فلم ’’جوائے لینڈ‘‘ کی آسکر نامزدگی خطرے میں کیوں؟

مخنث افراد پر بنائی گئی عالمی ایوارڈ یافتہ فلم ’’جوائے لینڈ‘‘ کی پاکستان میں نمائش پر پابندی کے بعد اس فلم کی آسکر کے لیے نامزدگی کھٹائی میں پڑ گئی ہے، فلمی حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں نمائش پر پابندی فلم کو آسکر نامزدگی سے محروم کر سکتی ہے۔ شوبز ویب سائٹ ’ورائٹی‘ نے ’جوائے لینڈ‘ کی ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسے کسی دوسرے ملک میں ریلیز کیا جائے گا تاکہ فل ’آسکر‘ نامزدگی کے لیے اہل ہو سکے۔ فلم بنانے والوں کی کوشش ہے کہ ’جوائے لینڈ‘ کو 30 نومبر سے قبل فرانس کے سینما گھروں میں دکھایا جائے۔ یاد رہے کہ ’آسکر‘ ایوارڈز کی نامزدگی کے لیے ’غیر ملکی زبان‘ کی کیٹیگری والی فلم کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ اسے امریکا اور اس کی آزاد ریاستوں کی حدود کے علاوہ کسی ملک میں کم از کم 7 دن تک سینما گھروں میں پیش کیا جائے، ’آسکر‘ کی ’غیر ملکی فلم‘ کی کیٹیگری کی نامزدگی کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ فلم کو اپنے ملک میں لازمی ریلیز کیا جائے۔
آسکر ایوارڈ کے قواعد کے مطابق جس غیر ملکی فلم کو امریکا کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک میں سات دن تک سینما گھروں میں پیش کیا جائے، وہ غیر ملکی زبان کی کیٹیگری کی نامزدگی کی اہل ہوگی، البتہ ’آسکر‘ قواعد کے مطابق بہترین فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے فلم کو لازمی طور پر امریکا یا اس کی آزاد ریاستوں کی حدود میں سینما گھروں میں 7 دن تک نمائش کے لیے پیش کرنا لازمی ہے۔ یاد رہے کہ ’جوائے لینڈ‘ کو پاکستان کی آسکر اکیڈمی نے ستمبر میں ایوارڈ کے لیے منتخب کیا تھا، تب وفاقی فلم سینسر بورڈ سمیت سندھ اور پنجاب کے فلم سینسر بورڈز نے اسکی نمائش کی اجازت دی تھی تاہم مرکزی فلم سینسر بورڈ نے اچانک نمائش سے ہفتہ قبل 12 نومبر کو پابندی عائد کر دی تھی۔ مرکزی فلم سینسر بورڈ نے 12 نومبر کو ’جوائے لینڈ‘ کو اگست میں جاری ہونے والا اجازت نامہ منسوخ کرتے ہوئے اسے معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دیا اور بتایا کہ فلم کو پاکستان کے سینما میں ریلیز نہیں کیا جا سکتا۔ فلم کی نمائش پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے 15 نومبر کو ’جوائے لینڈ‘ کے خلاف دائر شکایات کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جس نے فلم کے مواد کا جائزہ لینے کے بعد اسے ریلیز کی اجازت دینے کا ذہن بنالیا ہے۔
خیال رہے کہ ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینہ خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔ ’جوائے لینڈ‘ کو پاکستان بھر میں رواں ماہ 18 نومبر کو ریلیز کیا جانا تھا، فلم کی کہانی ایک نوجوان اور ٹرانس جینڈر کے گرد گھومتی ہے جو کہ ڈانس کلب میں ملازمت کے دوران ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اسی فلم کو کانز فلم فیسٹیول میں ’کانز: کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ خصوصی طور پر ہم جنس پرست یا پھر مخنث افراد کی کہانیوں پر مبنی فلموں کو دیا جاتا ہے، علاوہ ازیں حال ہی میں فلم کے اداکار علی جونیجو کو ساؤ پولو فلم فیسٹیول میں بھی بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔
