قرضے کے عوض IMF نے پاکستان سے سب کچھ لکھوا لیا

اس وقت برطانیہ کے دورے میں مصروف گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی جانب سے کپتان حکومت کے خلاف گفتگو کا سلسلہ جاری ہے اور اب انہوں نے یہ بیان داغ دیا ہے کہ آئی ایم ایف نے 6 ملین ڈالر قرض کے بدلے حکومت پاکستان سے سب کچھ لکھوا لیا ہے۔
لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر محمد سرور نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں جب کوئی حکومتی عہدیدار سچ بولتا ہے اور بڑوں کی کسی پالیسی سے اختلاف کرتا ہے تو الزام لگا دیا جاتا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف ہو گیا ہے حالانکہ مثبت تنقید تو حکومت کے مفاد میں کی جا رہی ہوتی ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں اگر آپ اپنی پارٹی قیادت سے کسی معاملے پر متفق نہ ہوں تو آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں انکی پارٹی کی جانب سے گورنر پنجاب کا عہدہ چھوڑنے کا کوئی پیغام نہیں دیا گیا۔ اپنی ایک حالیہ تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے چوہدری محمد سرور نے کہا کہ انہیں تحریک انصاف میں سائیڈ لائن کیے جانے کا تاثر درست نہیں ہے۔ دوسری جانب یہ ایک حقیقت ہے کہ گورنر پنجاب نجی محفلوں میں گزشتہ تین برس سے یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ عمران خان نے انہیں تحریک انصاف کا حصہ بنانے کے بعد پنجاب میں جو عہدہ دیا وہ ایک ڈمی پوزیشن ہے حالانکہ وہ کوئی سیاسی عہدہ چاہتے تھے تاکہ عوام کی صحیح طرح خدمت کر سکیں۔
چند روز پہلے بھی لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے اپنے انہی تحفظات کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں گورنر بننے کی خواہش نہیں تھی لیکن پارٹی نے رسمی عہدہ دے کر انہیں سائیڈ لائن کردیا۔ انکا کہنا تھا کہ اگر مجھے کوئی کام کا عہدہ دیا جاتا تو میں حیران طرح ڈلیور کر سکتا تھا۔ انکی اس گفتگو کے بعد پاکستان میں چوہدری سرور کے قریبی رفقاء کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کا ذہن بنا چکے ہیں اور اب صرف مناسب موقع کی تلاش میں ہیں کیونکہ انہیں بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ حکومت کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔
لندن میں تقریب کے دوران لوگوں نے گورنر پنجاب سے سوال کیا کہ آپ دو روز پہلے تو کچھ اور بات کر رہے تھے اور آج کچھ اور بول رہے ہیں۔ تاہم اس موقع پر موجود پی ٹی آئی سے وابستہ عمران خان کے فنانسر اور معروف بزنس مین انیل مسرت نے کہا کہ پارٹی میں اختلاف رائے اور ناراضی ہو جاتی ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ کوئی اپنی جماعت چھوڑنے پر تیار ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای نے وسیم اکرم کو بڑی سہولت سے نواز دیا
یاد رہے کہ دو روز پہلے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے اعتراف کیا تھا کہ حکومت پاکستانی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی گورنر بننے کی خواہش نہیں تھی لیکن پارٹی نے رسمی عہدہ دے کر انہیں سائیڈ لائن کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی کام کا عہدہ دیا جاتا تو وہ ڈلیور کر سکتے تھے لیکن وہ اب بھی اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چوہدری سرور نے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ 13 اگست 2021ء کو انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھنے کے لیے پاکستان نہیں آیا، آئندہ انتخابات میں حصہ لوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ میں پاکستان آرام اور آسائش کی زندگی گزارنے نہیں آیا تھا۔ میرا مقصد تھا کہ ملک کے غریب عوام کی حالت بہتر کر سکوں اور ملک میں قانون کی بالادستی قائم کر سکوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش تھی کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں ویسے ہی چلیں جیسے یورپ میں جمہوری طریقے سے چلتی ہیں۔ لہذا میں اس مقصد کے حصول کی خاطر یقینی طور پر اگلے انتخابات میں حصہ لوں گا۔
