قوت مدافعت کو قدرتی طور پر بڑھانے کیلئے مفید غذائیں

انسانی اپنی قوت مدافعت کو روز مرہ استعمال کی سبزیوں اور کھانوں سے بھی بڑھا سکتا ہے جیسا کہ مچھلی، دہی، سیب کا سرکہ، اسی طرح دیگر اشیا اس سلسلے میں بڑی مفید ثابت ہوتی ہیں۔

مدافعتی نظام غذاؤں کے ذریعے مضبوط بنایا جاسکتا ہے، طبی ماہرین چند درج ذیل غذاؤں کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں۔ قوت مدافعت بڑھانے کے لیے وٹامن سی لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ وٹامن سی ایک اہم فزیالوجیکل اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کولاجن فائبر اور نیورو ٹرانسمیٹر کے بننے اور پروٹین میٹا بولزم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کھٹے یا ترش پھلوں میں وٹامن سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ تاہم اس کی کمی زخموں کے بھرنے کا عمل سست کردیتی ہے اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے جسمانی مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، ایک مطالعہ کے نتائج میں بتایا گیا کہ غذا میں ذائقے دار ترش پھل جیسے کہ سنگترہ، لیموں، چکوترا اور موسمبی وغیرہ کو شامل کرنا صحت مند رہنے کے لیے مفید ہوتا ہے۔

بیش بہا فوائد کے حامل اس پھل میں تین طرح کی قدرتی شکر (سکروز، فروکٹوز اور گلوکوز) پائی جاتی ہے، اس میں موجود فائبر فوری توانائی پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ کیلے میں وٹامن بی اور سی کی زیادہ تر اقسام پائی جاتی ہیں۔

ایک کیلے میں سیب کی نسبت 4گنا زیادہ پروٹین ،دوگنا زیادہ کاربوہائیڈریٹس، تین گنا زیادہ فاسفورس ، پانچ گنا زیادہ وٹامن A اور آئرن اور دوگنا زیادہ دوسرے وٹامنز اور معدنیات شامل ہوتے ہیں، اس کا ملک شیک جسم کی قوت مدافعت بڑھانے کے علاوہ اعصابی نظام کی بہتری میں مدد کرتا ہے۔

سیب کا سرکہ غذائیت سے بھرپور اور اینٹی مائیکروبیل خصوصیات سے مالا مال ہوتاہے۔ یہ جسم کوانفیکشن سے پاک رکھنے اور قوت مدافعت میں فوری اضافے کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے، سیب میں پایا جانے والا جزو’پیکٹن‘ جب ہضم ہوجاتا ہے تو جسم میں اچھے بیکٹیریا میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس طرح اینٹی باڈیز اور سفید خلیات کی پیداوار بڑھ جاتی ہے، جوبیماریوں کے خلاف لڑتے ہیں۔

مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں وٹامن ڈی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی مدد سے مختلف جراثیم کو مارنے والے سیلز پیدا ہوتے ہیں، وٹامن ڈی کی کمی سے جسم انفیکشن کا شکار ہوتا ہے۔ اپنی خوراک میں وٹامن ڈی سے بھر پور اشیا شامل کریں جیسے کہ مچھلی، پنیر، انڈے کی زردی اور کچھ مشرومز وغیرہ، اس کے علاوہ، سورج کی روشنی بھی وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ادرک میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس انسانی جسم میں قوت مدافعت کو بہتر اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس میں پایا جانے والا ’جنجرولز‘ نامی مادہ اگر چہ ترش ذائقے کا باعث بنتا ہے لیکن یہی ادرک کے طبی فوائد کی وجہ بھی ہے، انہی طبی فوائد کے باعث ادرک کو روایتی اور غیر روایتی طریقہ ہائے علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بہترین فوائد کے حصول کے لئے خشک کے بجائے تازہ ادرک استعمال کیا جانا چاہیے، لہسن بھی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اسے خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط اور جسم بیماریوں سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، لہسن ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے۔ اس کا استعمال خون پتلا کرنے کے ساتھ ساتھ دوران خون بھی تیز کرتا ہے۔

ہلد ی ایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے، جو کئی طرح سے انسانی جسم کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کا استعمال برسوں سےطب میں اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات کے باعث ہلدی صحت کے بہت سے مسائل فوری طورپرحل کرتی اور کینسر سے محفوظ رکھتی ہے، دہی ڈیری پراڈکٹس میں سپر ہیرو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف قوت مدافعت بڑھانے اور بیماریوں سے لڑنے کا ذریعہ ہے بلکہ اسے وٹامن ڈی اورجسم کی قدرتی حفاظت کا خزانہ بھی قرار دیا جاتا ہے، دہی میں مختلف پھل شامل کرکے اس کی افادیت میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ دہی میں کیلشیم ، پروٹین اور پروبائیوٹک کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

اس میں پائے جانے والے پروبائیوٹک (مفید بیکٹیریا) ناصرف نظام انہضام کو بہتر کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتے ہیں، مضبوط مدافعتی نظام کے لیے زیتون کا تیل بہترین ہے۔ اس میں اومیگا 6 عنصر پایا جاتا ہے، جو جسم کو کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے سے روکتا ہے۔ زیتون کا تیل اینٹی آکسیڈنٹ ہونے کے سبب زہریلے مادوں، انفیکشن اور دیگر جراثیم کو حملہ آور ہونے سے روکتا ہے۔

سبز چائے کا استعمال جوڑوں کے درد،دل کی بیماریوں اور الزائمر جیسی موذی بیماریوں کے حملے کو کم کرتا ہے۔ اس سے ذہنی سکون بھی حاصل ہوتا ہے یہی نہیں سبز چائے میں پولی فینالک کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے، جو سرطان جیسی موذی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔

پالک وٹامن سی ،اے، بیٹا کیروٹین اور دیگر اہم غذائی اجزاء پر مشتمل ہونے کے باعث مختلف انفیکشن سے لڑنے میں مدافعتی نظام کی مدد کرتا ہے تاہم پالک استعمال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اسے زیادہ دیر نہ پکایا جائے کیونکہ کم پکانے کے باعث اس کی غذائی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔

Back to top button