فیض حمید کا بطور کور کمانڈر پشاور کیا ایجنڈا ہوگا؟

https://youtu.be/xOcAz4SDjd0
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کراچی، لاہور یا راولپنڈی کا کور کمانڈر بنانے کی بجائے پشاور تعینات کرنے کی بنیادی وجہ افغانستان کی صورتحال اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے مذاکرات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے دو سال سے زیادہ عرصے تک فرائض سرانجام دینے کے بعد فیض حمید کو خیبر پختونخوا میں آرمی کی واحد الیونتھ کور کی سربراہی سونپی گئی ہے۔ 
پاکستانی فوج میں ہونے والے حالیہ تبادلوں کو معمول کی کارروائی قرار دیا جاتا ہے، تاہم لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پشاور میں تعیناتی پر مختلف فورمز پر بحث ہو رہی ہے۔   
دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ فوج میں ایسے تبادلے اور تعیناتیاں معمول ہیں اور حالیہ تعیناتیاں بھی کوئی ایسی نئی یا انہونی بات نہیں۔  وہ بطور آئی ایس آئی سربراہ اپنی مدت پوری کر چکے تھے اور اب انہوں نے کور ہی کمانڈ کرنا تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی نئی پوسٹنگ کو غیر ضروری طور پر اچھالا جا رہا ہے، حالانکہ ہر آفیسر کی قابلیت کو دیکھ کر تعیناتی کی جاتی ہے اور افغانستان فیض حمید کا خاص سبجیکٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینا ہر فوجی افسر کی خواہش ہوتی ہے کیونکہ اس سے کمانڈ کے تجربے کے علاوہ علاقے سے متعلق معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ 
انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی نئی ذمہ داریوں کو پڑوسی ملک افغانستان، پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور موجودہ آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ کے پیش رو کی تعیناتی سے جوڑتے ہیں۔ دفاعی امور پر لکھنے والے صحافی متین حیدر کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی بطور کور کمانڈر پشاور تعیناتی انہی عوامل کو سامنے رکھ کر کی گئی ہو گی کیونکہ وہ ان شعبوں سے متعلق اٹھنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے اہل افسر ہیں۔ 
’ان کے تجربے اور ان علاقوں اور یہاں کے لوگوں سے متعلق معلومات نے انہیں اس عہدے کے لیے اچھا امیدوار بنایا۔
سینئر صحافی فہد حسین کہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے پاکستان کی افغان پالیسی بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے اس نازک موقع پر ان کو کورکمانڈر پشاور لگا نا سمجھ میں آتا ہے۔
اکثر دفاعی تجزیہ کاروں کی رائے میں ان کی کمانڈر الیونتھ کور کی حیثیت سے تعیناتی کا براہ راست تعلق افغانستان میں ماضی قریب میں ہونے والے اور مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ واقعات سے ہے۔  جنرل (ر) طلعت مسعود کے خیال میں فیض حمید نے دو سالوں کے دوران افغانستان سے جڑے واقعات کو قریب سے دیکھا اور بعض چیزوں میں بذات خود شامل بھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیض افغانستان کے معاملات کو بہت قریب سے دیکھ چکے ہیں اور اس متعلق بہت کچھ جانتے ہیں، اس لیے میرے خیال میں یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے انہیں پشاور بھیجنے کی۔ انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر پشاور افغانستان کے قریب ترین فوجی افسر ہوتا ہے جبکہ الیونتھ کور پاکستان کے نازک ترین علاقوں کو دیکھتی ہے، جس کی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پوری معلومات رکھتے ہیں۔ 
صحافی متین حیدر کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ فیض حمید افغانستان کے حوالے سے کافی تجربہ رکھتے ہیں اور کمانڈر پشاور کور کی حیثیت سے وہ افغان طالبان اور ان کی حکومت کے ساتھ براہ راست رابطوں میں رہیں گے۔  انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید پاکستان اور موجودہ افغانستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تجربہ کار افسر ہیں، اس لیے ان کی پشاور میں تعیناتی کی ایک وجہ افغانستان کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی امور کے استاد پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کے خیال میں فیض حمید کی افغانستان کے معاملات میں شمولیت برقرار رہے گی اور اس بارے میں وہ بہتر مشوری دے سکتے ہیں، جو پاک فوج کے لیے بہت اہم ثابت ہوگا۔  یاد رہے کہ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد فیض نے کابل کا دورہ کیا تھا، جسے چند روز بعد ہی طالبان کی عبوری کابینہ کے اعلان سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔ 
فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور لگانے کی ایک اور بڑی وجہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کی جانب سے شروع کیے جانے والے مذاکرات بھی ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بعض گروہوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، تاہم ٹی ٹی پی نے اس کی تردید کی تھی۔ صحافی متین حیدر کا کہنا تھا کہ بحیثیت کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی ایک ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات پر نظر رکھنا اور یقینی بنانا ہے کہ جنگجو گروہ ہتھیار رکھ کر پر امن زندگی بسر کرنے پر راضی ہو جائیں۔  انہوں نے کہا: ’وہ پاکستان افغانستان سرحد کے دو اطراف علاقوں کی زیادہ معلومات رکھتے ہیں، تو ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف امن اور استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘ 
متین حیدر کا کہنا تھا کہ انہیں پشاور بھیجنے کی ایک بڑی وجہ ان کا کاؤنٹر ٹیررازم میں تجربہ ہے، جس سے پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ 
دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل فیض کو پشاور بھیجنے کے فیصلے کے پیچھے ایک وجہ مستقبل میں انہیں فوج کا نیا سربراہ بنانا ہو سکتا ہے۔ متین حیدر کا کہنا تھا کہ فیض حمید سول اور ملٹری لیڈرشپ کے ’پسندیدہ‘ ہیں اور انہیں کور کمانڈر الیونتھ کور اسی لیے بنایا گیا کہ ان کے آرمی چیف بننے میں یہ آخری رکاوٹ بھی دور ہو جائے۔ انکا خیال ہے کہ فیض حمید نومبر 2022 تک کور کمانڈر الیونتھ کور کی حیثیت سے کام کر کے آرمی چیف کے عہدے کے لیے پوری طرح اہل ہو جائیں گے۔

Back to top button