دانش جانتا تھا سکون صرف قبر میں ہے

مشہور ڈرامہ سیریل ‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط مداحوں کی بے چینی کو دوبھر کرنے کے بعد نشر کی گئی اور ‘ختم بھی ہوگئی’ جس پر سوشل میڈیا میں مختلف انداز میں اپنے جذبات اور ردعمل کا اظہار میمز کے ذریعے کیا گیا۔
معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر کی تخلیق میرے پاس تم ہو کو نجی ٹی وی ‘اے آر وائی ڈیجیٹل’ کی جانب سے پیش کیا گیا جو نہ صرف پاکستان بلکہ ملک سے باہر بھی مقبول ہوا جبکہ آخری قسط کو بڑے شہروں میں سینما گھروں میں بھی دکھایا گیا۔
میرے پاس تم ہو کی آخری قسط کے حوالے سے بڑا سسپنس پیدا کیا گیا تھا لیکن آخری قسط کے نشر ہونے کے بعد مداحوں نے سوشل میڈیا نکتہ چینی کا نشانہ بھی بنایا اور مختلف میمز بھی بنائیں لیکن ڈرامے کے کرداروں اور مکالموں کی تعریف بھی کی گئی۔
خیال رہے کہ ‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط کو روکنے کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا گیا تھا لیکن عدالت نے اس حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کردیا تھا۔
‘میرے پاس تم ہو’ ڈرامے کو مداحوں کی جانب سے پسند کیا گیا تھا لیکن بعض خواتین نے اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی اور لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اس ڈرامے کی آخری قسط پر پابندی لگوانے کے لیے عدالت تک پہنچ گئی تھیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی ماہم جمشید نامی خاتون نے اپنے وکیل کے توسط سے سول کورٹ میں ڈرامے کی آخری قسط کو نشر ہونے سے روکنے کے لیے درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ماہم جمشید کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ آخری قسط آج ہی نشر ہوگی۔
خاتون نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ ڈرامے میں خواتین کی تضحیک کی گئی اور انہیں منفی کردار میں دکھا کر سماج میں خواتین کی غلط عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی۔
ان کے وکیل ماجد چوہدری نے درخواست میں پیمرا قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پہلی بار پاکستان میں کسی ڈرامے کی آخری قسط کو بڑے پردے پر بھی دکھائے جانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔
خاتون نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ ڈرامے نے پاکستانی خواتین میں مثبت خیالات پیدا نہیں کیے بلکہ ڈرامے کے ذریعے ‘زن بیزاری’ کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
درخواست میں خاتون نے ڈرامے کے لکھاری خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے خواتین کے حوالے سے دیے گئے متنازع بیانات کا بھی ذکر کیا تھا۔
عدالت میں سماعت کے دوران ڈرامے کی پروڈکشن ٹیم اور چینل کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں عرفان اکرم اور وقاص احمد عزیز عدالت میں پیش ہوئے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈرامے میں خواتین کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈراما معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کے عمل کے خلاف بنایا گیا۔
سول عدالت کی جج نائلہ ایوب نے خاتون درخواست گزار کے اعتراضات کو مسترد کردیا اور اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈرامے کی تمام اقساط ٹیلی ویژن پر نشر کی گئیں جبکہ آخری قسط سینما گھروں میں پیش کی جائے گی اور سنسر بورڈ نے اس کے لیے کلیئرنس سرٹیفیکیٹ بھی جاری کردی ہے۔
