ہم جنس پرستی پر بنی فلم ’’جوائے لینڈ‘‘ کو کلئیرنس کیسے ملی؟


فلم سینسر بورڈ کی جائزہ کمیٹی کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ’’جوائے لینڈ‘‘ کو پاکستان بھر میں نمائش کی اجازت دے دی گئی ہے، حالانکہ پہلے اسے ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کا الزام لگا کر نمائش کے لیے ناموزوں قرار دے دیا گیا تھا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پہلے سنسر بورڈ نے فلم کی ریلیز روکتے ہوئے جو اعتراض لگایا تھا کیا وہ جائز تھا؟ اگر اعتراض جائز تھا تو پھر ریلیز کی اجازت کیسے مل گئی؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر پہلا اعتراض جائز نہیں تھا تو پھر فلم کی ریلیز کیوں روکی گئی؟

وزیراعظم کے سٹریٹجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی نے بتایا کہ سینسر بورڈ نے جائزہ کمیٹی وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی تھی جس نے جوائے لینڈکو ریلیز کے لیے کلیئر کر دی ہے۔ تاہم جائزہ کمیٹی نے یہ نہیں بتایا کہ سنسر بورڈکی جانب سے پہلے لگایا گیا اعتراض کیسے ختم ہو گیا؟ یاد رہے کہ پاکستان میں ریلیز سے تقریباً ایک ہفتہ قبل اس فلم پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔کیونکہ جوائے لینڈ نے مختلف بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں نامزدگیاں حاصل کی تھیں لہٰذا اس کی ریلیز روکنے پر ملک بھر میں شور مچ گیا تھا جس کے بعد وزیراعظم نے جائزہ کمیٹی تشکیل دے دی۔ کمیٹی کو جوائے لینڈ پر دائر اعتراضات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی جس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے لگائے گئے اعتراضات شاید جائز نہیں تھے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے جائزہ کمیٹی بنانے کے بعد سینسر بورڈ دباؤ کا شکار ہوگیا اور فلم ریلیز کرنے کی اجازت دے دی۔

خیال رہے کہ کانز فیسٹول میں ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی فلم ہونے اور عالمی میلوں میں کئی ایوارڈز حاصل کرنے سمیت آسکر کے لیے نامزدگیوں میں شمار ہونے کے باوجود ’جوائے لینڈ‘ کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی تھی کیونکہ اس میں ہم جنس پرستی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مرکزی فلم سینسر بورڈ نے ’جوائے لینڈ‘ کو جاری کیا گیا اجازت نامہ منسوخ کرتے ہوئے اسے معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ فلم کو پاکستان کے سینما میں ریلیز نہیں کیا جا سکتا، ’جوائے لینڈ‘ پراس پابندی کے نتیجے میں ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا، متعدد مشہور شخصیات نے بھی اس حوالے سے آواز اٹھائی اور حکام سے جوائے لینڈ کو ریلیز کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ فلم کی کاسٹ اور عملے کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس فلم کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے، فلم کے ہدایت کار صائم صادق نے فلم سینسر بورڈ کی جانب سے اجازت نامہ منسوخ کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے فلم کی نمائش پر پابندی لگانے پر اظہار افسوس کیا تھا۔

Back to top button