فارن فنڈنگ کیس، وزیر اعظم نے آخری پتہ بھی کھیل دیا

تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس مزید لٹکانے کے لیے تمام حربے ناکام ہو جانے کے بعد اب وزیراعظم عمران خان نے بطور پارٹی سربراہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر کا اب پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں لہذا اسے پی ٹی آئی رکن قرار دینے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں پی ٹی آئی قیادت کیخلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
اب وزیراعظم عمران خان نے بطور پارٹی سربراہ فارن فنڈنگ کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کی پارٹی رکنیت سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر 4 دسمبر کو خلاف قانون آرڈر پاس کیا حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں سپریم کورٹ نے قوائد طے کر دیئے تھے کہ قانون کی نظر میں الیکشن کمیشن کوئی عدالت یا ٹریبونل نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اکبر ایس بابر کا 2011 سے تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ، انہیں نکالنے سے پہلے شو کاز نوٹس جاری کئے گئے اور پھر انہیں پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا۔ عمران خسن کے مطابق اکبر ایس بابرنے پی ٹی آئی چھوڑنے کی ای میل بھی کی جو ریکارڈ پر موجود ہے، لہذا الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ میں اکبر ایس بابر کی فارن فنڈنگ کے حوالے سے درخواستیں بدنیتی پر مبنی ہیں۔ عمران خان کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے کیس میں متاثرہ فریق نہیں، اس لیے الیکشن کمیشن کو کیس سننے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس انکوائری کمیٹی کے پاس زیر التوا ہے، ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے متنازع حقائق پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ امکا۔موقف ہے کہ ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے الیکشن کمیشن کے اختیارات سے تجاوز کو نظر انداز کیا اور پی ٹی آئی کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے مبہم اور غیر ضروری حکم جاری کیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن اور اکبر ایس بابر کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی ہے کہ ہائی کورٹ کا4 دسمبر کا فیصلہ خلاف قانون ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ اکبر بابر کی پی ٹی آئی رکنیت کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے. پاکستان تحریک انصاف کے سابق نائب صدر اکبر ایس بابر نے سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے درخواست دائر کررکھی ہے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار کی مسلمہ حیثیت کو چیلنج کیا تھا کہ انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا تاہم ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کردی تھی.
فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002 کے مطابق شق 15 کا استعمال کرتے تحریک انصاف کو بطور جماعت کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل 61 اور 62 بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف اگر اس کیس میں خود کو کلیئر نہ کروا سکی تو نہ صرف بطور جماعت اس کا وجود ختم ہو جائے گا بلکہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی، قومی اور سینیٹ بھی اپنے عہدوں سے فارغ ہوجائیں گے اور یوں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے آرٹیکل 13 کے تحت مالی سال کے اختتام سے 60 روز کے اندر الیکشن کمیشن میں بینک اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا مجاز ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی گئی ہیں اور کوئی بھی فنڈ کسی ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو سرٹیفکیٹ جمع کروایا گیا اس میں اس بات کو چھپایا گیا ہے تحریک انصاف کو کس کس ذرائع سے پارٹی فنڈز ملے گی۔ پارٹی کے فنڈز کے ذرائع ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 61 اور 62 کوئی بھی اتھارٹی استعمال کر سکتی ہے چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ.
