قذافی کے بیٹے کی صدر بننے کی امید خاک میں مل گئی
لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کی دسمبر میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ لے کر اقتدار حاصل کرنے کی امیدیں تب دم توڑ گئی جب ملک کی ہائی نیشنل الیکشنز کمیٹی نے انہیں بطور امیدوار نا اہل قرار دیتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے۔
سیف الاسلام قذافی کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق تو دیا گیا ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیبیا میں ہائی نیشنل ایکشنز کمیٹی کا فیصلہ ایک طرح سے حتمی تصور کیا جاتا ہے، لہذا قذافی کے بیٹے کا سیاسی کیریئر اگلے پانچ سال کے لیے ختم نظر آتا ہے۔ الیکشنز کمیٹی کی جانب سے جن امیدواروں کو نا اہل قرار دے کرکٹ ان پر پابندی لگائی گئی ہے ان کی فہرست جاری کردی گئی ہے جس میں سیف الاسلام کا نام سر فہرست ہے۔
کمیٹی نے اس سزا کی وجہ قذافی کے بیٹے کے خلاف اس عدالتی فیصلے کو قرار دیا یے جسکے نتیجے میں وہ سات برس قید میں رہے۔ البتہ انہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں۔یاد رہے کہ 2015 میں لیبیا کی عدالت نے سیف الاسلام قذافی کو سزائے موت سنائی تھی، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے والد کی معزولی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر تشدد کا حکم دیا تھا، لیکن اس عدالتی فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔
2011 میں قذافی کے خلاف شروع ہونے والی ملک گیر احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب کے الزامات پر سیف عالمی فوجداری عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا میں جمہوریت کے فروغ کی کوششوں اور جنگ کے خاتمے کے بعد لیبیا میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا انعقاد 24 دسمبر کو ہو گا۔
لیکن الیکشن پر چھائے ابہام میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب لیبیا میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا، البتہ ان کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کے دوران ان کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ رک سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ کرنل قذافی کی اقتدار سے برطرفی اور ان کے قتل کے بعد گزشتہ دہائی کے دوران لیبیا میں دو مخالف حکتوں کے درمیان مستقل تناؤ جاری رہا ہے اور ملک میں خانہ جنگی رہی۔ اس خانہ جنگی کو ترکی، روس اور شام جیسی غیرملکی طاقتوں کے ساتھ ساتھ علاقائی طاقتوں کی مدد بھی حاصل رہی۔ کرنل قذافی کے بیٹے نے 14 نومبر کو تریپولی سے 650 کلومیٹر دور صبہا کے علاقے میں صدارتی الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور یہ پہلا موقع تھا کہ 49 سالہ رہنما عوامی سطح پر سامنے آئے تھے۔
لندن اسکول آف اکنامکس سے پی ایچ ڈی کرنے والے سیف الاسلام کو 2011 کے اواخر میں قذافی کے خلاف تحریک چلانے والوں نے گرفتار کر لیا تھا۔ اس تحریک کو نیٹو کی حمایت حاصل تھی جسکے نتیجے میں معمر قذافی کے 40 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ اسی سال ہی ملک میں جاری لڑائیوں کے دوران کرنل قذافی مارے گئے تھے۔ لیکن یہ لڑائی بعدازاں خانہ جنگی کی شکل اختیار کر گئی تھی۔
اس دوران سیف الاسلام چھ سال قید میں رہے جس کے بعد جون 2017 میں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے ملک چھوڑنے کی بجائے لیبیا میں ہی رہ کر سیاست کرنے کا فیصلہ کیا۔
