آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کا مؤقف درست قرار

سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی صدارتی ریفرنس پر دی گئی آئینی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست ثابت کردیا، عدالت نے قراردیا کہ مہاجر نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کےلیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46-A کےتحت یہ صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کو ارسال کیاگیا تھا،جس پر عدالت نے جامع آئینی تشریح جاری کی۔
سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قراردیا ہےکہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی بھی انتظامی فیصلے کےذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت عظمیٰ نے واضح کیاکہ ان نشستوں کی قانونی و تاریخی بنیاد 1960، 1964 اور 1970 کے قوانین،عبوری آئینی انتظامات، 1974 کے آئین اور 1975 کے ایکٹ سے جڑی ہوئی ہے۔مہاجر نشستوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کےلیے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے،جس کےلیے عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مکمل آئینی طریقہ کار کی پیروی ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں یہ بھی واضح کیاکہ آزادکشمیر میں فیصلہ کن قوت سڑکوں پر ہونےوالا احتجاج نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہے۔
عدالت نے حکومت کے اس مؤقف کی بھی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی نوعیت کے معاملات منتخب اسمبلی کے دائرہ اختیار میں رکھےجائیں۔
سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے کہا کہ آرٹیکل 22(4) کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہےاور کسی بھی قسم کا احتجاج یا سیاسی تنازع اس آئینی عمل میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
عدالت نے آرٹیکل 22(3) اور 22(4) کی تشریح کرتےہوئے اسمبلی کے اختیارات اور مدت کو بھی واضح کیا۔
سپریم کورٹ نے قراردیا کہ انتخابات کےانعقاد اور امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے واضح کیاکہ پُر امن احتجاج آئینی حق ہے،تاہم سڑکوں کی بندش،دباؤ ڈالنا یا معمولات زندگی میں خلل ڈالنا آئینی تحفظ کے زمرے میں نہیں آتا۔
عدالتی رائے میں مزید کہاگیا کہ کسی ایک فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جب کہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی کو ہرصورت برقرار رکھنے کی پابند ہے۔
ماہرین کےمطابق اس عدالتی رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں میں مداخلت کرنےوالوں کےخلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کو مزید مضبوط کردیا ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہےکہ آئینی تبدیلی کا راستہ اسمبلی اور ووٹ ہے،نہ کہ دباؤ یا محاذ آرائی۔
آزاد کشمیر کسی افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا : وزیراعظم آزاد کشمیر
تجزیہ کاروں کےمطابق باقی ماندہ دو اہم مطالبات پر حکومت کا مؤقف بھی آئینی طور پر درست ثابت ہوا ہے،جب کہ آئینی مسائل کا حل صرف طےشدہ قانونی اور پارلیمانی طریقۂ کار سے ہی ممکن ہے۔سپریم کورٹ کی اس رائے نے آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی اور ریاستی امن و استحکام کے مؤقف کو مزید تقویت دی ہے،جو مستقبل میں آئینی و سیاسی تنازعات کے حل کےلیے ایک اہم نظیر ثابت ہوسکتی ہے۔