مداحوں نے ٹویٹر میں ڈرامے کی آخری قسط میں مرکزی کردار دانش کی دل کا دورہ پڑنے سے موت پر میمز بنائیں اور ایک صارف نے وزیر اعظم عمران خان کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘دانش نے وزیر اعظم کا پیغام صحیح سمجھا، سکون صرف قبر میں ہے’۔
Haven't seen a single episode but through the Breaking News was informed about Danish's death. May he RIP.#MerayPaasTumHo pic.twitter.com/sKIHp8OivG
— Safi Saif (@safisaif19) January 25, 2020
ڈرامے میں ہمایوں سعید کی اداکاری کو بھی سراہا گیا اور ان کے مکالموں کی ادائیگی کو بھی بہترین قرار دیا گیا۔
Danish dialogues with Mehwish & Rumi Were outstanding , Danish Character calmness , Love , loyalty everything was so awesome
Of course Such men can only seen in Dramas
Power of his awesome character makes us cry 💔
Humayun ne mehfil loot li #MerePassTumHo #میرے_پاس_تم_ہو— SyeDa (@IAmNaQvian) January 25, 2020
آخری قسط میں مرکزی کردار کو مداحوں نے نشانہ بنایا۔
danish tamoor after danish death#MerayPaasTumHo pic.twitter.com/yfol0MtAGn
— Shahzad Tanoli (@bhaya_69) January 25, 2020
مداحوں نے ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر پر بھی میمز بنائیں اور آخری قسط کے حوالے سے اپنے غصے کا اظہار کیا۔
Pakistanis Going to Khaleel Ur Rehman House after watching ending… 😂😂😂#MerayPaasTumHo pic.twitter.com/wcZcztpihQ
— 𝒮𝓎𝓂𝒶 𝒮𝒽𝑒𝒾𝓀𝒽 (@syma_sheikh) January 25, 2020
سینما میں ڈرامے کی آخری قسط دیکھنے والے مداحوں کو میمز کا موضوع بنایا گیا۔
People after watching last episode of #MerayPaasTumHo in cinema. pic.twitter.com/kthKcCQ1Ll
— Faizan Mirza (@faizanmirza_) January 25, 2020
ٹویٹر صارفین نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ‘میرے پاس تم ہو’ کا پوسٹر لیے مداحوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔
Picture of the day.😂😍#MerayPaasTumHo Is Everywhere😂🤣😍#PAKvBAN😍 pic.twitter.com/EYpzuVq872
— Wajahat Haider (@WajahatHaider10) January 25, 2020
کئی صارفین نے آخری قسط پر کڑی نکتہ چینی کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے اپنا وقت اور سینما جاکر پیسے ضائع نہ کیے اور میمز بنا کر دانش کی موت کا مذاق اڑایا۔
Mtlb had hi kr de
Shukar maney 2 takky ke ending pr
Apney 50 million ky 600 rupy waste nhi keye 😂#MerayPaasTumHo pic.twitter.com/4c5n58U3UC— Namal Khan 🇵🇰 (@NamalKh04001620) January 25, 2020
ایک صارفین نے لکھا کہ ‘میرے پاس تم ہو کے بعد یہ قوم کیا کرے گی۔’
Point to be noted 👇👇👇😂😂😂😂😂😂#MerayPaasTumHo pic.twitter.com/F9K7ajjsU6
— Sarfaraz Ahmed 🇵🇰 (@Xfprofessor) January 25, 2020
ڈرامے کے ایک مداح نے لکھا کہ ‘ایسے کون مرتا ہے بھائی’۔
Mean While Doctors On Danish Death from #MerayPaasTumHo .. AESAY KON MARTA HAY BHAI ??#میرے_پاس_تم_ہو pic.twitter.com/wOtvHUJxRE
— A.Munim Alvi🦁 (@AlviMunem) January 25, 2020
ڈرامے کی آخری قسط میں مرکزی کردار دانش نے اپنی سابقہ بیوی مہوش سے ملنے کا فیصلہ کیا اور اپنے پرانے فلیٹ میں چلے گئے جہاں مہوش مقیم تھیں اور وہی انہیں دل کا دورہ پڑا جس پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دانش نے ہسپتال میں دم توڑ دیا جبکہ انہوں نے رومی کے کہنے پر ہانیہ کی انگوٹھی ان کے حوالے کی تھی جو رومی نے یہ کہتے ہوئے واپس کی کہ ‘پاپا نے وعدہ کیا ہے کہ خواب میں آئیں گے’، اس موقع پر مہوش بھی ہسپتال میں موجود تھیں۔
