فیض آباد دھرنا کیس جنرل فیض حمید کے انجام کا نقطہ آغاز قرار

سپریم کورٹ کی جانب سے 4 سال بعد فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت نے ملکی سیاست میں ایم طوفان برپا کر رکھا ہے۔ مبصرین جہاں ایک طرف فیض آباد دھرنا کیس کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے انجام کا نقطہ آغاز قرار دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف بعض تجزیہ کاروں کے مطابق فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا لگتا یہی ہے کہ اس حوالے سے بھی مٹی پاﺅ پالیسی چلے گی۔ تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی پہلی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔ جس میں قرار دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ تمام فریقین کو حقائق سامنے لانے کا ایک اور موقع دے رہی ہے جس کے پاس اس کیس بارے مزید حقائق ہیں انھیں سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے۔سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا ہے کہ دورانِ سماعت کیس سے متعلق 4 سوالات اٹھائے گئے، یہ سوال اٹھایا گیا کہ طویل وقت گزرنے کے باوجود نظرِ ثانی کیس کیوں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوا تھا؟ دوسرا سوال اٹھایا گیا کہ نظرِ ثانی درخواستیں واپس لینے کے لیے ایک ساتھ متعدد متفرق درخواستیں کیوں دائر کی گئیں؟ تیسرا سوال تھا کہ کیا آئینی و قانونی اداروں کا نظرِ ثانی درخواستیں دائر کرنے کا فیصلہ آزادانہ ہے؟ چوتھا سوال یہ تھا کہ کیا فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر عمل درآمد ہو گیا؟ اب دیکھنا ہے کہ کیس کی اگلی سماعت میں کیا حکمنامہ سامنے آتا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے دعوی کیا ہے کہ 2017 کے فیض آباد دھرنے کے معاہدے میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے اصرار کیا تھا کہ ان کے دستخط شامل ہونے چاہییں۔’جنرل فیض نے اصرار کیا کہ اگر انہوں نے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو تحریک لبیک اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گی۔‘

اُس وقت کے وزیر داخلہ احسن قبال نے کہا کہ ’جب یہ معاہدہ ہو رہا تھا تو میں اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ رابطے میں تھا۔ انہوں نے بھی کہا کہ یہ بہتر نہیں لگتا کہ جنرل صاحب بھی اس پر دستخط کریں۔‘’میں نے جنرل صاحب کو کہا کہ یہ ایک سیاسی معاہدہ ہے اور آپ کا دستخط کرنا مناسب نہیں لگے گا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’میری ان کے ساتھ بحث ہوئی اور میں نے کہا کہ یہ آپ کے لیے اور آپ کے ادارے کے لیے بھی مناسب نہیں، لیکن ان کا جواب تھا کہ ٹی ایل پی یہ معاہدہ قبول نہیں کرے گی۔ انہیں میری گارنٹی چاہیے۔‘

احسن اقبال کے اس بیان سے صاف پتا چلتا ہے کہ جنرل فیض حمید سیاست میں کس حد تک ملوث تھے جو نہ ان کے عہدے کا تقاضا تھا اور نہ آئیں اس کی اجازت دیتا ہے۔مبصرین کے مطابق اگر سپریم  کورٹ کے حکم پر عمل ہوتا ہے تو ممکن ہے اس کا آغاز ہی جنرل فیض حمید سے کیا جائے تاکہ بتایا جا سکے کہ فوجی قیادت کسی بھی آئین شکنی کو قطعا قبول نہیں کرے گی۔

دوسری جانب سینئر صحافی احمد ولید کے ایک تجزیے کھ مطابق فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ کے ایسے فیصلوں میں سے ایک ہے جس کے ملک کی عدلیہ اور سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ 2017 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی نئے وزیراعظم بن چکے تھے جب انتخابی قوانین کے بل میں حلف نامے میں تبدیلی کے خلاف تحریک لبیک نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اسلام آباد میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا جو 22 روز تک جاری رہا۔ اس دوران جہاں حکومت خاموش تماشائی بنی رہی وہیں تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تشدد آمیز دھرنے کی کھل کر حمایت کی۔ مختلف نیوز چینلز پر خبروں اور پروگراموں میں اس کی بھرپور تشہیر کی گئی۔ دھرنے کا اختتام وفاقی وزیرقانون کے استعفے اور تحریک لبیک کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر ہوا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس دھرنے کے پیچھے چھپے محرکات پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔ 2 سال تک چلنے والے کیس کے فیصلے نے حکومتی اداروں، ریاستی ایجنسیوں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چارج شیٹ لگا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ فیصلے نے الیکشن کمیشن اور پیمرا کو مزید مضبوط کرنے کی حمایت بھی کردی۔ یہ فیصلہ ملک میں انتہاپسندی کے خلاف ایک بڑا چیلنج بھی ثابت ہوا۔

دوسری طرف اس کیس کے دوران اور فیصلے کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کے خاندان کو اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑا جس میں تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اسی سوشل میڈیا نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ سیرینا عیسیٰ کی کردار کشی اور کرپشن کے الزامات لگائے۔

آج تحریک انصاف ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں وہ اس فیصلے پر عملداری کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکتی تھی۔ جس جماعت نے قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے خلاف اپنے ووٹرز کو اکسایا آج وہی تحریک انصاف مطالبہ کرنے پر مجبور ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد ہو نا چاہیے۔ آج تحریک انصاف اسی اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر ہے جس کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا بگل بجاتی رہی۔وہ تمام ادارے جو فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیلیں دائر کررہے تھے آج وہی اپیلیں واپس لینے کی درخواستیں دائر کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کہتے ہیں، ’اس دھرنے کے بعد ایسے کئی واقعات سامنے آئے۔ اگر اس فیصلے پر عمل ہوتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے‘۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اب اگر چیف جسٹس اس فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے زور نہیں ڈالتے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے، انصاف، احتساب اور عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دوسری صورت میں براہِ راست ٹکراؤ جیسی صورتحال ہوسکتی ہے جو ان حالات میں سازگار نہیں۔

Back to top button