عمران ہوا میں کرپشن مخالف تیر چلانا کب بند کریں گے؟


عمران خان کی جانب سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت کو لوٹی گئی رقم واپس کرنے پر مہنگائی کی شرح میں کمی اور اشیائے خورو نوش کی قیمتیں نصف کرنے کی پیشکش پر ناقدین کا کہنا ہے کہ دونوں خاندانوں پر بنائے گئے سیاسی کیسز میں صرف پچاس ارب روپے کرپشن کا مدعا ڈالا گیا ہے لہذا سوال ہے کہ آخر کس طرح کپتان صرف پچاس ارب روپے سے مہنگائی کو پچاس فیصد کم کردیں گے؟ ناقدین کہتے ہیں کہ عمران ہوا میں کرپشن مخالف تیر چلانا بند کریں اور عملی طور پر کچھ کرکے دکھائیں۔
یاد رہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان یہ دعوی کیا کرتے تھے کہ وہ وزیر اعظم بن کر سو دنوں میں کرپشن کے ذریعے لوٹا گیا اربوں روپیہ ملک واپس لے آئیں گے اور ملکی معیشت کو سنوار دیں گے۔ تاہم اب انہوں نے اپنے دعوے کو عملی شکل پہنانے میں مکمل ناکامی کے بعد یہ موقف اپنایا لیا ہے کہ اگر شریف اور زرداری خاندان ملک سے باہر لے جایا گیا پیسہ واپس لے آئیں تو وہ خوردو نوش کی قیمتیں نصف کرنے دیں گے۔ تاہم پہلی بات تو یہ ہے کہ پچھلے تین سال میں عمران خان کی حکومت اور قومی احتساب بیورو زرداری اور شریف خاندان پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ دوسرا حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے وہ ثابت کر سکے کہ ان دونوں خاندانوں نے پچاس ارب روپے کی کرپشن کی۔ دوسری جانب یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں عمران کابینہ کے کئی وزراء کرپشن کے الزامات پر خود اپنے وزیر اعظم کے ہاتھوں فارغ ہوئے ہیں لیکن ان کے خلاف نیب نے کسی قسم کا کوئی کیس دائر نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ عمران کے دور حکومت میں کئی ہزار ارب روپے کی کرپشن ہو چکی ہے لہذا بہتر ہوگا کہ وہ اپنے کرپٹ وزرا کا احتساب کریں اور ان سے کرپشن کے ذریعے لوٹا گئی واپس نکلوا کر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں 50 فیصد کی فوری کی کر دیں۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سنیئر صحافی مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ عمران اور ان کی کابینہ کو کون سمجھائے کہ اب وہ پاکستان کے عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ لوگوں نے ان کا کرپشن کا منترہ بہت سن لیا۔ ان کو لانے والوں نے بھی بہت سن لیا۔ اب کارکردگی دکھانے کی باری ہے اور اس کے لئے بھی حکومت کے پاس زیادہ دن نہیں بچے۔ لوگ ان کی کارکردگی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ورنہ یہ رائے دن بدن مضبوط ہوتی جا رہی ہے کہ پرانے حکمران آپ سے بہت بہتر تھے۔ لوگ ضمنی الیکشن میں ان کو دوبارہ ووٹ اسی لیے ڈال رہے ہیں کہ کپتان حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور پاکستان میں اس وقت تاریخی مہنگائی ہو چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل ناکامی کے بعد اب وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں یہ پیشکش کی ہے کہ اگر دو خاندان لوٹی ہوئی رقم ملک واپس لے آئیں تو وہ اشیاء خورو نوش کی قیمتیں آدھی کر دیں گے۔ مزمل سہر وردی عمران خان کی اس پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس بات سے قطع نظر کہ شریف اور زرداری خاندان کے خلاف بنائے گے کیسز سچے ہیں یا جھوٹے، سوال یہ ہے کہ کیا ان کیسز کی مالیت اتنی ہے کہ ان کی ریکوری سے ملک میں اشیا خورو نوش کی قیمتیں آدھی ہو جائیں گی۔ انکے مطابق جب نواز شریف علاج کی غرض سے بیرون ملک جا رہے تھے، تب وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کی صدارت میں منعقدہ اپنے اجلاس میں یہ طے کیا تھا کہ اگر نواز شریف خود پر عائد جرمانے کی رقم کے برابر شورٹی بانڈزدے دیں تو انھیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں کیسز کا جرمانہ ملا کر ان پر کل ساڑھے پانچ ارب کا جرمانہ واجب الادا تھا۔ اس لیے حکومت پاکستان کا نواز شریف پر کل کلیم ساڑھے پانچ ارب کا ہے۔ اس میں بھی ابھی اپیل کی سماعت جاری ہیں، اور مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ کیا پتہ کل نواز شریف بری ہی ہو جائیں۔ لیکن حکومت پاکستان نواز شریف سے صرف ساڑھے پانچ ارب روپے مانگ رہی تھی۔ اسی طرح شہباز شریف اور ان کے خاندان پر جو منی لانڈرنگ کے کیسز بنائے گیلے ہیں ان میں کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ مزمل کہتے ہیں کا ٹی ٹی کا استعمال ہر کاروباری شخص کرتا رہا ہے۔ اس میں صرف شہباز شریف کے بچوں کو پکڑنا بھی ٹارگٹڈ احتساب یا انتقام ہی قرار دیا جارہا ہے۔لیکن پھر بھی اس ساری بات سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو شہباز شریف کے خاندان پر حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ کا 25ارب روپے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ اس طرح اگر شہباز شریف اور نواز شریف دونوں پر الزامات کی رقم کو جمع کر لیا جائے تو یہ تیس ارب روپے سے زیادہ نہیں ہے۔ حکومت ابھی تک اس سے زیادہ کیس ہی نہیں بنا سکی، اس لیے شریف فیملی پر کل تیس ارب روپے کا الزام ہے۔
مزمل سہروردی آصف زرداری کے خاندان پر کرپشن الزامات کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ان پر بھی جعلی اکائونٹس کیس میں کل کلیم بیس ارب روپے سے زائد نہیں ہے۔ اس کیس میں زرداری ابھی ریفرنس کا سامنا کر رہے ہیں اور ابھی تک ان کے خلاف الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت اور نیب نے اب تک ان دونوں خاندانوں پر کل پچاس ارب سے زائد کرپشن کے مقدمات دائر کیے ہیں۔
مزمل سہر وردی کہتے ہیں کہ میں ان مقدمات کے سچے اور جھوٹے ہونے کی بحث میں نہیں جانا چاہتا۔ میں وزیر اعظم کی اس بات پر تجزیہ کر رہا ہوں کہ اگر دونوں خاندان خو پر عائد کرپشن کے الزامات کی تمام رقم واپس کر دیں تو ہمارے محبوب وزیر اعظم اشیاء خورو نوش کی قیمتیں آدھی کر دیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ملک بھر میں اشیا خورو نوش کی قیمتیں آدھی کرنے کی راہ میں صرف پچاس ارب روپے ہی رکاوٹ ہیں۔ کیا اگر یہ پچاس ارب روپے مل جائیں توساری مہنگائی ختم ہو جائے گی۔ مزمل کے بقول یہ تو مراد سعید والی بات ہی ہے کہ جس دن تحریک انصاف اقتدار میں آئے گی بیرون ملک بینکوں میں موجود پاکستانیوں کا دو سو ارب ڈالر واپس لا ئے گی۔ اس میں سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر مارے گی اور سو ارب ڈالر سے ملک کے تمام مسائل حل کر دے گی۔ بعد ازاں جب اقتدار میں آنے کے بعد تحریک انصاف کے ذمے داران سے پوچھا گیا کہ بھا ئی آپ وہ دو سوا رب ڈالر واپس کیوں نہیں لا رہے۔ اس میں سو ارب ڈ الر آئی ایم ایف کے منہ پر ماریں اور سو ارب ڈالر سے دودھ اور شہد کی نہریں چلا دیں ۔ تو وہ معصوم سے منہ بنا کر کہتے کہ ایسے دو سو ارب ڈالر کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے، واپس کہاں سے لائیں۔ لہذا وزیر اعظم کو بھی سوچ سمجھ کر گفتگو کرنی چاہیئے۔

Back to top button