فیٹف ٹیم کے معائنہ کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا

وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ٹیم کے معائنہ کے بعد امید ہے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔
دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے ملک میں اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق حکمت عملی کو عالمی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کے تحت مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے اس مثبت راستے کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے،مجھے یقین ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے یہ اچھی خبر پاکستان کی معیشت میں اعتماد بحال کرے گی اور پائیدار ترقی کو راغب کرے گی۔
بیان میں وزیر خارجہ نے حکومت کے اے ایم ایل/سی ایف ٹی نظام کو عالمی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے عزم کا اعادہ کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا پاکستان ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ملک کے دورے اور گرے لسٹ سے اخراج کا باعث بننے کی کامیاب پیش رفت اور اس کی جلد تکمیل کا منتظر ہے۔
وزیر خارجہ نےایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کے 2018 اور 2021 کے ایکشن پلان کی تکمیل کے متفقہ اعتراف کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کی ایف اے ٹی ایف ٹیم کی سخت محنت اور کاوشوں کو سراہا، جس کی وجہ سے دونوں ایکشن پلانز کی تمام تکنیکی ضروریات کی کامیابی سے تکمیل ہوئی، یہ مشترکہ قومی کوششوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کی مکمل ہم آہنگی کا نتیجہ ہے، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کا دورہ کرنے کا اعلان ایک خوش آئند پیشرفت ہے، یہ پاکستان کی جانب سے اپنے اے ایم ایل/سی ایف ٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قابلِ ذکر پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جرمنی کے شہر برلن میں ہونے والے 4 روزہ اجلاس کے اختتام پر کہا تھا کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلانز کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے صدر مارکس پلیئر نے 4 روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں، تاہم پاکستان کو آج گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہے، ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد از جلد پاکستان کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا۔
انکا کہنا تھاپاکستان کی جانب سے کی گئیں اصلاحات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اچھا ہے،پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ پر مؤثر طریقے سے قابو پالیا ہے۔
یاد رہے کہ روز وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی کہا تھا کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تمام ایکشن پلانز پر عمل درآمد کیا اور ملک گرے لسٹ سے باہر نکلنے سے ایک قدم دور ہے، حکومت ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول پر کام کر رہی ہے، دورے کی تاریخ مشترکہ گفتگو کے بعد طے کی جائے گی۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کیے گئے دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنما اور کمانڈرز کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے ساتھ منی لانڈرنگ کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اگلے مرحلے میں پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ سے نکالنے سے قبل ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کے منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے اقدامات کے نفاذ اور پائیداری کی تصدیق کے لیے ملک کا دورہ کیا جائے گا۔
