عمران خان کی صحت پر سیاست ایک بار پھر عروج پر کیوں؟

بینائی متاثر ہونے کے دعوے، ذاتی معالج سے معائنے کا مطالبہ اور حکومت کی جانب سے صحت مند ہونے کی یقین دہانی؛ عمران خان کی صحت کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت، خصوصاً ان کی بینائی سے متعلق تشویش نے ایک مرتبہ پھر ملکی سیاسی منظرنامے میں اہمیت اختیار کرلی ہے۔ عمران خان کے اہلخانہ اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ان کی صحت کے بارے میں مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات اور مکمل طبی معائنے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہوسکے۔
دوسری جانب حکومت ان خدشات اور افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ عمران خان صحت مند ہیں اور اڈیالہ جیل میں انہیں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق عمران خان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور اگر کسی علاج یا طبی طریقہ کار کی ضرورت ہو تو وہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی محمد خان نے اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی یہ دعویٰ نہیں کر رہی کہ عمران خان کی جیل میں طبیعت لازماً خراب ہے، تاہم میڈیا پر ان کی صحت کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آنے کے بعد حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورتحال کی باقاعدہ تصدیق کرائے۔ ان کے مطابق اس تصدیقی عمل میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔
علی محمد خان کے مطابق تحریک انصاف کا بنیادی مطالبہ کسی مخصوص سیاسی شخصیت کو عمران خان سے ملاقات کرانے کا نہیں بلکہ ان کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دینے کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر ایک مرتبہ مکمل طبی معائنہ کرلیں تو ان کی صحت کے بارے میں پارٹی، اہلخانہ اور عوام میں پائی جانے والی تشویش بڑی حد تک ختم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتی۔
ان کے مطابق پارٹی کے لیے عمران خان کی صحت سب سے اہم ہے اور اگر ان کی زندگی اور صحت محفوظ ہے تو ہی سیاسی سرگرمیوں کا کوئی مطلب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی بھی دعوے یا تردید کے بجائے ایک غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد طبی معائنہ سامنے آنا چاہیے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ نے عمران خان کی بینائی کے حوالے سے سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً 80 فیصد متاثر ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق یہ معلومات انہیں وکیل سلمان صفدر کے ذریعے ملیں، جنہوں نے عمران خان سے ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے متعلق شکایت کا ذکر کیا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ عمران خان کی بینائی واقعی کس حد تک متاثر ہوئی ہے۔
اسی وجہ سے پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھر حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ پارٹی کے مطابق اگر ذاتی ڈاکٹر عمران خان کا معائنہ کرلے تو نہ صرف بینائی سے متعلق دعوؤں کی حقیقت سامنے آ سکتی ہے بلکہ ان کی مجموعی صحت کے بارے میں بھی واضح صورتحال پیدا ہوگی۔
حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں اور افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں۔ انہوں نے بینائی سے متعلق دعوؤں کو بھی پروپیگنڈا قرار دیا اور کہا کہ جیل میں عمران خان کو ورزش سمیت ضروری سہولیات دستیاب ہیں۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق عمران خان کے لیے ورزش کا سامان بھی موجود ہے، جس میں آئرن راڈز، اسٹریچنگ بینڈز اور سائیکلنگ مشین شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کھانے کا انتظام بھی ان کی پسند اور ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے اور جیل میں انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کی صحت اور علاج پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق عمران خان کو جیل میں مستند ڈاکٹروں کی سہولت حاصل ہے اور مختلف اوقات میں ان کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر کسی خاص علاج یا طبی طریقہ کار کی ضرورت محسوس کریں تو وہ فراہم کیا جاتا ہے۔
احسن اقبال نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ عمران خان کی صحت کو بنیاد بنا کر سڑکوں پر احتجاج اور تصادم کی سیاست سے گریز کیا جائے۔ ان کے مطابق ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والی صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو ملکی معیشت اور دیگر قومی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی صحت اور بینائی ٹھیک ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق ماضی میں جب عمران خان کی آنکھوں سے متعلق شکایت سامنے آئی تھی تو ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد بھی ان کی آنکھوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا رہا ہے اور علاج کے نتیجے میں بینائی میں بہتری آئی ہے۔
یوں ایک ہی معاملے پر دو بالکل مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں اور اہلخانہ کو عمران خان کی صحت اور بینائی کے حوالے سے خدشات ہیں اور وہ ذاتی معالج سے مکمل معائنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ حکومت اور جیل ذرائع کے مطابق عمران خان صحت مند ہیں، ان کا طبی معائنہ باقاعدگی سے کیا جا رہا ہے اور انہیں ضرورت کے مطابق علاج بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس تنازعے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر عمران خان کی صحت واقعی تسلی بخش ہے تو ان کے ذاتی معالج کو ایک مرتبہ مکمل طبی معائنے کی اجازت دینے میں کیا رکاوٹ ہے؟ دوسری طرف اگر حکومت کے پاس سرکاری ڈاکٹروں کے معائنے اور رپورٹس موجود ہیں تو ان کے ذریعے صحت سے متعلق خدشات کو شفاف انداز میں دور کیوں نہ کیا جائے؟
درحقیقت عمران خان کی صحت کا معاملہ اب محض طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ سیاسی اعتماد کا سوال بھی بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی اسے شفافیت اور بنیادی حقوق کا معاملہ قرار دے رہی ہے جبکہ حکومت اسے سیاسی پروپیگنڈا سمجھتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی فریق کے دعوے سے زیادہ اہمیت ایک ایسے قابلِ اعتماد طبی معائنے اور شفاف رپورٹ کو حاصل ہوگی جو عمران خان کی صحت اور بینائی کے بارے میں موجود تمام سوالات کا واضح جواب دے سکے۔
پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی احتجاجی تحریک ناکام کیوں ہو گی؟
فی الحال حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی صحت اور بینائی سے متعلق پی ٹی آئی کے خدشات کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، جبکہ حکومت اور جیل حکام ان خدشات کو مسترد کر رہے ہیں۔ اس لیے اصل تنازع اب کسی ایک دعوے یا تردید کا نہیں بلکہ شفاف اور قابلِ اعتماد طبی تصدیق کا بن چکا ہے۔
