فیض کی موجودگی کے باوجود PTI کو شکست کیوں ہوئی؟


خیبر پختونخوا میں فیض حمید کی موجودگی کے باوجود صاف شفاف بلدیاتی الیکشن کے انعقاد اور پھر تحریک انصاف کی بدترین شکست سے یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ اب عمران خان کے سر سے ہاتھ اٹھا رہی یے اور اسی لئے نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان دوبارہ فارم میں آرہے ہیں۔
سنیئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ کپتان اینڈ کمپنی کو خیبرپختونخوا ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ اگرچہ اس کی شکست وجوہات تلاش کی جا رہی ہیں، توجیہات پیش کی جا رہی ہیں، عمران خان مختلف اقدامات کر رہے ہیں، کبھی مہنگائی کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے، تو کبھی ٹکٹوں کی تقسیم کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ کوئی وزیراعلیٰ پر گرم ہے، تو کوئی گورنر اور سپیکر پر برس رہا ہے۔ ہر ایک کی انگلی دوسرے پر اٹھ رہی ہے لیکن جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔ اِدھر اُدھر، جو پیغام جانا تھا وہ جا چکا۔ یعنی کپتان سے کہہ دیا گیا ہے کہ دی گیم از اوور فار یو۔
مجیب شامی بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین وزیراعظم عمران خان کو خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات مہنگے پڑ گئے ہیں۔ یہ صوبہ ان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، تاریخ میں پہلی بار انہوں نے صوبائی اسمبلی کے یکے بعد دیگرے دو انتخابات جیتے تھے۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر اکثریت حاصل کی گئی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کا اُس وقت بھی یہ کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا راستہ روکا جائے۔ مسلم لیگ(ن) جو وفاقی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر چکی تھی، ان کا ساتھ دے تو وہ آزاد امیدواروں کو اپنی جانب مائل کر سکتے ہیں، لیکن نواز شریف اس پر راضی نہیں ہوئے۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔ تب یہ سوچا گیا کہ اگر خیبرپختونخوا میں عمرانی حکومت قائم ہو جائے گی تو پارلیمانی سیاست مضبوط ہو گی۔ صوبائی حکومتیں پرفارمنس کے میدان میں بازو آزمائیں گی، اور ایجی ٹیشنل پالیٹکس کمزور ہو جائے گی۔ سو مسلم لیگ میدان میں نہیں اتری، مولانا صاحب اپنا سا منہ لے کررہ گئے، اور پرویز خٹک نے وزارت اعلی کی ذمہ داری سنبھال کر اپنا اور اپنے قائد کا ڈنکا بجانا شروع کر دیا۔ 2018 کے عام انتخابات میں حکومت سازی کے وقت عمران خان نے پرویز خٹک کو دوسری بار وزیراعلی بنانے کی بجائے وزیر دفاع لگا کر سرد خانے میں ڈال دیا اور صوبہ اپنے من پسند وزیر اعلیٰ محمود خان کے سپرد کر دیا۔
شامی بتاتے ہیں کہ 2018ء میں پی ٹی آئی نہ صرف وفاقی سطح پر سب سے بڑی پارٹی بنی، بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی صوبائی اسمبلی کی کم و بیش دو تہائی نشستوں پر کامیاب ہو گئی۔ شامی کے بقول ہمارے پشتون بھائی ایک حکومت کو دو بار منتخب نہیں کرتے یا کوئی حکومت ان کی توقعات پر پورا اتر نہیں پاتی، لیکن پی ٹی آئی کے معاملے میں نئی تاریخ رقم ہو گئی۔ پی ٹی آئی آگے بڑھتی گئی لیکن صوبے کے نئے خان نے اسے ہاتھ کی چھڑی یا جیب کی گھڑی سمجھ لیا۔ دور و نزدیک بھی یہی سمجھا جانے لگا کہ کوئی دوسرا یہ قلعہ سر نہیں کر سکے گا۔ یہاں تاحیات عمرانی پرچم لہراتا رہے گا…لیکن دسمبر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات نے نقشہ یکسر پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات نے تحریک انصاف کے چھکے چھڑا دیئے ہیں اور لگتا ہے کہ اب پی ٹی آئی اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ مجیب الرحمن شامی کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تحصیل اور سٹی کونسل کے سربراہ کا انتخاب براہِ راست منعقد ہوا، رائے دہندگان نے جماعتی بنیادوں پر ووٹ دیے لیکن تحریک انصاف سے جمعیت العلمائے اسلام آگے نکل گئی ہے۔ تحریک کے ووٹ اس کو نشستوں میں برتری نہیں دِلا سکے۔ شہروں میں بھی مات ہو گئی، اور تحصیلوں میں بھی وہ پیچھے رہ گئی۔ پی ٹی آئی نے ووٹ تو 24 فیصد لے لئے ہیں، مولانا سے ایک فیصد زائد، لیکن نشستیں کم ہاتھ آئی ہیں، اور یوں اس کا بلاشرکت غیرے حکمرانی کا دعویٰ بھی بکھر گیا ہے۔
مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ اب عمران کو خیبرپختونخوا ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے اور اس کی وجوہات تلاش کی جا رہی ہیں، توجیہات پیش کی جا رہی ہیں، عمران خان مختلف اقدامات کر رہے ہیں، کبھی مہنگائی کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے، تو کبھی ٹکٹوں کی تقسیم کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ کوئی وزیراعلیٰ پر گرم ہے، تو کوئی گورنر اور سپیکر پر برس رہا ہے۔ ہر ایک کی انگلی دوسرے پر اٹھ رہی ہے لیکن جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔ اِدھر اُدھر، جو پیغام جانا تھا وہ جا چکا۔ پارٹی میں کھلبلی مچی ہے تو مخالف حوصلہ پکڑ رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے، تو زرداری صاحب بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کے تیور بگڑ گئے ہیں۔ نواز شریف کی واپسی کی خبریں گرم ہیں۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق مسکرا مسکرا کر کہہ رہے ہیں، کچھ ہونے والا ہے۔ انہوں نے پراسرار انداز میں کہا وہ لندن میں نواز شریف سے مل کر آئے ہیں، ایک بار پھر ملاقات کے لئے جانے والے ہیں۔ ان کے معنی خیز اشارے خان صاحب کو ڈرا رہے تھے کہ تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں…… ادھر پی ٹی آئی کے ترجمانوں کو جناب چیئرمین ہدایت کر رہے ہیں، نواز شریف پر ٹوٹ پڑو، کرپشن کی کہانیاں عام کرو، ان پر زور دو، نواز شریف سزا یافتہ ہے، وہ کیسے اقتدار میں واپس آ سکتا ہے؟ سیاسی پنڈت زائچے بنا رہے ہیں، ایاز صادق لیکن اپنے الفاظ پر قائم ہیں۔ یعنی کچھ ہونے والا ہے ۔۔۔

Back to top button