فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد، کیا مسئلہ حل ہو گیا؟

وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ طے کیے گئے معاہدے کے تحت قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے معاملے پر قرار داد پیش کر دی ہے۔
قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی امجد علی خان کی جانب سے منگل کو پیش کی گئی قرار داد کے مطابق فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے حوالے سے ایوان میں بحث کی جائے جب کہ تمام یورپی ممالک بالخصوص فرانس کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق حکومت نے پارلیمان میں قرارداد پیش کرکے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ کیا معاہدہ پورا کر دیا ہے اور تناؤ کا ماحول ختم ہوگیا ہے۔ پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے کہا کہ کسی بھی قرارداد کی قانونی حیثیت ایک سفارش کی ہوتی ہے۔ عمومی طور پر اس قسم کی قرارداد اس وقت پیش کی جاتی ہیں جب حکومت کو کسی نازک مسئلے کا سامنا ہو اور وہ فیصلہ کرنے میں ’ڈبل مائنڈڈ‘ ہو۔ حکومتَ وقت یہ ذمہ داری پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر لینا چاہتی ہے تاکہ اس کی ساری ذمہ داری حکومت پر نہ پڑے بلکہ تمام منتخب نمائندوں کا سہارا لینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو پیش کی گئی قرارداد کا بھی مقصد یہی ہے کہ حکومت اپنے فیصلے کو مضبوط کرنے کےلیے پارلیمنٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ پارلیمان کو اب تھوڑا سا وقت بھی مل گیا ہے تاکہ متفقہ طور پر کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔ قرارداد متفقہ طور پر یا اکثریت سے منظور ہونے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے احمد بلال محبوب نے کہا کہ کوئی بھی قرارداد متفقہ یا اکثریتی رائے سے منظور کرلی جائے تو حکومت قانونی طور پر اس پر عملدرآمد کرنے کی پابند تو نہیں ہے لیکن اخلاقی طور پر حکومت کے پاس قرارداد پر عملدرآمد کرنے کے علاوہ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ اگر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے بجائے اس مسئلے پر کوئی اور متفقہ لائحہ عمل تیار کرلیا جاتا ہے تو یہ حکومت کی اخلاقی فتح ہوگی کہ ہم تو پہلے کہتے تھے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ سینیئر تجزیہ کار امتیاز گل نے کہا کہ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ ایک اچھی قرارداد ہے جو صرف اسی صورت میں موثر ثابت ہوسکتی ہے جب تمام جماعتیں متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جماعت اس مذہبی معاملے پر سیاست کرے تو نہ یہ ان کےلیے اچھا ہوگا نہ ہی پاکستان کےلیے بہتر ہوگا۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جو قرارداد پیش کی گئی اس سے پہلے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا بیان آیا جس میں کہا گیا تھا کہ 20 اپریل کو ہم فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے قراردار قومی اسمبلی میں پیش کریں گے اور تحریک لبیک دھرنا ختم کرے گی۔ لیکن قومی اسمبلی میں جو قرارداد پیش کی گئی ہے اس میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدری کے حوالے سے بحث کی بات کی گئی ہے جب کہ فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ حامد میر نے کہا کہ میرے ذرائع کے مطابق حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ تحریک لبیک پر عائد پابندی برقرار رہے گی جب کہ انہیں اب رعایتیں نہیں دی جائیں گے اور اس معاملے پر یوٹرن نہیں لے گی۔ اس قرارداد سے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے سخت بات کرنے کے بجائے سفارتی زبان استعمال کر کے درمیانی بات کی ہے۔
