فیورٹ ہونے کے باوجود شہباز اقتدار کیوں نہیں لے پا رہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں شہباز شریف اقتدار کی کرسی پر براجمان کیے جانے کے لیے فیورٹ ترین امیدوار ہیں لیکن ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے بڑے بھائی نواز شریف ہیں۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ سوچ اور بیانیے کے اختلاف کے باوجود شہباز شریف اہنے بھائی سے بے وفائی کرنے کو تیار نہیں۔ یہ بات انہوں نے ماضی میں بھی کئی مرتبہ قول و عمل سے ثابت کی ہے اور اب بھی اسی جگہ کھڑے ہیں۔ ہاں البتہ وہ منت ترلہ کرکے اپنے بھائی اور بھتیجی کو اپنا بیانیہ بدلنے پر آمادہ کرنے کے لئے ہمہ وقت محنت کرتے رہتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور بھتیجی کو بیانیہ اور حکمت عملی بدلنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں؟ اگر شہباز ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے تو عمران خان کا کھیل ختم اور اگر وہ ناکام ہوئے تو نہ صرف کپتان کا کھیل کامیابی سے جاری رہے گا بلکہ نواز شریف کےساتھ شہباز شریف بھی رگڑے جائیں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ نواز شریف کی نسبت میاں شہباز شریف زیادہ مطالعہ کرتے ہیں، جتنے نواز شریف لوگوں سے رابطہ رکھنے میں کمزور ہیں،شہباز اتنے ہی اچھے کمیونیکیٹر ہیں۔ ان تک رسائی آسان ہوتی ہے اور وہ بھی لوگوں تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس میں بھی دو رائے نہیں کہ لیگی ووٹرز کے جذبات کا محور اور مرکز شہباز شریف نہیں بلکہ نواز شریف اور مریم نواز ہیں۔مخالفین کی نفرت کا نشانہ ہیں تو بھی نواز شریف ہیں اور مسلم لیگ کے حامیوں کی محبتوں اور جذبات کا محور ہیں تو بھی نواز شریف جبکہ نواز شریف کے بعد یہ دونوں حیثیتیں مریم نواز کو مل رہی ہیں۔ 
سلیم صافی کے مطابق پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ سیاست میں مداخلت کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اس وقت پاکستان کا پاپولر بیانیہ ہے ۔ جو بندہ اس کو اپناتا ہے، عوام کی صفوں میں اس کا گراف اوپر جاتا ہے اور جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑا یا پھر اس کا مہرہ بنا نظر آتا ہے، اسے اقتدار تو مل جاتا ہے مگر وی صرف انٹیلی جینشیا ہی میں نہیں بلکہ عوام میں بھی غیرمقبول ہو جاتا ہے ۔اب چونکہ ایک عرصہ سے نواز شریف اور مریم نواز شریف اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی علامت بنے ہوئے ہیں، اس لئے ان کی عوامی مقبولیت بھی بڑھی ہے۔ دوسری جانب شہباز شریف قول اور عمل دونوں حوالوں سے اس بیانیے کی مخالف سمت میں چلتے نظر آتے ہیں، یوں بھی وہ اپنے بھائی اور بھتیجی کے مقابلے میں غیر مقبول ہیں بلکہ اس بنیاد پر ان کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ لیکن ان سب حقائق کے باوجود اس وقت عمران خان اگر پاکستان میں کسی ایک سیاسی لیڈر سے زیادہ گھبرائے ہوئے ہیں تو وہ شہباز شریف ہی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی حکومت اور پارٹی کا نمبرون نشانہ بھی اس وقت شہباز شریف ہیں۔
