فوج پر حملے کے بعد عمران کی یو ٹرن لینے کی کوشش ناکام


سابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک تقریر میں میر جعفر قرار دینے کے بعد ملک گیر ردعمل کے باعث حسب معمول یوٹرن تو لے لیا ہے لیکن لوگ ان کا یہ موقف ماننے کو تیار نہیں کہ انہوں نے جنرل باجوہ کو ٹارگٹ نہیں کیا تھا بلکہ ان کا نشانہ شہباز شریف تھے۔ ایبٹ آباد کے جلسے میں آرمی چیف کو سراج الدولہ کے سپہ سالار میر جعفر سے تشبیہ دینے کے بعد عمران نے اگرچہ خاصی پر زور وضاحت دی ہے کہ انھوں نے دراصل میر جعفر اور میر صادق شہباز شریف اور ان کے بھائی نواز شریف کو کہا ہے لیکن سوشل میڈیا صارفین کے خیال میں یہ ان کا ایک اور ’یو ٹرن‘ ہے۔ عمران کا کہنا تھا کہ فوج پر حملے نواز شریف اور مریم نواز کرتے ہیں اور الزام ہم پر لگائے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان پر فوج کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں وضاحت دیتے ہوئے عمران نے کہا کہ ’میر جعفر اور میر صادق سے متعلق میں نے کوئی نئی بات نہیں کی، شہباز شریف اور اس کا بھائی اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مسلط حکمران اصل میں میر جعفر اور میر صادق ہیں، یہ غدار ملک کو لوٹنے کے لیے آتے ہیں، کرپٹ، چور، غدار ہمارے اوپر بیٹھے ہیں۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کا بڑا بھائی باہر بیٹھ کر فوج کے خلاف بات کرتا ہے، نواز شریف کی بیٹی مریم نواز بھی فوج پر حملہ کرتی ہے مگر کیونکہ وہ خاتون ہے اس لیے اس کو کچھ نہیں کہا جاتا اور یہ ہمیں کہتے ہیں کہ فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ غیر ملکی سازش کے بیانیے کا جب بھی ذکر آتا ہے وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ان کے خلاف پاکستان کے ’میر جعفر اور میر صادق‘ نے امریکہ کا ساتھ دیا اور ان کی حکومت ختم ہوئی۔ ایبٹ آباد کے جلسے میں تو انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ہی جنرل باجوہ کو سراج الدولہ کے غدار سپاہ سالار میر جعفر سے ملا دیا جس کے بعد سخت ردعمل آیا اور قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف فوج کی تضحیک کرنے پر مذمتی قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔

سوشل میڈیا صارفین اور مریم نواز سمیت حکومت میں شامل جماعتوں کے رہنما یہ کہتے نظر آئے کہ چونکہ برصغیر کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق دونوں فوج کے سپہ سالار رہے ہیں اس لیے عمران خان کا اشارہ بھی پاکستانی فوج کے سپہ سالار کی جانب ہے۔عمران خان کا یہ بیان اسی کی وضاحت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسی حوالے سے بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے بھی ٹویٹ کی کہ عمران خان نے میر صادق اور میر جعفر کی تشبیہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے لیے استعمال کی تھی۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران نے ابھی واضح کیا کہ اصل میر جعفر اور میر صادق نواز شریف اور شہباز شریف ہیں، غیرملکی طاقت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کی گئی۔’

اس کے بعد مریم نواز نے ایک بار پھررد عمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اور ایک بار پھر عمران کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’عمران آئین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ خانہ جنگی کو ہوا دے رہا ہے۔ کیا سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھالنے اور ہر آئینی ادارے کو گالی دینے والے شخص کو کھلی چھوٹ ہے کہ افواج پاکستان کو صرف اس لیے تماشہ بنائے کہ وہ آئینی حلف پر قائم ہیں؟ یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے اور اس کے خلاف غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات دینے کی روش نقصان دہ ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘حال ہی میں پاکستان کی مسلح افواج کو ملک میں جاری سیاسی گفتگو میں جان بوجھ کر گھسیٹنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔’
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘کچھ سیاست دانوں، چند صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے عوامی فورمز اور متعدد مواصلات کے ذرائع جن میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے، براہِ راست، بالواسطہ اور حوالہ جات کے ذریعے مسلح افواج اور اس کی سینئر لیڈرشپ کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔’
اعلامیے کے مطابق ‘غیر مصدقہ اشتعال انگیز اور ہتک آمیز بیانات دینے کی روش انتہائی نقصان دہ ہے۔ افواج کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل میں شامل کرنےکی سختی سے مذمت کرتی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ سب قانون کی پاسداری کریں گے اور افواج پاکستان کو ملکی مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں گے۔’

پاکستانی سوشل میڈیا پر عمران خان کے اس بیان پر اور پھر فواد چوہدری کی وضاحت پر لوگ اسے ’بوکھلاہٹ‘ میں کی جانے والی وضاحت قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف میاں محمد عظیم کا کہنا تھا پھر یوٹرن لے لیا ہے۔ ’یار خدا کا واسطہ ہے کیوں ایسے یوٹرن لیتے ہو جس پر لوگ آپ پر ہنسے۔‘
’جیسے ہی خان نے دیکھا حکومت اور ادارے ایک پیج پر آ کر متحد ہو کر رد عمل دے رہے ہیں اور عوام بھی اداروں اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے ویسے ہی ڈرپوک خان نے یوٹرن لے لیا۔‘

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے عمران خان کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ میر صادق اور میر جعفر دراصل ماضی میں فوج کے سپہ سالار رہے ہیں۔ ایک اور صارف نے فواد چوہدری پر طنز کرتے ہوئے کہا ’چوہدری صاحب آج کے بعد اس طرح کی کوئی ڈری سہمی تشریح نہ آئے آپ کی طرف سے سب کو پتا ہے سب بات صاف ہونی چاہیے‘۔جبکہ حسین احمد نے صرف اتنا یاد دلایا کہ ’چوہدری صاحب اب دیر ہو چکی ہے۔‘
تاہم کچھ لوگوں نے پی ٹی آئی کے ’غیر ملکی سازش‘ کے بیانیے کو دہراتے ہوئے کہا ’جب ملک کی سالمیت کا سودا ہوتا ہے جیسا ہوا ہے تو فواد صاحب صرف دو میر جعفر اور میر صادق نہیں ہوتے، بہت سارے ہوتے ہیں تب ہی ایسے منفی عزائم سرانجام پاتے ہیں۔

Back to top button