فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے ہٹنے کا وقت آن پہنچا

معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ نظام کے تحت چلنے والی حکومت نے پاکستان کے حالات اس قدر دگرگوں کر دیے ہیں کہ اب تو اپوزیشن جماعتیں بھی ایوان کے اندر تبدیلی لانے کی بجائے نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب موجودہ ہائبرڈ نظام کی خالق فوجی اسٹیبلشمنٹ اس وقت آنکھ مچولی میں مصروف ہے۔ وہ اپنی انا کی جنگ میں کبھی ایک قدم پیچھے ہٹتی یے اور کبھی ایک قدم آگے بڑھتی ہے۔ لیکن بظاہر وہ تسلیم کر چکی یے کہ اسکا تبدیلی پراجیکٹ مکمل طور پر ناکام ہوا ہے۔ یہ بھی تسلیم کیا جا چکا ہے کہ اپوزیشن اور خصوصا ن لیگ کے ساتھ بات چیت ضروری مگر اپنی شرائط پر۔ عاصمہ کہتی ہیں کہ ایسی صورتحال میں مسئلے کا حل تب ہی نکلے گا جب طاقت ور حلقے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ دو قدم پیچھے ہٹنے سے اگر مسائل حل ہوتے ہیں اور دو قدم آگے بڑھنے سے سیاسی نظام کو استحکام ملتا ہے تو کیا بُرا ہے۔ ویسے بھی اب دو قدم آگے اور دو قدم پیچھے ہوتی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو فیصلہ تو کرنا ہی پڑے گا۔
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ہر گزرتا دن اور گزرتی گھڑیاں کھیل کی شرائط تبدیل کر رہی ہیں اور ہر حال میں بازی جیتنے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ تین سال کی ریاستی پالیسیوں نے سیاسی جماعتوں کو ہار اور جیت سے کسی حد تک بالاتر کر دیا ہے۔ پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے اور اب بند باندھنا ہی اصل امتحان ہے کہ انا بھی برقرار رہے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی ناکامی کا ملبہ سیاسی حکومت پر ہی گرے۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ہر گُزرتے دن کے ساتھ عوام کی سوچ بدل رہی ہے۔اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کی جنگ لڑنے والے عوام اب تھک رہے ہیں۔ بند کمروں میں کی جانے والی باتیں چوک چوراہوں میں ہو رہی ہیں۔ لاکھ موضوع بدلیں تبدیلی کی ناکامی کا ذمہ دار صرف تحریک انصاف کو ہی نہیں بلکہ اسے برسراقتدار لانے والی اسٹیبلشمنٹ کو بھی ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ایسے میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کے غم اور غصے کا تدارک نہ ہوا تو عوام پھٹ پڑیں گے۔ مایوسی سے نکلنے کی واحد مشق عوام کے ووٹ کا استعمال ہے جس کا مظاہرہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات سے لگایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حالات عام انتخابات کی جانب ہی بڑھ رہے ہیں، اگر جواب ہاں میں ہے تو کیسے؟
عاصمہ کے مطابق تبدیلی حکومت نے پاکستان کا اتنا برا حال کردیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی اب ان ہاؤس تبدیلی کی خواہاں دکھائی نہیں دیتی۔ ان کا مطالبہ نئے اور شفاف انتخابات کا ہے۔ تو کیا حکومت خود انتخابات کا اعلان کرے گی؟ اگر ایسا نہ ہوا تو کیا اپوزیشن کے پاس آخری آپشن احتجاج ہی ہے؟ عاصمہ کہتی ہیں کہ طاقت ور حلقوں کو اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ اس کے ہائیبرڈ سسٹم آف گورننس نے حکومت کے ساتھ پاکستان کو بھی ناکامی سے دوچار کر دیا ہے۔ دودری جانب تحریک انصاف ناکامی کی پوری ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، لیکن آدھی ناکامی کس کے حصے میں ہے اس پر بھی بات کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔ ایسے میں کپتان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک دوسرے سے وابستہ مفادات اب پس منظر میں جاتے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ طاقتور حلقے آئندہ کا خاکہ بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس بار اُن کو وہی کندھے دستیاب ہیں جو ہمیشہ ہوتے تھے، سر دست جواب نہیں میں ہے۔
عاصمہ شیرازی کے خیال میں اہم ترین سوال اختیار اور انتخاب کے درمیان وقت کے تعین کا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے. تحریک انصاف کی افسوس ناک کارکردگی نے جہاں آپشنز کو محدود کیا ہے وہیں پر ’نئے انتخاب‘ کے لیے وقت بھی محدود کر دیا ہے۔ معاشی صورتحال قوم کو نا اُمید کر رہی ہے اور قرضوں کی ریشمی ڈور آہستہ آہستہ قومی مفادات کو جکڑتی جا رہی ہے۔ ایک جانب بین الاقوامی سطح پر دباؤ تو دوسری جانب ایک عالمی کیمپ سے دوسرے میں جانے کی کوشش، افغانستان کے بڑھتے مسائل، آنے والے دنوں میں امن و امان کو لاحق خطرات۔۔۔ خطے میں نئی گیم کے اصول طے ہو رہے ہیں ایسے میں مسائل سے نکلنے کے لئے حالات قومی سطح پر یکجہتی اور صحیح معنوں میں عوامی نمائندگی کے متقاضی ہیں۔ موجودہ قیادت بہر حال اس سے نمٹنے میں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔
دوسری جانب عاصمہ شیرازی کے بقول نواز شریف کسی صورت اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، آصف زرداری بھی موجودہ حکمرانوں کی ’چھٹی‘ کروانے تک مفاہمت پر رضامند نہیں۔ مولانا فضل الرحمان جس بیانیے پر کھڑے ہیں عوام نے بلدیاتی انتخابات میں اُس کی حمایت کر دی ہے۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو دن بہ دن تقویت مل رہی ہے۔ عوامی طاقت کے لیے پی ڈی ایم 23 مارچ کو اسلام آباد کا رُخ کرے گی، بالآخر پیپلز پارٹی اور اے این پی کو بھی عوامی دباؤ کے تحت احتجاج کا ہی آپشن اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر حزب اختلاف عوامی دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو عام انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں کو کس حد تک جگہ دے گی، یہ دیکھنا اہم ہو گا۔ طاقت ور حلقوں کو اپنی جگہ سے پیچھے قدم ہٹانا پڑیں گے۔ بقول عاصمہ شیرازی، دو قدم پیچھے ہٹ جانے سے مسائل حل ہوتے ہیں اور دو قدم آگے بڑھنے سے سیاسی نظام کو استحکام ملتا ہے تو کیا بُرا ہے۔ دو قدم آگے دو قدم پیچھے ہوتی اسٹیبلشمنٹ کو فیصلہ تو اب کرنا پڑے گا۔