سلیم صافی کے مطابق وجہ صاف ظاہر ہے۔ وہ اپنے اقتدار کے لئے نہ تو نواز شریف کو خطرہ سمجھتے ہیں، نہ مولانا فضل الرحمٰن کو اور نہ ہی آصف زرداری کو۔ اب تک خان صاحب کو یہ زعم تھا کہ ان کا کوئی متبادل نہیں لیکن اب وہ سمجھ گئے ہیں کہ شہباز شریف ان کا متبادل ہیں۔ عمران خان جانتے ہیں کہ وہ اقتدار تک فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں کے سہارے پہنچے ہیں۔ ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ زرداری دور میں جب اسٹیبلشمینٹ پیپلز پارٹی سے جان چھڑانے لگی اور نواز شریف پہلے سے ہی اسکے مخالف چل رہی تھی تو فوجی قیادت کی لاٹری نکل آئی۔ چنانچہ عمران نے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی چاکری شروع کردی اور ہر معاملے میں اس کا وکیل اور مہرہ بننے کو تیار ہوگے۔ بالآخر اس نوکری کے صلے میں 2018 میں خان صاحب کو وزارتِ عظمیٰ سے نواز دیا گیا۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ عمران خان نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی پر نہ صرف سکھی رہتے ہیں بلکہ دن رات اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ان کے سیاسی حریف اور بالخصوص نون لیگ اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ حالت جنگ میں رہے۔ 
چنانچہ اگر کسی فریق کی طرف سے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش ہوتی ہے تو وہ اسے سبوتاژ کرتے ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال آرمی چیف کی ایکسٹنشن کا معاملہ ہے ۔شہباز شریف کی کوششوں سے نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر اپنے لوگوں سے ان کی حمایت میں ووٹ ڈلوایا لیکن اگلے روز انہوں نے فیصل واوڈا کو بوٹ تھما کر ٹی وی ٹاک شو میں بھیج دیا تاکہ غیرت دلا کر نون لیگ کو دوبارہ لڑایا جائے اور ماشااللہ چند ہی روز بعد دونوں فریقوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کے خلاف جنگ گرم کردی۔ صافی کے مطابق اِس میں مگر شبہ نہیں کہ اسٹیبلشمینٹ کسی بھی وقت یہ سوچ سکتی ہے کہ ایک ایسے سیٹ اپ کی بجائے، جو ملک چلانے کی اہلیت سے عاری ہے، کیوں نہ شہباز شریف کو آگے لایا جائے جو نہ صرف انتظامی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ عمران خان کی طرح ان کے لئے دردسر بھی نہیں بنیں گے ۔ انہیں یہ بھی خوف لاحق ہے کہ جیل سے باہر رہ کر وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اپنے بڑے بھائی کے درمیان پل بن سکتے ہیں اور جس دن شہباز شریف اپنے بھائی اور بھتیجی کو پیچھے ہٹ جانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس دن خان صاحب سے جان چھڑانے کا عمل شروع ہوجائے گا۔
صافی کہتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کا نمبرون مسئلہ معیشت کی تباہی اور بیڈگورننس ہے جس پر قابو پانے کے لئے مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھنے والے منتظم کی ضرورت ہے اور عمران خان بھی سمجھتے ہیں کہ یہ ضرورت اگر اس وقت کوئی پوری کرسکتا ہے تو وہ بھی شہباز شریف ہیں۔
تیسرا بڑا عامل پاکستان کے دوست ممالک میں شہباز کی پسندیدگی ہے۔کسی اور کو نہیں تو کپتان کو اچھی طرح علم ہے کہ ان کی حکومت سے چین جیسا دوست سخت نالاں ہے ۔ سی پیک کا جو حشر ان کی حکومت میں کیا گیا اس کی وجہ سے چینی قیادت شدید دکھی ہے جبکہ دوسری طرف وہ شہباز شریف کو پسند کرتی ہے۔ چینی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ ناراضی کی صورت میں چھوٹے ممالک کی طرح پاکستان جیسے دوستوں سے متعلق ردعمل ظاہر کرتے ہیں لیکن جیل سے رہائی کے فورا بعد چینی سفیر کی طرف سے شہباز کا کھانا کرنا اور پھر چین کے دورے کی دعوت دینا چینی سفارتخانے کے غیر روایتی اور غیرمعمولی رویے کا اظہار یے۔ ایسا کر کے یہ پیغام دیا گیا کہ شہباز شریف آج بھی ان کے فیورٹ ہیں۔ لیکن سب کے فیورٹ شہباز شریف کے اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے بڑے بھائی نواز شریف ہیں۔

Back to top button