح ہوگا کہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے ساتھ کس حد تک چلنا چاہتی ہے، پارلیمان میں حکومت کو کتنا تعاون فراہم کرے گی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات کو موجودہ شکل میں برقرار رکھے گی یا کوئی نئی سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گی۔

 

عمران خان کی صحت پر سیاست ایک بار پھر عروج پر کیوں؟

فی الحال صورتحال کو حکومتی اتحاد کے خاتمے کے بجائے ایک بڑے سیاسی دباؤ اور مذاکرات کے مرحلے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے پاس حکومت سے علیحدگی کا آپشن ضرور موجود ہے، لیکن فوری طور پر اس راستے پر جانا اس کے لیے بھی سیاسی خطرات رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کے اجلاس، مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطے اور پی ٹی آئی سے مبینہ روابط ہی یہ طے کریں گے کہ موجودہ اختلافات محض سیاسی دباؤ تک محدود رہتے ہیں یا پاکستان کے موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں واقعی کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔

Back to top button