عوام کی اذیتوں کی جعلی حکومت اور سلیکٹرز کو کوئی پروا نہیں

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عوام کو پہنچنے والی اذیتوں کی جعلی حکومت اور سلیکٹرز کو کوئی پروا نہیں، بجلی مزید مہنگی کردی، آپ غریب عوام پر ظلم کے اور کتنے پہاڑ توڑیں گے؟
انہوں نے ٹویٹرپر اپنے بیان میں کہا کہ سنگدل وزیراعظم اور اس کے سیلیکٹرز جواب دیں کہ آپ غریب عوام پر ظلم کے اور کتنے پہاڑ توڑیں گے؟ انہوں نے کہا کہ آج بجلی مزید مہنگی کرکے آپ نے غربت و مہنگائی تلے کچلےعوام پر وہ بوجھ کیوں ڈال دیا جسے برداشت کرنے کی وہ سکت نہیں رکھتے؟ دکھی عوام کو پہنچنے والی اذیتوں کی جعلی حکومت اور سلیکٹرز کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔


واضح رہے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں مزید ایک روپیہ 6 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی اکتوبر اور نومبرکی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے اس کا اطلاق صرف جنوری کے مہینے کے بلوں پر ہوگا۔ آئی پی اے نیوز ایجنسی کے مطابق بجلی مہنگی کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن صارفین پر ہوگا۔
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی نہیں ہوگا۔ قبل ازیں دسمبر2020 میں بھی بجلی 1 روپے 11پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی تھی. خیال رہے کہ ماضی میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مہنگی بجلی پیدا ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے سفارش کی تھی کہ پرانے پاور پلانٹس کو بند کردیا جائے نیپرا کی رپورٹ میں بجلی کے ترسیلی نظام کو ناقص قرار دیا اور کہا کہ اور پلانٹس کو مکمل صلاحیت پرنہ چلانے سے مہنگی بجلی پیدا ہوتی ہے. نیپرا رپورٹ میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ سے صارفین کا بجلی کمپنیوں پر اعتماد کم ہورہا ہے رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ زیادہ ایفی شینسی والے پاور پلانٹس کو ترجیح دی جائے اور پرانے پاور پلانٹس کو بند کردیا جائے۔ادھر سوشل میڈیا پر عوام بجلی قیمتوں میں اضافے پر سخت غصے کا اظہار کررہے ہیں کچھ صارفین نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ حکومت دو دن تک بجلی کی بندش سے عوام نے جو بجلی استعمال ہی نہیں کی اس کی قیمت وصول کررہی ہے جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے حکومت اوروزارت پانی وبجلی کی نااہلی سے ٹرانسمیشن لائنزاور پاور ہاﺅسزکو پہنچنے والے نقصانات کا”جرمانہ“عوام سے وصول کررہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button