غیر ملکی ایجنسیوں کا نیب کو معلومات فراہم کرنے سے انکار

بین الاقوامی دنیا نے قومی احتساب بیورو پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔ نیب کے اندرونی ذرائع کے مطابق موجودہ چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب کے اوورسیز ونگ نے 50 سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے بیرون ملک خفیہ بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی تفصیل حاصل کرنے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کی ایجنسیوں کو خطوط لکھے تھے لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور پچاس میں سے صرف پانچ خطوط کے جواب آئے۔
نیب ذرائع کے مطابق ان خطوط کا مقصد مبینہ کرپشن سے مال بنانے والوں کی بیرون ملک جائیدادوں اور اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنا تھا لیکن یہ مقصد پورا نہیں ہو پایا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ نیب نے مختلف ممالک سے کرپشن میں ملوث سات ملزمان کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا تھا لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ مختلف ممالک کی ایجنسیوں اور اعلی حکام کو خط نیب کی اوورسیز ونگ کی جانب سے روانہ کیے گئے تھے جو کہ 1999 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد کرپشن کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون حاصل کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق تمام پچاس خطوط لکھتے ہوئے نیب کی اوورسیز ونگ نے پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ طے ہونے والے میوچل لیگل اسسٹنس یا باہمی قانونی امداد کے معاہدوں کا حوالہ دیا تھا لیکن ان میں سے 90 فیصد خطوط ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگئے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایجنسیوں کے عدم تعاون کی بنیادی وجہ احتساب بیورو کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالیہ نشان ہیں خصوصا نیب کے بارے میں روزبروز گہرا ہوتا یہ تاثر کے اس ادارے کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت وقت اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button